5

ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی توجیہہ کے لیے نیا مفروضہ پیش کر دیا گیا

ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی توجیہہ کے لیے نیا مفروضہ پیش کر دیا گیا

ماہرینِ طبیعات نے آج سے تقریباً سو سال پہلے یہ دریافت کر لیا تھا کہ کہکشاؤں کی مداری گردش کی رفتار اس رفتار سے کہیں زیادہ ہے جو ان میں موجود ستاروں کے ماس کی وجہ سے ہونی چاہیے تھی- کہکشاؤں کے ستاروں کی مداری گردش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں کے علاوہ بھی کہکشاؤں میں بہت سا ماس موجود ہے جس کی وجہ سے کہکشاں کی مداری حرکت کی رفتار اس رفتار سے کہیں زیادہ ہے جو محض ستاروں کے ماس کی وجہ سے ہونی چاہیے تھی- اس غیرمرئی مادے کو سائنس دانوں نے ڈارک میٹر کا نام دے رکھا ہے- اگرچہ ثقلی عدسوں یعنی gravitational lensing (جس کی بدولت نزدیکی کہکشاؤں دور کی کہکشاؤں کے لیے دوربین کا کام کرتی ہیں) کے مظہر سے بھی ڈارک میٹر کی موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے لیکن ابھی تک نہ تو ہم ڈارک میٹر کو براہِ راست ڈیٹیکٹ کر پائے ہیں اور نہ ہی کوئی تھیوریٹیکل ماڈل موجود ہے جو ڈار میٹر کی موجودگی کی پیش گوئی کرے-

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں ہم نے یہ دریافت کیا کہ کائنات کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں کوئی ایسی توانائی موجود ہے جو دور دراز کی کہکشاؤں کو ایک دوسرے سے پرے دھکیل رہی ہے- اس توانائی کے بارے میں بھی ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ یہ کیا ہے اور کیوں موجود ہے- اس توانائی کو سائنس دانوں نے ڈارک انرجی کا نام دے رکھا ہے-

اب آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک نیا مفروضہ پیش کیا ہے جو بیک وقت ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی وضاحت کر سکتا ہے- ان کا کہنا کے کہ ممکن ہے کہ کائنات میں ہر جگہ ایسا مائع یعنی fluid موجود ہے جس کا ماس منفی ہے یعنی اسے جب دھکیلا جائے تو یہ دور جانے کے بجائے نزدیک آتا ہے اور اگر اسے کھینچا جائے تو یہ دور جاتا ہے- کمپیوٹر سیمولیشنز میں اگر اس مائع کو ماڈل کیا جائے تو اس کے اثرات عین وہی ہیں جو مجموعی طور پر ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی سے پیدا ہوتے ہیں یعنی کہکشاؤں کی محوری گردش کی رفتار عین وہی ہوتی ہے جو ہم مشاہدات میں دیکھتے ہیں اور دور دراز کی کہکشائیں ایک دوسرے سے پرے جاتی نظر آتی ہیں-

فی الحال یہ ایک مفروضہ ہی ہے کیونکہ ابھی تک صرف اس مفروضے کی موجودہ مشاہدات سے compatibility کو ہی سٹڈی کیا گیا ہے جس میں یہ مفروضہ عین وہی پیش گوئیاں کرتا پایا گیا ہے جو ہم مشاہدات میں دیکھتے ہیں- لیکن اسے درست ثابت کرنے کے لیے اس مفروضے کو مزید پیش گوئیاں کرنا ہوں گی جنہیں مزید مشاہدات سے جانچا جا سکے- اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو اس مفروضے کو درست تسلیم کر لیا جائے گا جو کہ موجودہ فزکس میں ایک انقلابی پیش قدمی ہو گی- تاہم کچھ ماہرین اس مفروضے کو شک کی نگاہوں سے بھی دیکھتے ہیں کیونکہ مشاہدات سے اس قدر ہم آہنگی اس وجہ سے بھی ہو سکتی ہے کہ اس مفروضے کو محض ان مشاہدات کی روشنی میں ہی گھڑا گیا ہے- اب یہ مفروضہ درست ثابت ہوتا ہے یا غلط یہ تو آنے والا وقت ہی بتلائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں