6

بچّوں میں شعوری/ ادراکی قوّت یعنی Cognitive Skill کیسے بڑھائی جائے؟

بچّوں میں شعوری/ ادراکی قوّت یعنی Cognitive Skill کیسے بڑھائی جائے؟

اگر ایسا نہ کرتے تو پھر کیا ہوتا؟ اگر آپ اسی سیچوئیشن میں دوبارہ چلے جائیں تب کیا کریں گے؟ کیا سیب کسی اور طرح بھی کاٹا جا سکتا ہے؟ …. ایسے سوالات بچّے کی سوچ کو متحرّک کر دیں گے۔ یہی cognitive skill یعنی ادراکی/شعوری مہارت ہے۔ سادہ لفظوں میں ذہنی نشوونما ہے۔

سکِلز کے 5 بڑے زونز یعنی areas میں سب سے اہم سکِل یہی ہے۔ اس کی پانچ سات ذیلی شاخیں بھی ہیں۔ سب برابر اہم ہیں، تاہم ان میں ایک کو باقی پر فوقیت حاصل ہے۔ یا یوں کہہ لیں، باقی سب اسی کو سپورٹ دینے بیٹھی ہیں: یادداشت، توجہ، ارتکاز، سماعت، بصارت، تخلیقیت، تعقّل و منطق یعنی لاجک اور تجزیہ۔ تجزیاتی قوّت کو باقی پر فوقیت حاصل ہے۔ ایک سادہ چمچ سے لیکر خلائی شٹل تک ایسی پیچیدہ شے کا وجود اصلاً اسی کا مرہونِ منّت ہے۔ تعقّل اسی شے کا نام ہے۔ یعنی عقل کی کارکردگی۔ نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت ۔ اللہ نے جب عقل بنائی تو اس کی اسی قوتِ تعقّل پر فخر فرمایا تھا۔ عقل کا سافٹ ویئر بنا لیا تو خدا نے اسے بغور دیکھا اورکہا ، ذرا چل کے دکھا۔ اس نے چل کر دکھایا۔ اب اس کے نازو ادا دیکھے تو خالق بڑا محظوظ ہوا۔ خود پکار اٹھا کہ کیا شے بنائی ہے میں نے۔ پھر کہا، بس میں جو کچھ کسی کو دوں گا، تیرے واسطے سے دوں گا۔ اور جو کچھ کسی سے لوں گا، تیری ہی وجہ سے لوں گا۔ اس تحریر میں (ذرا آگے) cognitive skill کی اسی شاخ یعنی لاجک اور reasoning پر بات ہو گی۔ پہلے ایک دو عدد اہم باتیں جو بالواسطہ اسی موضوع کو سپورٹ کرتی ہیں۔

پچھلی پوسٹ میں فائن موٹر سکِلز پر بات چھڑی تھی جن کا تعلّق چھوٹے اعضا یعنی ہاتھ، انگلیاں، کلائیاں،پاؤں، اورآنکھوں کے متحرّک رہنے سے ہے۔ اعصابی نظام سے ہے۔ اور اِن سب کے آپس میں ربط یعنی کوآرڈینیشن سے ہے۔نیز، فائن موٹر سکِلز کی تحصیل اور اہمیت پر بھی بات ہوئی۔ساتھ میں یہ بھی ذکر ہوا کہ Gross موٹر سکِلز کا تعلق بڑے اعضا یعنی ٹانگیں، بازو، سینہ، گردن کے متحرّک ہونے سے ہے جن میں بڑے مَسلز پائے جاتے ہیں۔اور یہ بھی کہ چھوٹے مسلز والے کام یعنی فائن موٹر سکِلز ترجیحی اعتبار سے دوسرے نمبر پر آتی ہیں۔ گراس موٹر سکِلز (دوڑنا، واک کرنا، بیڈمنٹن ، کرکٹ کھیلنا وغیرہ)کے تحت بڑے پٹھے مضبوط ہوں گے تو چھوٹے پٹھے بھی عمدہ کام کریں گے۔اِنہیں اُن سے تقویت ملے گی۔ مثلاً بھاگ دوڑ والے کام سے جو فزیکل ایگزرشن میسر آئے گی، اس سے گھٹنے اور جوڑ مضبوط ہوں گے، دورانِ خون باریک ترین پٹھوں اور شریانوں تک پہنچے گا، دل اور دماغ کی باریک ترین نالیوں تک کو سیراب کرے گا تو جگہ بہ جگہ کھڑے بلڈ کلاٹس ٹوٹ جائیں گے۔ پورا وجود جیسے جاگ اٹھے گا۔اب گھنٹوں بیٹھ کر باریک نوعیت کے کام کرنے میں دقّت نہ ہو گی۔

اصل حکمرانی انسان کی cognitive skills کی ہے۔ اور ان میں سے بھی logic and reasoning کی ہے۔ تخلیقیت اور تجزیہ و ایجاد وغیرہ اسی skill کے کرشمے ہیں۔ ایٹم کا پیٹ پھاڑ کر اس کے نینو ذرّات یعنی باریک ترین ذرّات تک رسائی اور اُن میں چھپی قوتوں کی مدد سے پہلے سے دستیاب ٹیکنالوجی کو مزید ریفائن کرتے ہوئے اسے محیرالعقول بلندیوں تک لیجانا اسی قوّت کا شاخسانہ ہے۔ ماہرین نے بچوں میں اس سکِل کو مہمیز دینے کو کچھ پیمانے سٹڈی کئے اور بہ اعتماد پیش کر دئیے ہیں۔ اگر ان ٹِپس کو ایپلائی کیا جائے تو عقل و شعور کو جِلا ملتی ہے، ادراکی قوّت میں زیادہ تر sophistication پیدا ہوتی، اسے سمارٹ بناتی ہے۔ ذاتی نوعیت کے اور پیشہ ورانہ تعلقات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔ غلطیوں کا گراف کم کیا جا سکتا، ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا، بگڑی صورتحال کو سنوارا جا سکتا ہے۔ پیچیدہ و گنجلک مسائل کا حل تلاشا جا سکتا، بروقت اور درست فیصلے کئے جا سکتے ہیں۔ وہ tips کیا ہیں؟

ایک جنرل ٹِپ یہ ہے کہ ایسی سرگرمیوں میں انگیج ہوا جائے جو تنقیدی و تجزیاتی سوچ کو متحرّک بنائیں۔ تھاٹ پیٹرن کو بدلنے میں معاون ہوں۔ معقول اورغیرمعقول کا فرق جان لینے کے قابل بنائیں۔ دماغ بھی ایک مَسل ہے۔ اسے بھی ایکسرسائز چاہئیے۔

اوپن اینڈڈ سوالات کئے جائیں: اگرہم یہ کریں تو کیا ہو گا؟ اگر بکریاں چیونگم کھا لیں تو کیا ہو گا؟ اگر کوڑا اٹھانے والا دس روز نہ آئے تو کیا ہو گا؟ اگر اس کی لاٹری نکل آئے تو وہ کیا کرے گا؟

سوچنے کا وقت دیا جائے۔ فوری مداخلت نہ کی جائے۔ جواب غلط ہے تو کبھی یہ نہ کہیں کہ غلط ہے۔ بلکہ مزید پوچھیں : اچھا یہ بتائیں ایسا کیوں ہو گا؟ کیا یہ کسی اور طرح بھی ہو سکتا ہے؟

بچے کو اپنا hypothesis ڈویلپ کرنے دیں، یعنی اس کا اپنا قیاس۔

نئے تجربات کرنا بے حد اہم ہے۔ ضروری نہیں، ہر روز واک ہی کی جائے۔تیراکی بھی کی جا سکتی ہے، اور بہت ضروری ہنر ہے۔ بچوں کے ساتھ مل کر fire balloon بنائیں اور چھت پر لیجا کر اسے فضا میں چھوڑ دیں۔

ضروری نہیں بچّے کو پنسل کلرز پر ہی لگائے رکھیں۔ ضروری نہیں بچہ آپ کی اقتدا میں ہی نماز پڑھے۔ آپ اس کی اقتدا میں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ کسی ریڑھی والے سے چھلّی خرید کر کھانا ایک روٹین ہے۔ چھلی والے سے درخواست کر کے کچھ دیر خود چھلّی بھوننا اوربیچنا کیسا رہے گا؟ بچّہ سالن بنائے، نہ کہ امی جان۔ بچہ آپ کو پڑھائے، نہ کہ آپ اسے۔

پہیلی اور مختلف قسموں کے پزلز حل کرانا بھی عمدہ ایکٹوٹی ہے۔ گراسری سٹور سے ایسی اشیا خریدنا جو پہلے کبھی نہ خریدی ہوں۔ ایسے پھل جو پہلے کبھی نہ کھائے ہوں۔ ایسا کھیل جو پہلے کبھی نہ کھیلا ہو۔ پیپر اور پلاسٹک cups سے بہت بلند بلڈنگ اور ٹاور بنانا وغیرہ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمایوں مجاہد تارڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں