6

ڈاراک میٹر کی کھوج

ڈاراک میٹر کی کھوج

-نعمان

انیسویں صدی کہ آغاز میں جب اسٹرنومرز کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ آسمان میں موجود یہ روشن بڑے سے دبے ستاروں کہ جھرمٹ ہیں جو گریویٹی کی وجہ سے ایک جگہ اکٹھے گھوم رہے ہیں جنہیں گلیکسیز کا نام دیا گیا اس کہ ساتھ ہی اسٹرنومرز نے گریویٹی اور انرشیا کہ قوانین کو گلیکسی کی روٹیشن پر اطلاق کرنے لگے تاکہ گلیکسی کی روٹیشن ریٹ کو معلوم کر سکیں یہ طریقہ انتہائی سمپل تھا جسطرح سیارہ زمین سورج کہ گرد حرکت کر رہا ہے اور سورج گلیکسی کہ سینٹر کہ گرد حرکت کر رہا ہے اسی آربٹل موشن کی وجہ گریویٹی ہے گلیسکی کہ ماس کی ڈسٹربیوشن کی مدد سے ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ گلیکسی میں موجود کس ستارے پر کتنی گریویٹی اثر انداز ہورہی ہے اور اُس وجہ سے اس کی آربٹل ولاسٹی کیا ہونی چاہیے اس فارمولے کی مدد سے کسی بھی آبجیکٹ کی آربٹل ولاسٹی معلوم کی جاسکتی ہے

V= sqrt (G M/R)

V= Orbital velocity
G= Universal Gravitational Constant
M= mass Of galaxy
R= Distance From The Star’s center to The galaxy center

ہم یہ جانتے ہیں کہ گریویٹی کی فورس اور سرکولر موشن فورس ایک دوسرے کہ برابر ہوتی ہیں اسلئے گریویٹی کم ہو گی تو سرکولر موشن بھی کم ہوتی جائے گی

force of circular motion = force of gravity

گلیسکی کہ سینٹر کہ قریب موجود ستارو‍ں کی ولاسٹی سلو ہوتی ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ گلیکسی کہ دیگر مادے کی گریویٹی اُس پر اثر انداز ہورہی ہوتی ہے بالکل اسی طرح جیسے جیسے آپ زمین کہ مرکز کی طرف جاتے جائیں گے تو گریویٹی کی مقدار کم ہوتی جائے گی بالکل سینٹر میں پہنچنے پر گریویٹی کی مقدار صفر ہوجائے گی کیونکہ زمین کا اوپری مادے کی گریویٹی ہم پر اثر انداز ہورہی ہوگی مگر جیسے مرکز سے دور ہوتے جائیں گے گریویٹی بڑھتی جائے گی اسی طرح گلیکسی میں سینٹر سے دوری بڑھتی جائے گی تو رفتار بڑھتی جائے گی گلیکسی کہ ماس کی اعتبار ایک خاص فاصلے کہ بعد موجود ستارو‍ں کی ولاسٹی کم ہونا شروع ہوجائے گی اور ایک فاصلہ ایسا آئے گا جہاں گلیکسی کی گریویٹی مزید مادہ پر اپنا اثر چھوڑ دے گی مگر حقیقت اس کہ برعکس تھی گلیکسی کہ مرکز سے دورہونے پر ستاروں کی یہ رفتار مسلسل بڑھتی ہی جا رہی تھی گلیکسز کا یہ رویہ حیران کُن تھا کیونکہ گلیکسیز کہ ماس کو دیکھتے ہوئے ایسا ہونا ممکن نہیں تھا یہ مظہر اس بات کا امکان ظاہر کر رہا تھا کہ گلیکسی میں اس سے کہیں گنا ذیادہ ماس موجود ہے جس کی وجہ سے ستاروں کی آربٹل ولاسٹی کم ہونے کہ بجائے بڑھتی جارہی ہے

اسی طرح ڈارک میٹر کا بڑے پیمانے پر گریویٹی سے انٹریکشن بھی مانیٹر کی گیا gravitational lensing کی مدد سے ڈارک میٹر کا ایک میپ بھی بنایا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے نارمل میٹر سے کہیں گناہ ذیادہ ڈارک میٹر اس کائنات میں موجود ہے

ڈارک میٹر کہ ماس کہ کسی قسم کہ شواہد موجود نہیں ہیں کیونکہ ڈارک میٹردکھائی دینے والے الیکٹرومیگنیٹک سپکیٹرم سے انٹریکٹ نہیں کرتا ریڈیو ویو سے بھی انٹریکٹ نہی‍ں کرتا ہے اورعام مادہ (baryonic matter) سے ڈارک میٹر کا کسی قسم انٹریکشن بھی نہیں ہے اس وجہ اس پُرا سرارکی کھوج ممکن نہ ہوسکی اور اس کو ڈارک میٹر/تاریخ مادے کا نام دیا گیا ڈارک میٹر کا واحد ثبوت گریویٹی کہ ساتھ انٹریکشن ہے جو ان گلیکسیز کی ایکٹیویٹی سے مانیٹر کیا جا سکتا ہے

اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمیں پتہ ہو فلاں جگہ پر ڈارک میٹر موجود ہے اور ہم وہاں سے جا کر بالٹی بھر ڈارک میٹر لے آئیں کیونکہ ڈارک میٹر کا انٹریکشن الیکٹرومیگنیٹک سپکیٹرم سے نہیں ہے اسلئے وہ مادہ کی بنی ہر چیز کیلئے exist ہی نہیں کرتا اس وقت بھی ڈارک میٹر کہ کڑورں پارٹیکلز ہمارے جسم میں سے ہر لمحے گزر رہے ہونگے کیونکہ ڈارک میٹر کہ اس کائنات میں بہت ذیادہ مقدار میں موجود ہے اسلئے وہ ہر جگہ موجود ہوسکتا ہے

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے ڈارک میٹر کس ذرہّ پر مشتمل ہوگا اس متعلق مختلف اندازے ہیں ایک اندازہ یہ بھی تھا کہ یہ پارٹیکل بھاری اور مادہ کہ ساتھ بہت کم انٹریکشنررکھتا ہے اسےWIMPs کا نام دیا گیا weakly interacting massive particle اس پارٹیکل کی تلاش کیلئے زیر زمین swiming pool کی مدد سے WIMPs کی کھوج کی کوشیش کی جاتی رہی اندازہ یہ تھا کہ جب WIMPs پانی میں موجود کسی ایٹم سے ٹکرائے گا تو روشنی پیدا ہوگی اور اس سے ہمیں اس پارٹیکل کہ انٹریکشن دیکھنے کو ملے گا اور فلحال اس طریقے سے ہم ڈارک میٹر کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں

اس متعلق ایک اور تھیوری یہ بھی ہے کہ ڈاراک میٹر
ایک کم انٹریکشن کرنے والا ہلکا ذرہّ بھی ہوسکتا ہے جس کیلئے سب سے موضوع ذرہّ Axion ہے جو کہ ایک Hypothetical ذرہّ ہے اس کا ماس انتہائی کم ہے Axion کوابھی تک observe نہیں کیا جا سکا مگر مضبوط تھیوریٹکل بنیادوں کی وجہ سے اس کی موجودگی پر شکوک و شبہات نہی‍ں ہیں اس کا ماس نیوٹرینو سے بھی کہیں گناہ کم ہے

اس ذرہّ کو ڈیٹیکٹ کرنے کیلئے کیے جانے والے تجربات دلچسپ ہیں اس ذرہّ کہ متعلق کی گئی پیشنگوئیوں کہ مطابق Axion میگنیٹک فیلیڈ کی موجودگی میں فوٹان میں تبدیل ہوجاتا ہے اور اسی الیکٹرومیگنیٹک ویو کو سن کر Axion کی موجودگی پتہ لگایا جاسکتا ہے

پراجیکٹ Axion Dark Matter experiment کی
مدد سے Axion کی تلاش جاری ہے Axion کی تلاش انتہائی حساس ہے اس میں ایک ایسا چیمبر استعمال کیا جارہا ہے جو لیکوئید ہیلئیم کہ درجہ حررات جتنا ٹھنڈا ہے اور تاریک جگہ موجود ہے اس کہ گرد میگنیٹک کوائلز موجود ہیں اور اس بیرونی میگنیٹک فلیڈر جیسے موبائیل ،اور دیگر الیکٹرونکس کہ انٹریکشن سے محفوظ بنایا گیا ہے تاکہ صرف Axion کی ہی فوٹان میں تبدیلی کو ہی سنا جا سکےADMX امریکہ کی fermi national laboratory کہ زیر نگرانی Washington یونیورسٹی میں موجود ہے اسی سال اپریل کہ مہینے میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ADMX نے Axion کی کھوج کیلئے متعلقہ حساسیت حاصل کر لی ہے اور یہ کسی بھی وقت ممکن ہے کہ ہم Axion کی کھوج کرنے میں کامیاب ہوجائیں

فلحال تک Axion کی ڈسکوری کہ متعلق کچھ پیش رفت نہیں ہوئی پر امید کی جارہی ہے کہ ہم بہت جلد اس کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوجائیں گے ڈارک میٹر گلیکسیز کی وسعت پر ٹیلی سکوپ سے دیکھنے پر دکھائی نہیں دیتا اور وہی ڈارک میٹر زمین پر تاریک اور ٹھنڈی جگہوں پر ملنے کا امکان ہے
ڈارک میٹر کو ہم پکڑنے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ اس صدی کی ہگز بوزون کہ بعد سب سے بڑی ڈسکوری ہوگی اور ایک صدی سے ذیادہ عرصہ رہنے والے سب سے پیچیدہ راز سے پردہ اُٹھانے میں کامیاب ہوجائیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں