5

لوگوں کے عُذر قبول کرنے میں وسعت قلبی دکھائیے

لوگوں کے عُذر قبول کرنے میں وسعت قلبی دکھائیے

※ جب میں طالبعلم تھا تو اپنے استاد پر تنقید کیا کرتا تھا۔ اب میں استاد بن گیا ہوں تو لگا ہے کہ وہ حق پر تھا۔

※ میں استاد تھا۔ ہیڈ ماسٹر میری تنقید کا نشانہ رہتا تھا۔ اب میں ہیڈ ماسٹر بن گیا ہوں تو لگا ہے کہ وہ کتنا معذور تھا۔

※ میں بچہ تھا تو اپنے باپ کے، میرا خیال رکھنے کے چوکیدارانہ رویئے سے، مجھے بہت چڑ تھی۔ اب میں باپ بنا بیٹھا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میں نے اپنے باپ کی قدر نہیں کی۔

※ میں خاوند تھا۔ اپنی بیوی کے گھر والوں کی باتیں، رویئے اور حرکتیں مجھے بہت چھبتی تھیں۔ اب میں خود کسی کی بیوی کا باپ بن گیا ہوں۔ میرا داماد اور اس کے گھر والے میری باتوں سے چڑتے ہیں۔ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ جیسا کرو گھوم پھر کر واپس آتا ہے۔

※ میں بھائی تھا۔ مجھے اپنی بہن سے بہت چڑ تھی۔ میرا بیٹا بڑا ہو رہا ہے اور اپنی بہن کو کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ مجھے پورا احساس ہے کہ میں نے اپنی بہن کے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں۔

※※※

دیکھیئے، لوگوں کے عُذر قبول کر لیا کیجیئے۔ اس سے پہلے کہ چیزیں گھوم پھر کر واپس آپ کے پاس آئیں اور آپ پہچانیں کہ لوگ تو حق پر تھے۔

لوگوں کے عذر قبول کرنے میں دل کو بڑا کیجیئے۔ اُن کی قدر کیجیئے، انہیں احترام دیجیئے، ان کی تکریم کیجیئے، اُن سے عفو و درگزر کیجیئے، اور اجر و ثواب کو اللہ پر اُٹھا رکھیئے۔

جذبات کوسمجھنے کیلئے بہت گہرے دوست کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کچھ چیزیں ایک واجبی دوست سے بھی ہو سکتی ہیں جو وقت پر کام دے جائے۔ دوست تکلیفیں نہیں دیتے، سچے بھائی بھولتے نہیں، اچھا انسان شک شبہے والی باتیں نہیں سنتا اور نہ ہی ان باتوں سے اپنے لیئے غم پیدا کرتا ہے۔

لوگوں کے دلوں کو دوستی سے مخاطب کیجیئے۔ ہر انسان کے دل میں ایک پھول کھل سکتا ہے، بس اُسے کسی لطیف جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جہاں تک اچھی گفتگو کا تعلق ہے یہ تو ایک ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی نہر جیسی ہوتی ہے جو دلوں میں ٹھنڈک ڈال دے۔ یاد رکھیئے اگر آپ پر زندگی بھاری اور سخت جا رہی ہے تو اس کا اثر آپ کے رویئے اور کردار سے، آپ کے گرد و نواح کے لوگوں کو اذیت نہ دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں