4

علماء سے سنا ہے

“علماء سے سنا ہے”
:::::::::::::::::::::

میرے ایک بھائی کسی پرواز سے کراچی آرہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ساتھ والی سیٹ پر ایک “حاجی صاحب” ٹائپ شخصیت تشریف فرما ہیں۔ نماز کا وقت ہوا تو حاجی صاحب نے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے نماز شروع کردی۔ جب وہ نماز پوری کرچکے تو میرے بھائی نے ان سے کہا

“اس طرح نماز نہیں ہوتی”

اب حاجی صاحب کے جواب پر بہت توجہ دیجئے گا، فرمایا

“علماء سے سنا ہے کہ پڑھ لینی چاہئے”

فلائٹ کراچی ایئرپورٹ پر اتری تو برادرم ہدایت اللہ سدوخانی بھائی کو ریسیو کرنے آئے تھے۔ وہ بھائی کو ریسیو کرنے کے بجائے سیدھے حاجی صاحب کی جانب بڑھے اور بہت احترام سے ان سے ملے۔ جب حاجی صاحب رخصت ہوچکے اور میرے دونوں بھائی گھر جانے کے لئے اپنی گاڑی میں سوار ہوئے تو آنے والے بھائی نے ہدایت اللہ صاحب سے پوچھا

“یہ جن سے آپ اتنے احترام سے ملے یہ کون تھے ؟”

جواب ملا

“یہ مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی صاحب تھے”

اب ذرا پلٹ کر ان کا جواب دوبارہ پڑھئے اور اندازہ لگائے کہ اہل علم کی روایت کیا ہے اور فیس بکی بونوں کا چلن کیا ؟ وہ تو اپنے ساتھی مسافر کو شرمندگی سے بچانے کے لئے اپنا مفتی اعظم ہونا بھی چھپا جاتے ہیں اور کہتے ہیں “علماء سے سنا ہے” اور یہ نابالغ مفتیان فیس بک ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں