5

1 سے 12 سال تک کی عمر کے بچوں میں کِن مہارتوں (skills) پرکام ہونا چاہئیے؟

1 سے 12 سال تک کی عمر کے بچوں میں کِن مہارتوں (skills) پرکام ہونا چاہئیے؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
علم و آگاہی، تدبیر، اور حکمتِ عملی سے کام لیا جائے تو بچّے کے دماغ کی وائرنگ میں وہ ضروری tools انجیکٹ کئے جا سکتے ہیں جن کی بچے کی دنیا میں دستیابی اُس کی دنیائے اکیڈیمکس یعنی تحصیلِ علم کے سفر میں اُس کی کامیابی کو یقینی بنا ڈالے گی۔ نِیز، عملی زندگی میں بھی۔ بچہ گھر میں ہے یا سکول میں، یہ وہ پانچ بڑے زون یا areas ہیں جن پر کام کرنا ہوتا ہے:

1- ادراکی نشونما Cognitive Skills
2- سماجی/معاشرتی یعنی دوسروں سے ہم ربط ہونے، اُن سے گھل مل کررہنےکی تربیت Social Skills
-3 لینگویج سکِلز یعنی چاروں: پڑھنا، لکھنا، سننا اور اظہار کرنا
4- فائن موٹر سکِلز Fine Motor Skills
5- گراس موٹر سکِلز Gross Motor Skills

اِن میں سے ہر skill کی عمدہ لرننگ اِس طور ممکن ہے کہ عمر کی ہر سطح پر ماہرین کی طرف سے تجویز کردہ الگ الگ activities کرانے کا اہتمام کیا جائے۔

ایک سال کی عمر، دو سال، تین سال، چار سال ۔۔۔ ہر سطح پر پہلے سے قدرے زیادہ چیلنجنگ نوعیت کی سرگرمیاں اور کھیل تجویز کئے گئے ہیں تا کہ بچّے میں مسائل سے الجھ کر اُن کا حل نکالنے یعنی پرابلم سالوِنگ سکِل پیدا ہو، سیلف کنٹرول اور ڈسپلن آئے یعنی بچہ خود سر اور بے قابو قسم کی مخلوق نہ بنے، دوسروں کو برداشت کرنے کا مادّہ پیدا ہو، زبان دانی میں اچھا ہو تا کہ دوسروں کے روبرو اپنا موقف بہ اعتماد پیش کر سکے وغیرہ۔

ترقی یافتہ ممالک میں بچے کی نفسیات پر خوب کام ہوا ہے۔ مغرب امام العصر جو ہوا۔ اِس لئے ہم میں سے وہ والدین جن کے بچے ابھی ڈویلپمینٹل سٹیج میں ہیں، گورے کی کتابوں، اس کی ویب گاہوں اور ویڈیو چینلز سے چمٹے رہیں۔ سیکھنے میں کیا شرم، اور ایسا اعتراف کرنے میں بھی کیا شرم؟

یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ پہلے دس بارہ برس خاصے اہم ہوتے ہیں۔ بس عمر کے اسی حصے کو ڈویلپمنٹل سٹیج کہا جاتا ہے۔ آئیں اِن میں سے ایک سیٹ آف سکِلز پر ذرا فوکس کرتے ہیں۔ اِس پوسٹ میں میرا انتخاب ہے “فائن موٹر سکِلز”۔ یہ ہے کس بلا کا نام؟ اور اِن کی تحصیل کیسے ممکن بنائی جائے؟

بند ڈبّے کو کھولنا، خواہ تمیز اور تہذیب سے کھولا جائے یا “بدتمیزی” سے، ایک فائن موٹر سکِل ہے۔ چھوٹی چھوٹی اشیا جیسے بٹن، موتی، کارڈ کے ٹکڑے وغیرہ گوند کی مدد سے کاغذ پر چپکانا ایک فائن موٹر سکِل ہے۔ قینچی کی مدد سے کاغذ کو کاٹنا، بلاکس کے استعمال سےگھر یا کوئی اور سٹرکچر بنانا، کلر کرنا، انگلیوں پر ربر بینڈ چڑھا کر بچہ ایک کپ میں سے ٹافیاں نکال نکال دوسرے کپ میں بھر رہا ہو تو یہ فائن موٹر سکِل ہے۔ دھاگے کی مدد سے کوئی شے بُننا، پنسل کے استعمال سے کوئی شے ٹریس کرنا، ڈرائنگ ایکٹوٹی وغیرہ سب فائن موٹر سکِلز ہیں۔

یعنی آنکھوں، ہاتھوں، انگلیوں، کلائیوں، اور پاؤں کے استعمال سےچھوٹے پیمانے کی حرکات۔ اِن کا براہِ راست تعلق نروس سسٹم یعنی اعصابی نظام سے ہے۔ گویا فائن موٹر سکِلز کی تحصیل میں مذکورہ چھوٹے اعضائے بدن کا آپس میں تعاون coordinate کرنا ، اور ایسے عمل کا عادی ہونا ہے۔ گراس موٹر سکِلز میں بڑے اعضا کا استعمال ہے جیسے بازو، ٹانگیں، گردن، سینہ۔ اور اس مقصد خاطر میں بھاگنا، تیرنا، کھیلنا وغیرہ ایسی سرگرمیاں ہیں۔ ترتیب اور ترجیح میں وہ پہلے آتی ہیں۔ اُن میں بڑے مَسلز کی مشق ہے۔ بڑے مَسلز مضبوط ہوں گے تو چھوٹے مَسلز بھی ان سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ چھوٹے مَسلز میں فائن موٹر سکِلز والے کام انجام دینے کو سٹیمنا بڑھ جائے گا۔

یہ اِس لئے ضروری ہیں کہ بچّہ اپنا ہر چھوٹا کام خود کرنے کے قابل اور اس کا عادی ہو جائے۔ اس سکِل کو پروموٹ کرنے کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ آپ بچّے کوایک محنتی، فرض شناس، ہنر مند انسان بنانےکی راہ پر ڈالنے میں لگے ہیں۔

کیا آپ نے گردوپیش میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جو (عورت یا مرد) برتن اور کپڑے دھونے، کپڑے استری کرنے، سالن بنانے، جوتے پالش کرنے، گھر کی صفائی ستھرائی، گاڑی کی دھلائی وغیرہ ایسے چھوٹے کاموں میں خوب سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ صرف یہ کہہ دینا کہ فلاں بندہ سست ہے، اور فلاں بڑا ایکٹو، ایک سویپنگ ریمارک ہے۔ تاہم، ذرا گہرائی میں سٹڈی کریں تو اندازہ ہو گا کہ جو شخص سست یا کام چور ہے، اس کے انتہائی بچپنے میں اُس کے حصے کا کام اس کی امّاں، یا اس کے بڑے بھائی بہن کرتے رہے ہیں۔ اس بیچارے کو ایسا موقع کم ہی ملا کہ وہ چھوٹے کاموں میں اِنوالو ہو سکتا/سکتی۔

چھوٹے مَسلز کو اِنوالو کرتے ہوئے گھنٹوں بیٹھ کر باریک نوعیت کے کام کرنا دل و دماغ، اعضا، اوراعصابی نظام کی ایسی ہی مشق ہے جو بعد کی عملی زندگی میں اس بچے کو اس قابل بنائے رکھے گی کہ وہ کسی کام کو بھی عار نہ سمجھے۔ اور effortless انداز میں اٹھ کر انجام دے ڈالے۔

ایک سے چار برس تک کی عمر کے لئے activities ذرا سادہ نوعیت کی ہوتی ہیں اگرچہ اُن میں بڑی ورائٹی ہے۔ پنسل سے ہاتھی کی تصویر ٹریس کرنا پھر اس میں رنگ بھرنا، اور قینچی کی مدد سے اپنا کام اس کاغذ پر کاٹ کر الگ کر لینا۔ یہ سطح 3 سے 4 برس کے بچے کی ہے۔ 5 برس اور اس سے اوپر کا بچّہ ہاتھی کو دیکھ کر خود ڈرا بھی کر سکتا ہے۔ اپنی ٹرائی سائیکل خود واش کر سکتا ہے۔ جبکہ 7 برس اور اس سے اوپر کا بچہ ڈبّے اور کاغذ گوند وغیرہ کے استعمال سے روبوٹ بنا کر اس پربٹنز اور دیگر اشیا چپکا تے ہوئے ایک ایسا ماڈل تیّار کر لے گا جو کسی نمائش وغیرہ میں دکھایا جا سکے۔

ضروری نہیں، آپ آئے روز رنگ برنگا مہنگا میٹیریل مارکیٹ سے خریدا کریں۔ گھر کے معمولی اور روٹین کے کاموں میں بچوں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔ جی ہاں، اس بات کو حد درجہ سنجیدہ لیا جائے کہ:

7 سے 10 برس کے بچّے اپنی سائیکل خود واش کریں۔ آپ ساتھ میں نگرانی اور تھوڑی بہت مدددے سکتے ہیں۔
اپنا بستر، کمبل وغیرخود تہہ کریں۔
کپڑے استری کرنے میں بھی آپ انہیں تھوڑا بہت شامل کریں۔
وہ اپنے جوتے خود پالش کیا کریں۔ برش کرنا بھی ایک فائن موٹر سکِل ہے۔
کپ، پلیٹ، چمچ، فورک وہ خود د واش کر یں۔
انڈا ، نُوڈلز، قہوہ، فرینچ فرائیز خود بنا لیا کریں۔
ڈسٹنگ کسی حد تک۔ اسی طرح،پوچا اور وائپرلگا لیا کریں۔
آپ اپنی گاڑی، موٹرسائیکل گھر میں واش کریں، اور ساتھ میں بچوں سے مدد لیں۔ وہ یہ کام بڑے ہی شوق سے کرتے ہیں۔ مفت کے مزدور! 🙂
ڈرائنگ کے لئے حسبِ عمر انہیں ٹاسک دیا جائے۔گُوگل پر جا کر لکھیں:

Drawing activities for 5 year old.

معمولی اشیا سے حیرت انگیز سرگرمیاں انجام دی جا سکتی ہیں۔ ربربینڈ، دھاگا، قینچی، چھری، تیلیاں، سلائی، چمچ، کاغذ وغیرہ کا نام ذرا گُوگل میں ڈال کر دیکھیں۔ یہ سرچ لگائیں ذرا:

Simple threading activities for young kids. OR games and activities involving thread.

آپ قینچی یا کسی اور شے جیسے غبارہ کا نام لکھ کر دیکھ لیں۔ یوں، اپنے لئے ورائٹی میں کچھ سرگرمیاں منتخب کر لیں جن میں زیادہ مہنگا میٹیریل نہ خریدنا پڑے۔

کُوکنگ میں بہت کچھ ایسا ہے، یُوٹیوبیں لدی پڑی ہیں، جس میں آلو، ٹماٹر، چاول، دال وغیرہ ایسی عام روٹین کی اشیا سے کافی کچھ ورائٹی میں بنایا، پکایا جا سکتا ہے۔ کیک، چھوٹا پیزا وغیرہ تو اکثر مائیں گھر میں بنا رہی ہیں آجکل۔ ضروری نہیں آپ کے پاس کوکنگ رینج ہی ہو۔ بس حسبِ وسائل آپ متحرّک رہیں۔

ہر گز یہ نہ سوچیں کہ فلاں فلاں ایکوپمنٹ یا اشیا خریدنے کی استطاعت نہیں تو کیا کیا جائے۔ دستیاب وسائل اندر ہی بچے میں سکِل پیدا کرنا ہے، نہ کہ دوسروں سے مقابلہ بازی کرنا اور کسی نام نہاد سٹینڈرڈ آف لِونگ کا تماشا لگانا ہے۔ سب سے بڑا معیارِ زندگی یہی ہے جس میں انسان خود کام کرنے کے قابل ہو۔ پیغمبرؐ سے بڑا کوئی انسان نہیں گذرا۔ اپنا کام وہ خود کیا کرتے تھے۔ یہی چلن آج کے ترقی یافتہ مغرب میں ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں ملک صاحب، چوہدری صاحب، نواب صاحب وغیرہ صرف اس بنا پر قابلِ تکریم ٹھہرے ہیں کہ وہ اپنا کام خود کرنے سے معذور ہیں۔

سکِل پیدا ہو گئی، مزاج استوار ہو گیا تو جان رکھیں، آپ کے بچے کو زندگی ایسے ایسے مقامات پر گھماتے پھرے گی جہاں کا تصور بھی شاید آپ نہ کر سکے ہوں۔بے شمار ایسی سیچوئیشنز پیدا ہوں گی جب دنیا آپ کے بچے کے لئے راستہ خالی کر دے گی۔ اسے حصولِ معاش سے اور عزّت و تکریم والی زندگی جینے سے کوئی نہ روک سکے گا ۔۔۔ دعائیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: احباب سے گذارش ہے یہ تحریر کاپی پیسٹ کر کے کم از کم بھی 5 سے 7 لوگوں کو اِن باکس کر دیں۔ نیکی ہے۔ یا نیچے کامنٹ باکس میں دو چار نام مینشن/ٹیگ کر دیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمایوں مجاہد تارڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں