7

چھوٹے بچوں کے والدین، بالخصوص مائیں، ذرا قریب آجائیں

چھوٹے بچوں کے والدین، بالخصوص مائیں، ذرا قریب آجائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال یہ ہے کہ تین برس کے ایک بچّے کو کیا کچھ سیکھ لینا چاہیے؟ اس بات کا جواب دلچسپ ہے۔ ایک چھوٹی سی فہرست ہے جس میں شامل 3 سے 4 برس کے بچّے کو کچھ سکِلز آ جانی چاہئیں۔ بچّے میں اِن کی لَرننگ کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے۔ دیکھیں، بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر سیکھنے اور بلوغتِ عقل کا سفر ہے۔ چھوٹی چھوٹی سکِلز کا آنا انسان کے شعور اور اعتماد میں اضافہ کرتا ہے، اور اسے زندگی میں کامیاب ہونے میں مدد دیتا ہے۔ چند ایک سکِلز کے ڈیویلپ ہوجانے کا مطلب ہے نئی سکِلز سیکھنے کی راہ ہموار ہو گئی۔ یعنی بچّے کے اندر مختلف اشیا اور عوامل کے فہم و ادراک کے لئے ایک سسٹم سا اُستوار ہو جاتا ہے۔

یاد رہے، ایک سے تین برس کے بچّے کو toddler کہا جاتا ہے چونکہ اِس دوران وہ ذرا لڑکھڑا کر چلا کرتا ہے۔ تین برس سے اوپر اٹھتے ہی وہ ٹاڈلر کی کیٹگری سے باہر ہو جاتا ہے۔

آئیں اب اُن سکِلز کا جائزہ لیں جو اِس عمر کے بچے کو آ جانی چاہئیں:

1– پاؤں بدل بدل کر یعنی نارمل، پراپر انداز میں سیڑھیاں چڑھنا اور سیڑھیاں اترسکنا۔
2– بال کو کِک لگانا۔ ہاتھوں میں جکڑ کر پھینکنا یعنی تھرو کرنا اور کیچ کرنا۔
3– 45 کے زاویے پر جھکے کسی چھوٹے موٹے درخت پر چڑھ لینا اور اسی طرح پارکس میں لگی سلائیڈ والی سیڑھیاں چڑھنا، اترنا اور سلائیڈ لینا۔ سلائیڈ لیتے میں اوپر سے نیچے پھسلتے ہوئے جسم کو سیدھا و سمُوتھ رکھنے کی بجائے باڈی کو ہلکا سا ٹیڑھا کرلینا، اور دائیں یا بائیں پاؤں کے استعمال سے سلائیڈ کی ایک سائیڈ یعنی کنارے پر قدرے دباؤ ڈالنا تاکہ رفتار کو کنٹرول کیا جا سکے۔
4– بہ اعتماد بھاگ سکنا، اور ٹرائی سائیکل چلانا۔
5– اُچھلنا، اور ایک ڈیڑھ فٹ لمبی اور اتنی ہی بلند کسی شے پر سے کُود سکنا۔
6– ایک پاؤں پر کم ازکم پانچ سیکنڈز تک کھڑے رہ سکنا۔
7– واک کرتے ہوئے آگے کی طرف جانا، پھر اُلٹے پاؤں واپس آنا۔
8– اپنے ہاتھ خود دھو لینا، اور چھوٹا سا نوالہ بنا کر کھانا کھا سکنا۔
9– بغیر گرے چند سیکنڈز کے لئے جُھک سکنا۔
10– 20 تک گنتی کر لینا۔
11– انگریزی اور اردو کے حروف تہجّی زبانی یاد کر لینا بھی ممکن ہے اگر بتدریج والا اصول اپنا کر صبر و تحمل سے کام لیا جائے۔ مثلاً، تین چار روز تک پہلے پانچ سے سات ایلفا بیٹس ہی رٹواتے رہیں۔ پھر اگلے پانچ سات ۔۔۔

اگلی اہم بات یہ ہے کہ اگر بچّہ اِس عمر میں بیشتر الفاظ توتلی زبان میں ادا کرتا ہے، تو آپ اُس کی پیروی میں ایسا ہر گز نہ کریں۔ بلکہ پورے، مکمّل اور درست الفاظ ادا کریں۔ ورنہ بچے کا توتلے پن والا کیریئر اور طویل ہو جائے گا۔ وہ اس مرحلہ سے جس قدر جلد ممکن ہو باہر آ جائے، ورنہ آگے چل کر خاندان کی سطح پر بھی اور سکول میں بھی، دوسرے بچوں کے درمیان وہ نشانہِ تضحیک بن جائے گا جس سے بچّہ نفسیاتی اعتبار سے ذرا دب جاتا، اور نتیجتاً خوف، غصّے، چڑچڑاہٹ اور ناپسندیدگی کا اظہار کرنے لگتا ہے۔

عظیم ترین ہوتی ہیں وہ مائیں اور وہ باپ جو بچے کو بیڈ پر ساتھ لیٹا کر تصویروں والی ایک سٹوری بک ہاتھ میں تھامے اُسے کہانی سنائیں۔ اِس عمل سے بچے کی imaginative ability یعنی قوتِ تخیل کو مہمیز ملتی ہے۔ آجکل چھوٹے بچوں کے لئے ایسی ‏story books بڑی تعداد میں دستیاب ہیں جن میں ہر صفحہ پر ایک خوبصورت تصویر بمہ دو سطری مختصر عبارت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آپ ان تصویروں سے گائیڈ ہو کر کہانی بُنتے چلے جائیں۔ یہاں ایک اہم ٹِپ یہ ہے کہ آپ کے بچے میں جو غلط بات یا بری عادت پائی جاتی ہے آپ بہ واسطہ کہانی اسے ٹارگٹ کرسکتے ہیں۔ نِیز، بچے میں اچھی عادات ڈیویلپ کرنے کو بھی اسی کہانی سے مدد لیں۔ مثلاً، کہانی اس طرح ڈیویلپ کریں: “یہ پیارا سا ہرن اپنی ماما اور بابا کے ساتھ یہاں رہتا تھا۔ یہ بہت اچھا بچہ تھا۔ یہ جب باہر سے کھیل کر آتا تو سب سے پہلے اپنی ماما کو سلام کرتا تھا۔ پھر واش روم میں جاکر اپنے ہینڈز واش کرتا تھا۔ اس ہرن بےبی میں صرف ایک بات اچھی نہیں تھی۔ وہ بُری بات تھی۔ یہ اپنی ماما سے کہتا تھا مجھے پیسے دے دو، اور پھر میں شاپ پر جا کر کینڈیز لے کر کھاؤں گا۔ تو اس کی ماما نے کہا کہ ہم پہلے ڈاکٹر انکل سے پوچھنے جائیں گے۔ اگر انہوں نے پرمِشن دے دی تو ہم کینڈیز لے کر کھائیں گے۔ اگر ڈاکٹر انکل نے کہا کہ کینڈیز نہیں کھانی تو پھر ہم ان سے پوچھیں گے کہ ہم کونسی چیز کھائیں۔۔۔”

اکثر بچے گھر کے لاڈ پیار والی فضا میں ماں باپ کی کوئی بات سن کر نہیں دیتے۔ بے جا ضد کرتے ہیں۔ اتنے چھوٹے بچے کو سخت ڈانٹنے کی بجائے آسان نفسیاتی حل تلاش کرنا ہوتے ہیں۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ آپ خاندان میں سے کسی انکل یا گھر سے قریب کسی ڈاکٹر انکل کو بچے کے روبرو معتبر شخصیت بنا کر پیش کریں۔۔۔۔ امید ہے آپ یہ بات سمجھ گئے ہوں گے۔ اوپر کہانی میں بھی اس کا اشارہ دے دیا گیا ہے۔ آگے بڑھتے ہیں۔

اگلا پوائنٹ یہ ہے (جیسا کہ پری مونٹیسوری اور مونٹیسوری کی سطح پر اہتمام کیا جاتا ہے) کہ بچّے کے شعور میں اضافہ کرنے کو اشیاء کی گروپنگ کرنا سکھائیں۔ مثلاً، وہ جان لے کہ پرندہ ایک ایسی مخلوق ہے جو ہوا میں اُڑتی ہے۔ اب اسے چند پرندوں کے نام یاد کرا دیں۔ گُوگل اور یُو ٹیوب پر اُن کی تصاویر دکھا دیں۔ نیز کسی zoo اور پارک وغیرہ میں لائیو بھی دکھا دیں۔

اسی طرح، جانور کا تصوّر اور چند جانوروں کے نام۔ ان کی ایک یا دو کامن خصوصیات ازبر کرا دیں جن سے ان کی گروپنگ کر دینے میں مدد ملے۔ جیسے جانور گھاس کھاتے ہیں۔ جانوروں کی چار ٹانگیں ہوتی ہیں۔

گھر میں موجود ایسی اشیا کی گروپنگ جو بہت آسان اور واضح ہو۔ مثلاً، کچن میں استعمال ہونے والی کراکری۔ ڈرائنگ روم میں پڑا فرنیچر: کرسیاں، میز، صوفہ سیٹ وغیرہ۔ بچّے کے کھلونے: وہ جان لے کہ اس کے کھیل اور تفریح کے ساز وسامان کو ٹوائز کہا جاتا ہے۔

بُک ریک میں پڑی کتابیں: جن میں چھوٹی اور بڑی سب کتابیں بہرحال کتابیں ہی ہیں۔ یوں، پتلی ہو یا موٹی، بڑی ہو یا چھوٹی، بچہ جان لے کہ اِس شکل وصورت کی شے کو کتاب یا بُک کہا جاتا ہے۔ خیر، یہ بات تو دو برس کا شیطان بھی جان لیتا ہے۔

اگلا پوائنٹ— کلر سکیم سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ رنگوں کی پہچان اور مختلف رنگوں کے ذریعے اشیاء کی گروپنگ ایک بے حد کارآمد ذریعہ ہے بچّے کی لرننگ کو بُوسٹ دینے کا۔

یاد رہے، گریڈ ون سے لے کر ماسٹرز ڈگری تک، اس سے آگے پی ایچ ڈی اور اس سے بھی آگے زندگی کی آخری سانس تک انسان اشیا اور مظاہرِ فطرت کی سٹڈی میں، زیرِ زمین دفن خزانوں سے لیکر سطحِ زمین پر برپا پراجیکٹس میں اور اوپر آسمان کی بلندی اور خلا کی وسعتوں تک اپنی جستجو کے سفر میں گروپنگ اور کلر سکیم کا سہارا لیا کرتا ہے۔ اس لئے یہ اہم ہے۔

اب ایک آخری دلچسپ بات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی دس برس ہونے کو آئے۔ اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹن میں میرے ایک دوست رہا کرتے تھے۔ ایک روز میں اُن سے ملنے گیا تو اُن کی ڈیڑھ دو برس کی بچّی نے ایک عجیب کرتب دکھایا۔ اس میں اس کے والد کی دلچسپی اور محنت صاف دیکھی جا سکتی تھی جس پر میرے دوست کو بجا طور پر فخر بھی تھا۔ والد نے بچی کو اپنی بُک لا کر دکھانے کا کہا۔ بچی کتاب لے آئی تو میرے دوست نے کہا اس کے صفحات پر نظر آتی تصاویر کے نام بے ترتیب یعنی رینڈم انداز میں بولو اور اس سے پوچھو کہ کس نام کا جانور یا پرندہ کس تصویر میں ہے۔

یہ ایک ہارڈ بورڈ بُک تھی جو اسی ایج کے بچوں کے لیے بنائی گئی ہیں تا کہ وہ انہیں پھاڑ نہ سکیں۔

خیر، میں نے دیکھا کہ کتاب میں اچّھا خاصا مواد تھا، یعنی ڈھیروں پرندوں اور جانوروں کی تصویریں، نِیز اُن کے نام۔ ظاہر ہے، وہ بچّی نہ تب پڑھ سکتی تھی، نہ زیادہ بول سکتی تھی۔ اب جو میں شروع ہوا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ جونہی میں ایک صفحہ پر موجود کسی پرندے یا جانور کا نام لیتا، بچی فوراً اپنی انگلی اس پر رکھ دیتی۔

دوست کے کہنے پر میں نے رفتار بڑھا لی تاکہ زیادہ سے زیادہ پوچھا جا سکے۔ یہ تماشا کوئی 20 منٹس تک جاری رہا یہاں تک کہ پوری کتاب ختم ہو گئی۔

نتیجہ کیا نکلا؟ — بچّے کی لَرننگ میں والدین کا جوش و خروش بے حد ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمایوں مجاہد تارڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں