8

زمین کا تعارف

زمین کا تعارف:

زمین نظام شمسی کا تیسرا سیارہ ہے۔ یہ تیسرا اس وقت ہے جب سورج کی طرف سے گننا شروع کریں۔ دوسری طرف سے گننے سے یہ چھٹا سیارہ بنتا ہے۔ یہ بھی اس وقت جب بیچارے پلوٹو کو رشتے داری سے نکال دیا جاۓ ورنہ ادھر سے گننے سے یہ ساتواں سیارہ بنے گا۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ سورج کی طرف سے آ رہے ہیں یا نظام شمسی کے باہر کہیں سے آ رہے ہیں۔ اگر باہر سے آ رہے ہیں تو اسے گننے کی ضرورت بھی نہیں، پلو بچا کر کسی دوسرے سیارے پر کھسک جائیے۔ یہاں اس سیارے پر بہت کنفیوژنز ہیں۔
زمین کے مشرق میں خلا کا مشرقی حصہ ، مغرب میں مغربی حصہ، شمال میں شمالی حصہ اور جنوب میں جنوبی حصہ واقعہ ہے۔ زمین چونکہ اپنے محور کے گرد گھومتی رہتی ہے اس لئیے یہ محل وقوع آپس میں گڈ مڈ ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر طرف چونکہ خلا ہے اس لئیے مشرق و مغرب کا سوال ہی فضول ہے اس لئیے کنفیوژن سے بچنے کے لئیے خالی خلا کا نام لیا جاۓ۔ اس طرح زمین کے ہر طرف صرف خلا موجود ہے۔ زمین کا ایک چاند ہے جسے عام زبان میں چاند بھی کہتے ہیں۔ یہ چاند اتنا بدنام ہے کہ اسے شاعروں سے لے کر محبوبوں تک نے اپنے فلسفے کا حصہ بنایا ہوا ہے اور چاند اوپر سے بیٹھ کر ہی حیرت سے یہ سب تکتا رہتا ہے۔
زمین کی عموماََ ساخت گول ہے مگر کبھی کبھار یہ چپٹی بھی ہو جاتی ہے۔ اس لئیے یہاں کے باشندوں کو یہ فیصلہ کرنے میں بہت دشواری ہے کہ جس سیارے پر وہ رہتے ہیں وہ ہے کیسی۔ کچھ فلسفیانہ زہن رکھنے والے انسانوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ زمین دراصل مستطیل ہے جو کہ ایک طرف سے پچک گئ ہے اور دوسری طرف سے چپٹی ہو گئ ہے۔ ایک طرف سے چپٹی نظر آتی ہے تو دوسری طرف دیکھنے سے گول۔ اس طرح انہوں نے ایک بہت بڑے جھگڑے کا حل نکال لیا ہے اور انسانوں کو متفق کرنے کی کوشش میں ہیں۔
زمین نطام شمسی کا واحد سیارہ ہے جس پر زندگی کے آثار موجود ہیں۔ اور اس زندگی کے متعلقہ آثار و اثرات اس سیارے پر بھی بہت نمایاں ہیں۔ یہ لائف فارمز تمام کی تمام کاربن بیسڈ ہیں اور سب کی جینیاتی انفارمیشن ایک بل کھاتی ہوئ سیڑھی کی طرح کا مالیکیول ہے۔ پھر بھی پتا نہیں کیوں لوگ یہاں بائیوڈائورسٹی کی بات کرتے ہیں۔ بحرحال، زمین پر لگ بھگ ساڑھے آٹھ ملین کے لگ بھگ سپیشیز پائ جاتی ہیں۔ سب کا زکر یہاں کرنا ممکن نہیں البتہ اگر آپ اس سیارے پر اتریں گے تو سب سے زیادہ جس نوع سے آپ کا پالا پڑے گا اس کا نام ‘انسان’ ہے۔ انسان اس سیارے کی وہ واحد مخلوق ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ سارے کا سارا سیارہ ہی ان کو وراثت میں ملا ہے اس لئیے دوسری انواع کے مسکن تباہ کرنے سے زرا بھی دریخ نہیں کرتی۔ اس لئیے اس نوع سے خاص بچ کر رہنا ضروری ہے۔
زمین دوسرے سیاروں جیسی نہیں جہاں پر آپ جہاں چاہے گھوم پھر سکتے ہیں بلکہ یہاں پر انسانوں نے زمین کے ٹکرے بانٹے ہوۓ ہیں جن کو وہ ملک کہتے ہیں اور ان میں جانے کے لئیے اجازت نامہ ضروری ہے۔ حالانکہ یہ اجازت نامے اس مخلوق کی پیدائش سے پہلے موجود نا تھے۔ زمین پر پانی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی لوگوں کو خریدنا پڑتا ہے۔ یہ پانی شہابیوں کے ٹکرانے سے آیا تھا۔
زمین اپنے محور کے گرد چکر لگانے میں چوبیس گھنٹے لیتی ہے جس سے انسانوں کو بھی بہت زیادہ چکر آتے ہیں۔ اس کا سورج کے گرد گردش کا دورانیہ ایک سال ہے۔ یہاں پر چار موسم پاۓ جاتے ہیں۔
زمین کے بارے میں مزید معلومات کے لئیے ملکی وے گلیکسی کی سنٹرل لائبریری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے مگر میرا مشورہ ہے کہ ایسی باتوں سے دور ہی رہا جاۓ۔

(عریشہ بٹ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں