5

دو سے تین برس کے بچّے کو کیسے ڈیل کیا جائے؟

دو سے تین برس کے بچّے کو کیسے ڈیل کیا جائے؟
________________________________
دو برس کا بچّہ گود سے اُتر کر بتدریج خود مختار ہونے کی راہ پر آجاتا ہے۔ وہ نہ صرف بات کر سکتا بلکہ بات کا جواب دینے کی قدرت بھی کسی درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ بالخصوص، دوسری سالگرہ کے فوری بعد آپ یہ توقّع کریں کہ اب اُس اندر ذہنی، جسمانی، معاشرتی، نفسیاتی اور جذباتی تبدیلیاں نسبتاً تیزی سے وقوع ہوں گی جن کی بنا پر بچّے میں جستجو کا عنصر تیزی سے بڑھے گا اور وہ گردوپیش کی دنیاکو سمجھنا، پرکھنا، معنی خیز طور پررِسپانڈ کرنا شروع کر دے گا۔ کیوں اور کیسے؟

جب وہ گود میں تھا تو معذور تھا۔ ہر شے اس تک لائی جاتی تھی۔ اب کے وہ خود چل کر بیشتر اشیا کو ایپروچ کر سکتا ہے۔ کاغذ ایسی نرم شے کو پھاڑ سکتا ہے۔ بیڈ پر پڑا کمبل گھسیٹ کر نیچے گرا سکتا ہے۔ تھپڑ مار سکتا، ماں کے بال کھینچ سکتا ، کانچ کا گلاس توڑ سکتا، میز پر پڑی ادویات کو گرا سکتا ہے۔ اب وہ خود سے سرگرمِ عمل ہے۔ ہر شے اس کے لئے دلچسپ ہے۔ جو شے آپ کی نظروں میں پرانی ہے، وہ اس کے لئے بالکل نئی ہے۔ وہ دنیا کو ایکسپلور کرنے نکل کھڑا ہوا ہے۔ آپ اس کی مدد کریں ـــــ ایسی سرگرمیوں میں ڈال کر جن سے وہ تعمیری انداز میں باقاعدہ کچھ سیکھے۔

اب دو طریقے ہیں اِس عمر کے بچّے کو ڈیل کرنے کے:
پہلا: جیسا کہ ہمارے سماج میں بیشتر ہوتا ہے، صبح آنکھ کھلنے سے آغاز ہو کر رات آنکھ لگنے تک بچّے کو اپنے حال پر چھوڑے رکھو۔ آپ اوردیگر بڑے اُس کی گال پر دو چار درجن” پاریاں” جَڑ دو۔ کسی شے کو ہاتھ لگائے تو چیخ اٹھو “نئیں!!” وغیرہ۔
دوسرا: جیسا کہ سمجھدارمغربی دنیا کی مائیں ( نیز ہمارے یہاں بھی بعض خوب ایکٹو، خوب آگاہ قسم کی پڑھی لکھی مائیں) کیا کرتی ہیں، کہ بچّے کو بھرپور مدد فراہم کی جائے۔ کس شے میں؟

اُس اندر وقوع ہوتی تبدیلیوں کو چھوٹی چھوٹی ایکٹوٹیز کے ذریعے سمت عطا کرنے یعنی انہیں navigate کرنے میں، تا کہ وہ اپنے رویّے، حرکات وسکنات، خیالات اور احساسات کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔ اُس اندر بھری توانائی اُسے کچھ مثبت دلا سکے ۔اُس کی بھاگ دوڑ اور بظاہر “تخریب کاری” کودنیائے علم و شعور میں اور چائلڈ ڈویلپمنٹ میں thirst of knowledge کہا گیا ہے۔ ہرشے چونکہ اس معصوم کی نظروں میں نئی ہے۔ وہ اُسے جانناچاہتا ہے۔

ایسے کھلونے لیکردیں، اورایسی سرگرمیاں ترتیب دیں کہ بچّہ اُن میں پڑ کراِس دنیا کے سسٹمز کو سمجھنا شروع کر دے۔ اس کے دماغ کی وائرنگ کسی طوراِس دنیا میں دِکھتے مظاہر کیساتھ رِی لیٹ کر جائے۔ ساتھ ہی ساتھ، اس بات کا خیال رہے کہ بچے اندر انسانی نفس ہے جو feeling of achievement کا تقاضا کرتا اوراس پر حوصلہ افزائی چاہتا ہے۔ آپ روزانہ ایک مخصوص مقدار میں اُسے یہ فیلنگ مہیّا کریں۔ وہ کچھ پرفارم کرے، اَچِیو کرے، اور اس پر اس کی ہمت افزائی ہو۔
اس عمل سے کیا ہو گا؟

بچّے میں اپنی ذات، اپنے کئے پر اعتماد پیدا ہو گا۔ اُس میں اسکی عمر کی مناسبت سے چھوٹی چھوٹی سکِلز پیدا ہوں گی (ان کی فہرست اسی تحریر میں ذرا آگے) جو اُس اندر ایک سسٹم ڈویلیپ کر ڈالیں گی۔ یہ سسٹم یا نظام اسے اگلے مراحل کی زیادہ تر چیلنجنگ سکِلز سیکھنے میں معاون ہو گا۔ اس کے دماغ کی وائرنگ اس طور شیپ ہو جائے گی کہ وہ ہر نئے مرحلہِ تحصیلِ علم و آگاہی کو ہضم کر سکے، نہ کہ راہِ فرار اختیار کرے۔ یاد رہے، ایسے بچے جو اگلے مراحل میں بے زاری کا اظہار کرتے اور ناکام ہوتے ہیں، اُن کی دنیا میں یہی خلا چلا آرہا ہوتا ہے۔
اس لئے لازم ہے کہ بچّے کو ہر روز کوالٹی ٹائم دیا جائے۔ کیسے دیا جائے؟ آگے بڑھتے ہیں۔

دو سے تین برس کی عمر کو ماہرین نےبچے کی نشوونما کے مراحل میں ایک میجر سٹیج کے بطور گردانا ہے۔ کیوں؟ چونکہ اِس سٹیج پر بچے میں زبان دانی کی مقدار شُوٹ کر جاتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اُسے یہ احساس ملنا شروع ہو جاتا ہے کہ وہ ایک آزاد و خود مختار ہستی ہے۔ کیسے؟ اس کا جواب اوپر دیا جا چکا۔

اب وہ سرگرمیاں ہیں کیا؟ یہ ایکٹوٹیز کس نوعیت کی ہونی چاہئیں؟
بس کچھ ایسی کہ جن میں لینگویج کا استعمال ہو، بچّہ منہ سے کچھ بولنے پر مجبور ہو جائے، نئے الفاظ سیکھے۔ نیز، اس کی تخیلاتی قوت میں بھی اضافہ ہو۔

ایکٹوٹی نمبرایک
ـــــــــــــــــــــــــــ
دیکھیں، ٹیب اور موبائل فون پر کارٹون اورpoems لگا کر دینا، ٹیلی ویژن سکرین پر بے بی چینل لگا کر بٹھا دینا اچّھا ہے، یقیناً اچھا ہے۔ اِس سے ایکطرف تو بچّے کو بنا بنایا ڈھیروں مواد خوب ورائٹی میں میسّر آگیا۔ اس نے لینگویج بھی سنی، اور اشیا کے تحرّک کو بیسیوں انداز اوررنگوں میں دیکھا۔ اُدھر آپ نے کچھ وقت چرا کر گھر کے کام نمٹا لئے۔ تاہم، یاد رہے، اس میں برائی یہ ہے کہ آپ بچے کو طویل دورانئیے کے لئے سکرین کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں۔ یہ شے بچّے کی اپنی تخلیقیت کے لئے زہرِقاتل ہے۔ یعنی اگر اُس نے عملاً متحرّک ہو کرکچھ نہ کیا۔

فون سکرین پر متحرّک تصویروں کیساتھ نظمیں دیکھنا سننا اچھا ہے کہ وہ سب مواد آخر بچے اندر ہی جا رہا ہے، لیکن خود آپ کا بہ آوازِ بلند نظمیں پڑھنا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ بچّہ آپ کے دیکھا دیکھی وہ نظمیں پڑھنا شروع کر دے گا۔ساتھ میں آپ ہاتھ بازو کے استعمال سے پرفارم بھی کریں۔ نقّال بندرآپ کو فالو کرے گا۔ اب دیکھیں، لینگویج آئی، فیلنگ آف اچیومنٹ آئی، سُر ساز لَےبھی آئے۔

جانتے ہیں سب سےاہم کیا شے ملی؟ اس عمل میں سب سے اہم سکِل ہے ہدایات کو فالو کرنا۔ آپ کو فالو کرتے میں جو باڈی جیسچرز یعنی حرکات اُس نے سیکھیں، انہیں بار بار دوہرایا، لطف اٹھایا، تو گویا اس نے جان لیا کہ آپ کی ہدایات پر عمل کرنے سے کچھ اچھا میسّر آتا ہے۔

نتیجہ؟ اوّل، بچے میں انسٹرکشن کو فالو کرنے، دوسروں کو بہ دھیان سننے دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی ۔ یہ بڑی خوبی کی بات ہے۔ دوئم، آپ کے ساتھ بچے کی ایسوسی ایشن بڑھ گئی۔ چائلڈ ڈویلپمنٹ میں اِس ریلیشن کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔اس لئے بچے کو سکرین کے حوالے کر کے خود سُکھ کی سانس لینے پر اکتفا نہ کیا جائے۔

ایکٹوٹی نمبر دو
ــــــــــــــــــــــــــ
چھپائی گئی شے تلاش کرنا- اس ایکٹوٹی میں آپ بچے کا ایک کھلونا یا کھلونوں سے بھری ایک باسکٹ/پاؤچ گھر میں کسی جگہ چھپا دیں، اور بچے سے کہیں تلاش کرکے دکھائے۔ اس تلاش میں آپ پوری طرح اس کے ساتھ رہیں۔ ساتھ میں مددگار اشارے بھی فراہم کریں۔ مثلاً، بچے کو گائیڈ کرتے ہوئے آپ کہہ سکتے ہیں کہ چھپائی گئی گاڑی (کھلونا) ایک ٹھنڈی/کولڈ جگہ پر ہے۔ یا گرم/ہاٹ جگہ پر ہے۔

نتیجہ؟ اوّل، بچے میں انسٹرکشن کو فالو کرنے، دوسروں کو بہ دھیان سننے دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔ دوئم، پرابلم سالونگ یعنی مسئلہ یا پیچیدگی کا حل تلاش کرنے کی مشق ہوئی۔ سوئم، سوشل سکِل یعنی بچہ آپ کیساتھ انٹرایکشن میں رہا۔چہارم، اس میں یادداشت بھی مضبوط ہوئی یا اس کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔ پنجم، لینگویج سکِل بڑھی چونکہ اس میں مختلف مقامات پر جا کر اشیا کے نام لیکر پکارا گیا۔ جیسے، اگر آپ نے کہا کہ گاڑی کسی ہاٹ شے کے پاس رکھی ہے تو آپ کچن میں پڑے چولہے، اسی طرح گیزر، اور دیگر گرم دِکھتی اشیا کے پاس گئے۔

ایکٹیوٹی نمبر تین: سٹاپ اینڈ گو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
رکو اور چل پڑو والے کھیل میں کچھ بھی کھیلا جا سکتا ہے، جیسے ریڈ لائٹ، گرین لائٹ۔ ایسا کھیل بچّے میں سیلف کنٹرول پیدا کرتا ہے، اور کمپرومائز کرنے کا احساس مضبوطی سے اس اندر جما دیتا ہے۔ گویا یہ خود سری، اور بے قابو پن کا شافی علاج ہے۔ (نیچے کامنٹ باکس میں ایک یُوٹیوب ویڈیو شیئر کر رہا ہوں۔ اس گوری کی باتیں سنیں، نیز دیکھیں وہ کیا کیا مواد دکھا اور کیسے برت رہی ہے۔)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمایوں مجاہد تارڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں