7

کیا ہم میٹرکس میں رہ رہے ہیں؟ کیا ہماری کائنات کسی کمپیوٹر میں چلتا ہوا پروگرام ہے؟

کیا ہم میٹرکس میں رہ رہے ہیں؟ کیا ہماری کائنات کسی کمپیوٹر میں چلتا ہوا پروگرام ہے؟

۱۔ سائنس کیا کہتی ہے:

سائنس میں ایسے مفروضہ جات بناۓ جاتے ہیں جن کو ٹیسٹ کیا جا سکے اور انہیں غلط قرار یا صحیح قرار دینے کے لئیے تجربات تشکیل دیے جا سکیں۔ یہ مفروضہ کے کائنات کسی کمپیوٹر کے اندر چلتا ہوا پروگرام ہے اسے غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا یعنی یہ falsifiable نہیں ہے۔ اور جو مفروضہ falsifiable نہ ہو اور اسے ٹیسٹ نا کیا جا سکے وہ سائنسی مفروضہ نہیں ہوتا اور نا ہی اسے سائنسی نظریے کی شکل دی جا سکتی ہے۔ (سائنسی نظریے کے لئیے بار بار تجربات پر پورا اترنا لازم ہوتا ہے)۔ تو سائنس کے مطابق یہ مفروضہ سائنسی مفروضہ نہیں۔

۲۔ کوانٹم پیچیدگی: ( quantum complexity)

شطرنج کا ایک بورڈ لیں جس میں چونسٹھ خانے ہوتے ہیں۔ پہلے خانے میں ایک چاول کا دانہ رکھیں، دوسرے میں ڈبل کر کے دو، تیسرے میں چار اور اس طرح ہر بار ڈبل کرتے جائیں۔ چونسٹھویں خانے پر پہنچتے ہوۓ اتنے چاول چاہئییں ہوں گے جتنی زمین ڈیڑھ سو سال میں پیدا کرتی ہے۔ (اس سے ایک بادشاہ بھی دیوالیہ ہوا تھا کہانی میں 😄)۔ اس کی وجہ قوت نمائ اضافہ ہے۔ قوت نمائ اضافے سے مقدار تھوڑے وقت کے بعد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
سائنسدان بھی فزکس کے عوامل کو کمپیوٹر پر simulate کرتے ہیں۔ ایک پیپر ( جوکہ نیچے لنک میں دیکھا جا سکتا ہے) میں کوانٹم سسٹم کو سمولیٹ کرنے کے لئیے کوانٹم مونٹے کارلو (Quantum Monte Carlo) کا طریقہ استعمال کیا گیا ہے۔ سائنسدانوں نے جب اس طریقے سے کوانٹم ہال ایفیکٹ (quantum Hall effect) کو سمولیٹ کیا تو انہوں نے دیکھا کہ ایک الیکٹرون کے ایفیکٹ کو سمولیٹ کرنے کے لئیے جتنی کمپیوٹیشن چاہئیے ہوتی ہے یا جتنی پیچیدگی (complexity) ہوتی ہے ایک الیکڑوان مزید سمولیٹ کرنے سے اس میں قوت نمائ اضافہ (exponential increase) ہوتا جاتا ہے۔ اس قوت نمائ اضافے کے مطابق محض کچھ سو الیکٹرونز کو سمولیٹ کرنے کے لئیے جتنی میموری (memory) چاہئیے ہو گی اس کے لئیے کائنات کے سارے ایٹمز بھی استعمال کریں تو ناکافی ہوں گے۔ پینسل کے ایک نقطعے میں کھربوں ایٹمز ہوتے ہیں۔ ان کے کھربوں الیکٹرونز کے ایفیکٹ کی پیچیدگی کو قوت نمائ اضافے کے ساتھ دیکھا جاۓ تو سمولیشن بنانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ پھر یہ ایک نقطعہ تھا۔ پوری زمین، اور کہکشاں جس میں اربوں ستارے ہیں انہیں کوانٹم لیول پر سمولیٹ کرنس۔ پھر پوری کائنات۔
تو کم از کم ہمارے موجودہ علم کے مطابق تو کائنات کا سمولیشن ہونا ناممکن ہے۔
مگر کیا جس نے سمولیشن کی ہے وہ بھی انہیں قوانین پر پابند ہو گا اور کیا وہ اس مشکل کو حل کرتا سکتا ہے اس کا پتا لگانے کا ہمارے پاس کوئ طریقہ نہیں اس لئیے سائنسی طور پر اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔

۳۔ آکم کا استرا۔

آخر میں آکم کے استرے سے بات ختم کرتی ہوں۔ آکم کے استرے کے مطابق ممکنہ وضاحتوں میں وہ وضاحت قابل قبول ہو گی جو سادہ ہو اور کم مفروضے رکھتی ہو۔ اگر میں امتحان میں فیل ہو جاؤں تو اس کی دو وضاحتیں ہو سکتی ہیں۔ پہلی وضاحت یہ کہ میرے جواب غکط تھے۔ دوسری وضاحت یہ کہ کسی کو مجھ سے کوئ مسلہ تھا اس لئیے اس نے رات کے اندھیرے میں کالج جا کر میرا پیپر چوری کیا، ایک اور پیپر کی کاپی بنائ، اس پر میرا نام لکھ کر نیچے غلط جواب لکھ دیے اور دوبارہ کالج جا کر فیک پیپر وہاں رکھ دیا جس سے میں فیل ہو گئ۔ اگرچہ دوسری وضاحت بھی ممکن ہے مگر اس میں بہت زیادہ مفروضہ جات ہیں اس لئیے پہلی سادہ وضاحت کو ہم مان لیتے ہیں کہ میرے جواب غلط تھے۔
کائنات بگ بینگ کے نتیجے میں وجود میں آئ اس کے بعد طبعی قوانین کے مطابق اس میں تبدیلیاں ہوتی رہیں جن کو ہم طبعی قوانین کی مدد سے بیان کر سکتے ہیں۔ ہائیڈروجن کیسے چودہ بلین سالوں میں انسان بناتی ہے اسے ہم سادہ قوانین سے بیان کر سکتے ہیں اور یہی کائنات حقیقی ہے۔
دوسری وضاحت ہزاروں مفروضہ جات سے بھری ہوئ ہے اور سوال کا جواب دینے کی بجاۓ مزید سوال پیدا کرتی ہے۔
کیا جنہوں نے سمولیشن بنائ وہ بھی مادی ہیں؟
کیا ان پر بھی یہی قوانین لاگو ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو وہ کن قوانین پر چلتے ہیں؟
ان کی کائنات کیسے بنی؟ کیا وہ شعور رکھتے ہیں؟ کیا ان میں بھی الیکٹرونز پروٹونز نیوٹرونز ہوتے ہیں؟ کیا وہ کوانٹم فزکس کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں؟ ان کی کائنات کے قوانین کو کیسے ماڈل کیا جاتا ہے؟
کیا ان کی کائنات بھی کسی اور کائنات میں بسنے والوں کی سمولیشن ہے؟ کیا وہ وہ ٹائم اور سپیس میں ہیں؟ اگر ٹائم اور سپیس میں نہیں تو ان کا وجود کیسا ہے؟
آپ دیکھیں کہ اس سے اتنے مفروجہ جات اور سوال پیدا ہوتے ہیں اور پہلی وضاحت بہت سادہ ہے۔ اس لئیے ہم یہاں اوکم کا استرا استعمال کرتے ہوۓ پہلی وضاحت کو مان لیتے ہیں۔

۴۔ حقیقی کس کے لئیے؟
اگر بالفرض یہ کائنات حقیقی نہیں بھی ہوتی اور کمپیوٹر سمولیشن ہوتی ہے تو ہمارے لئیے تو یہ کائنات ہی حقیقی ہے۔ ہمارے جذبات، احساسات، دوست، رشتے دار سب ہمارے لئیے تو حقیقی ہی ہیں۔ تو جب حقیقی کی بات آتی ہے تو ہمارے ریفرینس فریم سے تو غیر حقیقی کائنات کی بات لایعنی ہو جاتی ہے۔ ہمارے فریم آف ریفرینس سے ہمارے لئیے یہ کائنات حقیقی ہے۔

کوانٹم پیچیدگی پر پیپر اس لنک سے۔
‏http://advances.sciencemag.org/content/3/9/e1701758
آکم کے استرے پر پوسٹ۔
‏https://www.facebook.com/groups/ScienceKiDuniya/permalink/1174210972747437

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں