8

کائنات کے بنیادی کانسٹینٹ

کائنات کے بنیادی کانسٹینٹ
ترجمہ و تلخیص: قدیر قریشی
نومبر 23، 2018

ہماری کائنات کچھ بنیادی ذرات، کچھ بنیادی قوتوں اور ان کے آپسی تعاملات سے تشکیل پائی ہے- یہ تعاملات سپیس اور ٹائم میں طے پاتے ہیں- بنیادی ذرات آپس میں تعاملات کر کے نئے پارٹیکلز بنا سکتے ہیں، ایک دوسرے کو دفع کر سکتے ہیں، انہیں اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں اور آپس میں کئی قسم کے تعاملات کر سکتے ہیں- یہ تمام تعاملات کوانٹم فزکس کے اصولوں کے تحت ہوتے ہیں- ان اصولوں اور کائنات کے آغاز کے حالات (یعنی initial conditions) سے ہم کائنات کے ارتقاء اور اس کی موجودہ حالت کی بہترین توجیہات پیش کر سکتے ہیں نیز اس کے مستقبل کے بارے میں بخوبی پیش گوئیاں کر سکتے ہیں- البتہ کائنات سے متعلق کچھ پہلو ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم جانتے تو ضرور ہیں لیکن ہمیں ان کی وجوہات معلوم نہیں ہیں- ان میں سر فہرست وہ کانسٹینٹ ہیں جو کائنات کو بیان کرنے والے ریاضیاتی فارمولوں میں استعمال ہوتے ہیں- ہمیں ان کی ویلیو تو معلوم ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی ویلیو عین وہی کیوں ہے کچھ اور کیوں نہیں-

ایک الیکٹران کو ہی لیجیے- الیکٹران کسی بھی دوسرے الیکٹران کو برقی چارج یکساں ہونے کی وجہ سے دفع کرتا ہے لیکن ان دونوں کے ماس کی وجہ سے ان میں کششِ ثقل بھی پائی جاتی ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے- الیکٹران کا ماس m اور چارج q کائنات میں ہر جگہ ایک سے ہیں- دو ایک جیسے چارجز کی دفع کی قوت سپیس کی permittivity کے معکوس تناسب میں ہوتی ہے جبکہ ان کی کششِ ثقل کائنات کے ثقلی کانسٹینٹ G کے متناسب ہوتی ہے- اسی طرح پلانک کا کانسٹینٹ h اور روشنی کی رفتار C بھی ایسے ہی کانسٹینٹس ہیں جو کائنات میں ہر جگہ ایک ہی قیمت رکھتے ہیں- لیکن ان میں سے ہر کانسٹینٹ کے units اور dimensions مختلف ہیں جس سے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ کانسٹینٹس در اصل arbitrary ہیں یعنی fundamental نہیں ہیں بلکہ صرف اس وجہ سے دیکھنے میں آتے ہیں کہ ہم بنیادی پارٹیکلز کی خصوصیات کو اپنے وضع کردہ پیمانوں سے ناپتے ہیں اور یہ پیمانے صرف ہم نے اپنی سہولت کے لیے وضع کیے ہیں یعنی یہ arbitrary ہیں-

فزکس کی موجودہ سمجھ کے مطابق کائنات کے بنیادی کانسٹینٹس مندرجہ ذیل ہیں-

1. فائن سٹرکچر کانسٹینٹ (Fine-structure constant): یہ کانسٹینٹ برقی مقناطیسی تعاملات کی قوت متعین کرتا ہے- ہماری کائنات میں اس کانسٹینٹ کی ویلیو تقریباً 1/137 ہے

2. سٹرانگ کپلنگ کانسٹینٹ (Strong coupling constant): ایٹم کے مرکزے میں پروٹانز مثبت برقی چارج رکھتے ہیں اور ایک جیسے چارجز ایک دوسرے کو پرے دھکیلتے ہیں- چنانچہ مرکزے میں موجود پروٹانز کو ایک دوسرے کو دھکیل کر مرکزے سے خارج کر دینا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا- اس کی وجہ یہ ہے نیوکلیئر سٹرانگ فورس جو بہت ہی کم فاصلوں پر فعال ہوتی ہے برقی مقناطیسی قوت سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے جو مثبت چارج کے حامل پروٹانز کو مرکزے میں اکٹھا رکھتی ہے- اس قوت کی مقدار سٹرانگ کپلنگ کانسٹینٹ سے متعین ہوتی ہے جس کی ویلیو کائنات میں ہر جگہ ایک سی ہے-

3. بنیادی ذرات کا ماس: کوانٹم فزکس کے سٹینڈرڈ ماڈل میں پندرہ بنیادی ذرات ہیں جو ماس کے حامل ہیں- سائنس دانوں کو کئی دہائیوں سے یہ امید رہی ہے کہ ہمیں کوئی ایسا بنیادی نظریہ میسر آ جائے گا جس سے بنیادی ذرات کے ماس کی پیش گوئی کی جا سکے لیکن ابھی تک ایسا کوئی نظریہ میسر نہیں ہے- چنانچہ بنیادی ذرات کے ماس کو کائنات کے کانسٹینٹس کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے- سائنس دان اب بھی پرامید ہیں کہ مستقبل میں کوئی ایسا بنیادی نظریہ وضع کر لیا جائے گا جو مختلف بنیادی ذرات کے ماس کی درست پیش گوئی کر سکے گا- فی الحال بنیادی ذرات کا ماس صرف تجربات سے ہی معلوم کیا جا سکتا ہے، کسی بھی نظریے سے ان کے ماس کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی-

4. کوارکس مکسنگ پیرامیٹرز (Quark mixing parameters): ہم چھ مختلف کوارکس دریافت کر چکے ہیں- مختلف کوارکس آپس میں مل کر مختلف پارٹیکلز تشکیل دیتے ہیں جن کی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں- مثال کے طور پر پروٹانز اور نیوٹرانز تین تین کوارکس سے مل کر بنتے ہیں لیکن پروٹانز اور نیوٹرانز کی خصوصیات بالکل مختلف ہیں- کوارکس کے آپس میں ملنے کے قواعد چار کانسٹینٹس کنٹرول کرتے ہیں جنہیں مجموعی طور پر کوارکس مکسنگ پیرامیٹرز کہا جاتا ہے- ان پیرامیٹرز سے ویک نیوکلیئر فورس کی طاقت، تابکاری کی وجہ سے decay، اور CP violation کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے- تاہم یہ پیرامیٹرز صرف پیمائش سے ہی معلوم کیے جاتے ہیں ان کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی-

5. ںیوٹرینو مکسنگ پیرامیٹرز (Neutrino mixing parameters): کوانٹم فزکس کے سٹینڈرڈ ماڈل کی رو سے کائنات میں تین مختلف قسم کے نیوٹرینو پائے جاتے ہیں- جب نیوٹرینو دریافت ہوئے تو سائنس دانوں کا خیال تھا کہ نیوٹرینو کا ریسٹ ماس صفر ہے اور یہ خلا میں روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہیں- تاہم بیسویں صدی کے آخر میں سائنس دانوں پر یہ انکشاف ہوا کہ نیوٹرینو کا ریسٹ ماس صفر نہیں ہے اگرچہ اس کا ماس انتہائی کم ہے- اب ہم یہ جانتے ہیں کہ نہ صرف نیوٹرینو ماس رکھتے ہیں بلکہ ایک قسم کے نیوٹرینو دوسری قسم کے نیوٹرینو میں تبدیل بھی ہو جاتے ہیں- اگر نیوٹرینو ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہوتے ہیں تو یقیناً کچھ طبعی قوانین ضرور ہیں جن کے تحت یہ تبدیلی رونما ہوتی ہے- اس تبدیلی کی شرح کو چار کانسٹینٹ کنٹرول کرتے ہیں جنہیں ںیوٹرینو مکسنگ پیرامیٹرز کہا جاتا ہے- ان پیرامیٹرز کو بھی صرف تجربات سے ہی معلوم کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی پیش گوئی ممکن نہیں ہے-

6. کائناتی کانسٹینٹ (Cosmological constant): کائناتی کانسٹینٹ کی کہانی انتہائی دلچسپ ہے- بیسویں صدی کے آغاز تک تمام سائنس دانوں کی متفقہ رائے یہ تھی کہ کائنات جامد ہے اور ہمیشہ سے ایسی ہی ہے جیسی آج نظر آتی ہے- یہ نکتہِ نظر ہزاروں سالوں سے تسلیم شدہ تھا جس کے بارے میں کسی شک وہ شبہ کی گنجائش ہی نہیں تھی- جب آئن سٹائن نے نظریہ اضافت کی مساوات اخذ کیں اور ان سے کائنات کو بیان کرنے کی کوشش کی تو یہ مساوات چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ کائنات جامد نہیں ہے- آئن سٹائن کو کائنات کے جامد ہونے کا یقین اس قدر تھا کہ اس نے اپنی مساوات میں ایک نیا کانسٹینٹ از خود داخل کر دیا جس کے بعد یہ مساوات کائنات کو جامد بتلانے لگیں- آئن سٹائن نے اس کانسٹینٹ کو کائناتی کانسٹینٹ کا نام دیا- لیکن اس مساوات پر مبنی پیپر کے شائع ہونے کے کچھ ہی سالوں بعد مشہور ماہر کونیات ایڈون ہبل نے اپنے مشاہدات سے یہ ثابت کر دکھایا کہ کائنات جامد نہیں ہے بلکہ پھیل رہی ہے- یہ سنتے ہی آئن سٹائن نے اس کائناتی کانسٹینٹ کو اپنی مساوات سے نکال باہر کیا اور اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا-

لیکن فطرت آئن سٹائن کو ایک دفعہ پھر غچا دے گئی- بیسویں صدی کے آخر میں مشاہدات سے یہ ثابت ہوا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے- چنانچہ اس پھیلاؤ کو درست طور پر ظاہر کرنے کے لیے آئن سٹائن کی مساوات میں کائناتی کانسٹینٹ کو دوبارہ شامل کرنا پڑا اگرچہ اس دفعہ اس کی وجہ کائنات کو جامد ثابت کرنا نہیں تھا بلکہ کائنات کے پھیلاؤ کی شرح میں تیزی کو شامل کرنا تھا- اکثر سائنس دان کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ ڈارک انرجی کو بتلاتے ہیں تاہم ڈارک انرجی کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے- اگر مستقبل میں ڈارک انرجی کی بہتر سمجھ پیدا ہو جاتی ہے تو عین ممکن ہے کہ کائناتی کانسٹینٹ کی ویلیو کی پیش گوئی کی جا سکے- لیکن فی الحال اس کی ویلیو صرف مشاہدات سے ہی معلوم کی جا سکتی ہے-

تو قصہ کچھ یوں ہے کہ اگر ہمیں کائنات کے آغاز کے حالات کے بارے میں علم ہو، کائنات کے طبعی قوانین کا علم ہو، سٹینڈرڈ ماڈل کا علم ہو اور ان طبعی کانسٹینٹس کا علم ہو تو ہم کائنات کے ارتقاء کا حال لمحہ بہ لمحہ جان سکتے ہیں- کمپیوٹر سییمولیشن سے ہم کائنات کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کر سکتے ہیں اور بنیادی ذرات کے تعاملات سے لے کر پوری کائنات سے متعلق مشاہدات کا اپنی کمپیوٹر سیمولیشن کے نتائج سے مقابلہ کر کے اپنے ماڈلز کی درستگی کو ثابت کر سکتے ہیں-

آرٹیکل کا لنک
https://www.forbes.com/…/how-many-fundamental-constants-doe…

اردو زبان میں سائنس کے ویڈیوز دیکھنے کے لیے ہمارا یوٹیوب چینل وزٹ کیجیے https://www.youtube.com/sciencekidunya

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں