9

خون کی سپلائی منقطع ہونے سے دماغ کے نیورونز ناکارہ کیوں ہو جاتے ہیں

خون کی سپلائی منقطع ہونے سے دماغ کے نیورونز ناکارہ کیوں ہو جاتے ہیں
قدیر قریشی
نومبر 21، 2018

اگر آپ کی کار کے انجن کو پٹرول کی سپلائی رک جائے تو کار کا انجن بند ہو جاتا ہے- لیکن پٹرول ڈالنے کے بعد کار کا انجن دوبارہ اسٹارٹ ہو جاتا ہے اور کار دوبارہ نارمل حالت میں کام کرنے لگتی ہے- اس کے برعکس اگر دماغ کے نیورونز کو کسی وجہ سے خون کی سپلائی منقطع ہو جائے تو چند منٹ کے اندر اندر نیورونز مرنے لگتے ہیں اور اگر خون کی سپلائی کو بروقت بحال نہ کیا جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے- دماغ میں آخر ایسا کیا ہے جو چند منٹ بھی آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا؟

انسانی دماغ میں سو ارب کے لگ بھگ نیورونز ہیں- ان میں سے ہر نیورون فائر کرنے کی اہلیت رکھتا ہے- فائر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کو دوسرے نیورونز سے سگنل ملے اور اس کے مقامی حالات مناسب ہوں (یعنی کوئی اور وجہ نہ ہو جو اسے فائر کرنے سے روکے) تو یہ نیورن اچانک وولٹیج کی ایک برسٹ چھوڑتا ہے- یہ برسٹ ان نیورونز تک پہنچتی ہے جو فائر کرنے والے نیورون سے منسلک ہیں- ان میں سے ہر نیورون بہت سے دوسرے نیورونز سے بھی منسلک ہے- چنانچہ اگر کسی بھی نیرون کی input میں بہت سے نیورونز فائر کر رہے ہوں اور یہ مجموعی سگنل ایک مخصوس وولٹیج (جسے تھریشولڈ کہا جاتا ہے) سے تجاوز کر جائے تو یہ نیورون بھی فائر کرنے لگتا ہے- فائر کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے یہ نیورون ناکارہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس پر موجود الیکٹرک پوٹینشل فائر کرنے کی وجہ سے زائل ہو جاتا ہے- خون کی مسلسل سپلائی جاری ہو تو تھوڑی دیر میں سوڈیم اور پوٹاشیم کے ions کی وجہ سے یہ پوٹینشن دوبارہ قائم ہو جاتا ہے اور یوں نیورون دوبارہ فائر کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے-

گویا سوڈیم اور پوٹاشیم کے ions کی مناسب مقدار میں موجودگی نیورونز کی فائرنگ کے لیے لازم ہے- آکسیجن بھرے خون کی مسلسل سپلائی ions کی مقدار کو اعتدال میں رکھتی ہے- اگر کسی وجہ سے دماغ کو خون کی سپلائی منقطع ہو جائے تو نیورونز میں سوڈیم کے ions کی مقدار بڑھنے لگتی ہے کیونکہ خون کی سپلائی منقطع ہو جانے سے وہ ion pump کام کرنا بند کر دیتے ہیں جو سوڈیم کے ions کو نیورونز سے خارج کرنے کا کام کرتے ہیں- سوڈیم کے ions کی زیادتی سے نیورونز کا چارج ختم ہونے لگتا ہے اور اس کا پوٹینشل صفر ہونے لگتا ہے- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پوٹاشیم کے ions نیورونز کے اندر داخل ہونے لگتے ہیں اور نیورونز میں موجود پروٹینز سے تعاملات کر کے ایسے نئے مالیکیول تشکیل دیتے ہیں جو نیورونز کی کیمسٹری کو مکمل طور پر تبدیل کر دیتے ہیں اور اس کے بعد نیورونز کبھی فائر کرنے کے قابل نہیں رہتے- ان کیمیائی تبدیلیوں کے نتیجے میں نیورونز پھولنے لگتے ہیں اور ان کی باہر کی جھلی پھٹ جاتی ہے- اس طرح نیورنز مکمل طور پر تباہ ہو جاتے ہیں اور انہیں دوبارہ بحال کرنا ممکن نہیں رہتا- یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اگر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں کنٹرول سسٹمز فیل ہو جائیں تو نیوکلیر راڈز میں تابکاری اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کی حرارت سے پورا پلانٹ پگھل کر مکمل طور پر ناکارہ ہو جاتا ہے- نیورنز کے مکمل طور پر تباہ ہوجانے کے مظہر کو ہم موت کا نام دیتے ہیں-

اگر انسانی جسم کا درجہِ حرارت کم کر دیا جائے تو ان کیمیائی تعاملات کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے- یہی وجہ ہے کہ برفانی جھیلوں میں ڈوبنے والے افراد کئی گھنٹے آکسیجن سے محروم رہنے کے باوجود طبی امداد کے ملنے کے بعد بچ جاتے ہیں جبکہ عام درجہِ حرارت پر دماغ کے نیورونز آکسیجن سے محرومی کے چند منٹ بعد ہی مرنے لگتے ہیں- ماہرین اب ایسی دواؤں پر کام کر رہے ہیں جو پوٹاشیم ions کو نیورونز کے اندر داخل ہونے سے روک سکیں- اگر ایسی دوائیں کامیات ثابت ہوں تو نہ صرف دل کے دورے اور سٹروک کے مریضوں کو موت سے بچایا جا سکے گا بلکہ مستقبل میں دور دراز کے خلائی مشن پر بھیجے جانے والے خلا بازوں کو لمبے عرصے تک سلائے رکھنے (یعنی suspended animation میں رکھنے) میں بھی کامیابی حاصل ہو گی

آرٹیکل کا لنک
https://www.huffingtonpost.com/…/why-do-neurons-die-so-qui

اردو زبان میں سائنس کے ویڈیوز دیکھنے کے لیے ہمارا یوٹیوب چینل وزٹ کیجیے https://www.youtube.com/sciencekidunya

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں