کیلکولیٹر اور الیکٹرانکس کا انقلاب 11

کیلکولیٹر اور الیکٹرانکس کا انقلاب

کیلکولیٹر اور الیکٹرانکس کا انقلاب

جیبی کیلکولیٹر آجکل ایک عام سی چیز سمجھی جاتی ہے۔ ریاضی کے سوال حل کرنے والا سستا سا آلہ۔ اور جو کام یہ کرتا ہے، اب وہ تمام کام فون پر بھی ہو جاتے ہیں لیکن اس کی ڈویلپمنٹ الیکٹرنکس کے اس انقلاب کا عکس ہے جس سے ہم سمارٹ فون اور جدید کمپیوٹر تک پہنچے۔ کئی ایسی ٹیکنالوجیز جنہیں ہم اب عام تصور کرتے ہیں، ان کو پہلی عملی شکل کیلکولیٹر کی صورت ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ملی۔ ابتدائی کیلکولیٹر ٹائپ رائٹر کے سائز کے تھے اور ان کے لئے اتنی توانائی درکار تھی کہ یہ سیل سے نہیں چل سکتے تھے۔ ان کو دیوار کے پلگ سے ساتھ لگایا جاتا تھا۔ ساتھ لگی تصویر Anita Mark 8 کی ہے جو 1961 کا کیلکولیٹر تھا۔ اس کی قیمت ایک نئی گاڑی کے برابر تھی۔ یہ بنیادی ریاضی کے فنکشن اپنی ویکیوم ٹیوب کی ٹیکنالوجی کے استعمال سے کر دیا کرتا تھا۔ یہ مہنگا کیلکولیٹر ریاضی اور اکاونٹنگ کی دنیا میں انقلاب سے کم نہ تھا۔ ٹرانسسٹر اور پھر انٹیگریٹڈ سرکٹ کی ایجاد نے ویکیوم ٹیوب کو ری پلیس کر دیا۔ ویکیوم ٹیوب اور پھر ٹرانسسٹر کا کام الیکٹران کے لئے دروازے کا کردار ادا کرنا ہے جسے کھولا یا بند کیا جا سکتا ہے۔ تمام جدید الیکٹرانکس کی بنیاد صرف ان دروازوں کو طریقے سے لگانے پر ہے۔ چھوٹے سائز سے پیچیدہ آلات کا بننا ممکن ہو جاتا ہے۔ اتٹیگریٹڈ سرکٹ کی ڈویلپمنت کرنے والے ایک انجینئیر کا تعلق ٹیکساس انسٹرومنٹس سے تھا۔ اس کمپنی کو یہ تو پتہ تھا کہ ان کے پاس ایک زبردست ایجاد آ چکی ہے لیکن اس کو استعمال کہاں کیا جائے کہ اس سے منافع کمایا جا سکے؟ یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ پھر 1965 میں سب سے پہلے جیبی کیلکولیٹر کی پروٹوٹائپ بنی۔ اس کا نام کیل ٹیک رکھا گیا۔ چار انچ چوڑائی اور چھ انچ لمبائی کا یہ آلہ یہ چار فنکشن کر سکتا تھا۔ جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم۔ اس کے لئے ہزاروں ٹرانسسٹر چاہیئے تھے۔ اس کمپنی نے اس کو ٹیسٹ کرنے کے لئے بغیر انٹیگریٹڈ سرکٹ کے بھی ایک ورژن بنایا جو کہ چھ فٹ اونچا، دو منزلہ میز کی طرح تھا۔ یہ انٹیگریٹڈ سرکٹ کی اہمیت کی مثال ہے۔ آجکل ہم انہیں مائئیکرو چپ کہتے ہیں (اور جگہ جگہ پر ان کا استعمال کیا جاتا ہے)۔ کیل ٹیک اپنے کیلکولیشن کے نتایج کو ایک تھرمل پرنٹر پر پرنٹ کیا کرتا تھا۔ یہ بھی اس دور میں ایک نئی ٹیکنالوجی تھی۔ اس میں لفظوں کو ایک خاص قسم کے کاغذ پر پگھلایا جاتا تھا۔ (جس طرح دکاندار رسید پرنٹ کرتا ہے)۔

ٹیکساس انسٹرومنٹ کی ٹیم ایک برقی ڈسپلے چاہتی تھی لیکن ٹیکنالوجی نہ تھی۔ ایل ای ڈی (LED) ابھی اپنی ابتدائی شکل میں تھی۔ ایل ای ڈی میں ایک سیمی کنڈکٹر میں برقی کرنٹ کو گزارا جاتا ہے جس سے الیکٹرانز کی حرکت روشنی پیدا کرتی ہے۔ اس کے رنگ کا انحصار اس پر ہے کہ اس میں عناصر کونسے ہیں۔ یہ کہنے میں آسان ہے، کرنے میں اتنا نہیں۔ ایل ای ڈی کے رنگوں اور روشنیوں کو کنٹرول کرنے میں کئی دہائیاں لگی ہیں (اور کئی نوبل انعام اس پر دئے جا چکے ہیں)۔ اُس دور کی ایل ای ڈی گیلیم اور آرسنک کی بنیاد پر تھی جو انفراریڈ شعاعیں خارج کرتی تھیں اور ایک مدھم سی سرخ روشنی۔ (یہ ان عناصر میں الیکٹرانز کی حرکت کی خاصیت تھی)۔ کیل ٹیک کے بعد آنے والے کیلکولیٹرز میں یہ سرخ رنگ کی ایل ای ڈی استعمال کی گئی۔ لیکن اس کے لئے بہت توانائی چاہیے تھی اور یہ سیل پر نہیں چل سکتے تھے۔

کیلکولیٹر میں اگلا انقلاب لیکوئیڈ کرسٹل ڈسپلے (LCD) تھا۔ اس میں مالیکیول مائع کی طرح حرکت کر سکتے ہیں لیکن ایک جگہ کسی کرسٹل ٹھوس کی طرح ترتیب والی شکل بنا لیتے ہیں۔ ان کی دہری شناخت کا مطلب یہ کہ یہ روشنی کو روکنے اور جانے دینے کے درمیان کی حالتوں میں تیزی بدل سکتے ہیں، جب ان کو برقی توانائی دی جائے۔ اس وجہ سے یہ برقی ڈسپلے میں استعمال ہوتی ہے۔ ابتدائی ایل سی ڈی نازک تھیں اور صرف زیادہ درجہ حرارت پر کام کرتی تھیں۔ ان میں اگلی بڑی جدت اس وقت آئی جب ان میں کچھ کیمیکلز کے اضافے سے یہ عام درجہ حرارت پر یہ خاصیت دکھا سکتی تھیں۔ اس سے اگلا بریک تھرو اس وقت جب یہ تبدیلیاں تیزی سے کرنا ممکن ہوا اور ان کو پائیدار بنانا ممکن ہوا۔ یہ ایل ای ڈی کے مقابلے میں کم توانائی خرچ کرتی تھیں۔ اس وجہ سے یہ کیلکولیٹر میں آئیں اور ایسے کیلکولیٹر بنانا ممکن ہوا جو عام گھڑی جیسے سیل پر چل سکیں۔

گھڑی اور کیلکولیٹر اس ڈسپلے کا پہلا عام استعمال تھا۔ آجکل آپ رنگین ایل ای ڈی اور ایل سی ڈی ڈسپلے کا ذکر اس وقت سنتے ہیں جب آپ ٹی وی کی بات کرتے ہیں۔

اگلی کچھ دہائیوں میں ٹیکنالوجی میں جدت کی وجہ سے کیلولیٹر ہلکے، سستے اور زیادہ طاقتور ہوتے گئے۔ پہلے صرف بزنس کے سپشئلائزڈ آلے کے استعمال سے سٹیٹس سمبل اور پھر ایک بنیادی آلہ جو ہر کسی کی پہنچ میں ہے، یہ سفر لمبا نہیں، چند دہائیوں کا ہے اور ٹیکنالوجی کا ہے۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی نے ہی اس کے آگے کے سفر کو روک دیا جب ڈیجیٹل کیمرہ، پی ڈی اے، پیجر، موسیعقی سننے والے آلات وغیرہ کی طرح یہ سب موبائل فون میں چلا گیا۔ یہ اب سکول یا کالج میں تعلیم استعمال کرنے کے دوران مدد کے لئے آلات ہیں۔

کیلکولیٹر کا سنہرا دور گزر گیا لیکن یہ کنزیومر الیکٹرانکس کے انقلاب کا بڑا اہم حصہ رہے ہیں۔ ڈسپلے اور کمپیوٹر چپ جیسی ٹیکنالوجیز کو عام کرنے میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں