7

بچوں پر چیخنے کا نقصان

بچوں پر چیخنے کا نقصان

اگر آپ ابھی والد یا والدہ کے رتبے پر فائز نہیں ہوئے تو آپ کے ذہن میں بچوں کا ایک ہی تصور ہو گا، یعنی ایک پیاری سی مسکراہٹ، قہقہے، اور شرارتیں۔ والدین کے لیے البتہ بچوں کا مطلب کچھ اور بھی ہوتا ہے۔ یہ کچھ ایسی مشکلات ہیں جن کا اندازہ صرف والدین ہی کو ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بچوں کی پرورش بہت مشکل کام ہے، اور یہ صرف بھاری اخراجات والا کام نہیں ہے بلکہ والدین کے جذبات پر بھی بہت بھاری پڑتا ہے۔ اور کچھ بعید نہیں ہوتا کہ بچوں کے روزمرہ مسائل سے تنگ آ کر والدین صبر کا دامن ہی ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں اور ان کے ساتھ سختی پر اتر آئیں، اُن پر چیخنا چلانا شروع کردیں۔

اگرچہ سختی کرنے والے والدین سمجھتے ہیں کہ بچوں پر چیخ چلا کر انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں، یا کم از کم اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکتے ہیں، لیکن ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ سائنسی جریدے ”جرنل آف چائلڈ ڈویلپمنٹ“ میں 2014ءمیں کی گئی ایک تحقیق شائع کی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ جن گھروں میں بچوں پر والدین چیختے چلاتے ہیں وہاں بچوں کی اچھی تربیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نہ صرف ان بچوں کی تربیت میں سنگین خامیاں رہ جاتی ہیں بلکہ ان میں عزت نفس کی کمی ہوتی ہے اور یہ ڈپریشن سے بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ بچوں میں نظم و ضبط کی خصوصیت پید اکرنے کے لئے اگر آپ ان پر چیختے چلاتے ہیں تو یہ ضرور جان لیں کہ اس کا فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا زور زور سے چلانا بچے کے ذہن میں یہ تاثر پیدا نہیں کرتا کہ آپ با اختیار شخصیت ہیں، بلکہ اُن کے ذہن میں آپ کی بے بسی اور کمزوری کا تاثر ابھرتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ آپ سے متاثر ہونا بالکل ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
اس بات کا مطلب یہ ہوا کہ والدین بچوں پر جتنا زیادہ چیختے چلاتے ہیں بچے انہیں اتنا ہی زیادہ کمزور اور بے بس سمجھنے لگتے ہیں اور ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ والدین جتنا مرضی چیختے چلاتے رہیں بچے ان کی بات کا کوئی اثر نہیں لیتے۔ اس رویے کا صرف نقصان ہے، فائدہ کوئی نہیں، اس سے بچوں میں نظم و ضبط اور بات ماننے کی خصوصیت پیدا نہیں ہوسکتی، بلکہ وہ ڈپریشن، ذہنی دباﺅ، پریشانی اور شخصیت کے مسائل سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں۔
بشکریہ ناصر اعوان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں