8

آسٹریلیا کی دوربین کے لیے نئی عینک

آسٹریلیا کی دوربین کے لیے نئی عینک

اگرچہ غیرشمسی سیاروں کی تلاش کے لیے ناسا کی کیپلر دوربین اب ناکارہ ہو چکی ہے اور اسے مستقل طور پر decommission کیا جا چکا ہے لیکن دوسرے ستاروں کے گرد سیارے تلاش کرنے کا عمل اب بھی جاری ہے- حال ہی میں آسٹریلیا کی ایک دوربین (جس کا نام اینگلو آسٹریلین ٹیلیسکوپ ہے) میں ایسے نئے آلات نصب کیے گئے ہیں جس کی مدد سے یہ دوربین ایسے غیرشمسی سیارے بھی تلاش کر سکتی ہے جنہیں تلاش کرنا کیپلر کے لیے بھی ناممکن تھا- کیپلر دوربین ستاروں کی روشنی میں موہوم سے کمی کو ڈیٹیکٹ کرتی تھی جب سیارہ اس ستارے کے سامنے سے گذر رہا ہو- اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ سیارے اور ستارے کی ecliptic plane ایسے زاویے پر ہو کہ ہمارے نکتہِ نظر سے سیارہ ستارے کے سامنے سے گذرے- تاہم مختلف ستاروں کی ecliptic plane مختلف ہوتی ہے اور ہمارے نکتہ نظر سے یہ کسی بھی زاویے پر ہو سکتی ہے- اگر کسی ستارے کی ecliptic plane ہمارے نکتہ نظر سے عمودی ہے (یعنی ہم اس ستارے کے محور کو دیکھ سکتے ہیں) تو اس ستارے کے سیارے ہمارے نکتہ نظر سے کبھی ستارے کے سامنے سے نہیں گذریں گے اور کیپلر اگر کام کر رہی ہوتی تو بھی ان سیاروں کو کبھی ڈیٹیکٹ نہ کر پاتی

ان سیاروں کو ڈیٹیکٹ کرنے کا ایک ممکنہ طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ ستارے کی پوزیشن میں تبدیلی پر نظر رکھی جائے- جب کسی ستارے کا سیارہ ہمارے نکتہِ نظر سے ستارے کے بالکل اوپر ہو گا تو ستارہ بھی سیارے کی کشش کی وجہ سے کچھ اوپر کھسک جائے گا اور جب یہ سیارہ ستارے کے عین نیچے ہو گا تو ستارہ بھی کچھ نیچے کھسک جائے گا- اس آسٹریلوی دوربین میں ایسے آلات نصب کیے گئے ہیں جو ستاروں کی پوزیشن میں انتہائی معمولی سی تبدیلی کو بھی ڈیٹیکٹ کر سکتے ہیں- ان آلات کا مجموی نام ویلوس (Veloce) ہے اور یہ سسٹم اتنا حساس ہے کہ نسبتاً چھوٹے سیاروں کی وجہ سے ستاروں کی پوزیشن میں پیدا ہونے والی تبدیلی کو بھی ڈیٹیکٹ کر سکتا ہے- یہ آلہ سرخ بونے ستاروں کے گرد موجود سیاروں کی دریافت کے لیے خاص طور پر موزوں ہے- اس کے علاوہ چونکہ یہ دوربین جنوبی نصف کرے (آسٹریلیا) میں ہے اس لیے اس سے جنوبی آسمان پر موجود ستاروں کا سروے ممکن ہو سکے گا- ابھی تک سیاروں کی تلاش زیادہ تر شمالی نصف کرے سے نظر آنے والے ستاروں پر ہی کی گئی ہے- اس آلے کے نتائج اگلے ماہ تک ملنا شروع ہو جائیں گے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں