6

مندر کا پنڈت ۔۔۔۔۔۔۔تحریر :محمد اسمٰعیل بدایونی

مندر کا پنڈت ۔۔۔۔۔۔۔تحریر :محمد اسمٰعیل بدایونی
میرے قدم تیزی سے مندر کی جانب بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔
آج میلاد النبی ﷺ یعنی یومِ تجدید عہد وفا ۔۔۔۔اسلام کے لیے کی گئی محنت جو نسلا ً بعدا نسلاٍ دارو رسن کے پھندوں کو چومتے ہوئے ہمارے اسلاف نے کی تھی میں اس محنت میں کچھ اپنا حصہ بھی ڈالنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
میرے قدم تیزی سے مندر کی سیڑھیوں کو پیچھے چھوڑ رہے تھے ۔۔۔۔
سامنے ہی پنڈت موجود تھا ۔۔۔۔۔۔
میں نے اسے اسلام کی دعوت دی ۔۔۔۔۔میں نے اس سے کہا
کب تک ان اندھیروں میں بھٹکتے رہو گے ۔۔۔۔۔؟
کب تک اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ ان مورتیوں کو پوجتے رہو گے ۔۔۔۔؟
کب تک ناپاکی و غلاظت میں تقدس تلاش کرتے رہو گے۔۔۔۔۔ ؟؟
کب تک مظاہر فطرت کی غیر فطری قید میں مبحوس رہو گے ؟؟؟؟
آؤ اسلام قبول کر لو ۔۔۔۔۔۔آؤ اسلام کے نور سے خود کو منور کر لو ۔۔۔۔۔۔اپنے من کوبھی اور اپنے ظاہر کو بھی روشن کر لو ۔۔۔۔۔تمہارے جو سوالات ہیں میں ان کے جوابات دینے کو تیار ہوں۔۔۔۔
پنڈت نے ایک نگاہ مجھ پر ڈالی ۔
میں سوچ رہا تھا اب یہ خدا کی واحدانیت پر مجھ پر سوالات کی بو چھاڑ کر دے گا ۔۔۔۔۔عقیدہ تو حید پر اعتراضات کے بعد یہ اپنے باطل خداؤں کے حق میں دلائل لائے گا مگر میں حیران رہ گیا جب اس نے کہا :
نوجوان ! اس میں کیا شک کہ تو جس دین پر ہے وہ سچا دین ہے ۔۔۔۔پر معلوم ہے تیرے لہجے میں وہ نور نہیں
کیسا نور ؟ میں اس کے اس جواب پر حیران رہ گیا
وہی نور جو تمہارے پیغمبر ﷺ سے تمہارے اسلاف تک پہنچا
میں پنڈت جی کی بات پر شش و پنج میں مبتلا تھا ۔۔۔۔۔۔۔کہ پنڈت نے کہنا شروع کیا
نو جوان ! میں تمہیں بہت دیر حیران و پریشان نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔
تمہیں معلوم ہے جب تمہارے پیغمبر ﷺ کوہ صفا پر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر آرہا ہے جو تم پر حملہ کر دے گا تو کیا تم میری بات کا یقین کرو گے ؟
سب نےجواب دیا ہاں کیوں نہیں ہم نے آپ کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں سُنا ۔۔۔۔۔
40 سالہ زندگی کا لمحہ بہ لمحہ ان کے سامنے تھا ۔۔۔۔
تمہاری زندگی کا لمحہ بہ لمحہ ہمارے سامنے ہے ۔۔۔۔۔ تم پر کیسے یقین کریں ؟
جاؤ نوجوان جاؤ ! اور صداقت کے نور سے خود کو منور کرو ۔۔۔۔تمہارے کردار سے نکلتی کرنیں خود اندھیروں کی چیرہ دستیوں کو دور کر دیں گی ۔۔۔۔۔کفر کے اندھیروں کا خاتمہ ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔
تمہارے اسلاف نے ہندوستان کے بت کدے میں اسی صداقت کی کرنوں سے ۔۔۔۔۔اسی کردار کی امانت و دیانت سے برسوں پرانے بتوں کو پاش پاش کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ان کی شفاف تجارت نے راجاؤں کے دل موہ لیے اور بستیوں کی بستیاں مسلمان ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔۔
تمہارا حال کتنا عجیب ہے تم اپنے ہی ہم مذہب کو دھوکا دینے سے باز نہیں آتے تمہارے جعلی چیک ،تم لوگوں کو جس تاریخ کا چیک دیتے ہو اس تاریخ میں اکاؤنٹ میں رقم نہیں ہو تی اور دیدہ دلیری سے کہتے ہو چیک تو ہے نا تمہارے پاس ۔۔۔۔تمہارے خاندانی جھگڑے عدالتوں میں ۔۔۔۔تمہارے امیر و غریب عوام وخواص سب کو دیکھو تو نور اسلام سے خالی دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
دیگر مذاہب کے لوگوں کو تو چھوڑو تم میں سے کتنے لوگ ہیں جن کے معاشی معاملات دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مکمل صاف ستھرے ہیں ۔۔۔۔۔ تمہارے اسلاف کے معاملات آپس میں تو نور اسلام سے چمکتے ہی تھے غیروں کو بھی اس کی کرنیں روشن کر دیتی تھیں ۔۔۔۔۔
میں حیرت سے اس مندر اور اس کےپنڈت کو دیکھ رہا تھا جس نے مجھ سے کوئی سوال کیے بنا مجھے لاجواب کر دیا تھا۔۔۔۔۔
میلاد النبی ﷺ تجدید ِ عہد وفا کا دن ہے دین کی اشاعت زبان و قلم سے ہی نہیں ہمیں کردار سے بھی کرنا ہوگی ۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں