13

قیادت ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

قیادت ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی
عالم ِکفر اپنی تمام تر رعونت کے ساتھ للکار رہا تھا ۔۔۔۔۔۔طاقت و دولت کے نشے میں مدہوش بد مست ہاتھی فرزندانِ اسلام کو اپنے پیروں تلے روندنے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔
دوسری جانب فرزندان اسلام کے پاس میدان ِ جہاد کے لیے ایک گھوڑا اور اسی اونٹ تھے ۔۔۔۔۔تین سو تیرہ شمع رسالت کے پروانے ساتھ ساتھ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ عالم کفر کے بد مست ہاتھیوں کی وجہ سے زمین پر فساد بڑھتا ہی جا رہا تھا ۔۔۔۔ باطل کا زور اللہ کی زمین سے مٹانا تھا ۔۔۔۔۔
مسلمانوں کے درمیان سواریاں تقسیم کر دی گئیں ۔۔۔۔۔ہر تین صحابہ کی سواری کے لیے ایک اونٹ مقرر کر دیا گیا اور اپنی ذات کے لیے بھی کوئی الگ سواری مقرر نہیں کی حالانکہ لشکر کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے ۔۔۔۔جرنیل اعظم کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ چاہتے تو اپنے لیے ایک سواری مختص کر سکتے تھے ۔۔۔۔اس پر کسی کو اعتراض بھی نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔
معلوم ہے کیا ہوا ؟
آپ ﷺ نے اپنے حسنِ عمل سے مساوات کا درس دیا ۔۔۔۔۔اپنے اونٹ کے لیے بھی تین افراد کو اپنے ساتھ شامل کیا ۔۔۔۔
لشکر روانہ ہو گیا ۔۔۔۔اللہ کے نبی ﷺ جب اپنی باری کی مسافت طے کر چکے تو آپ ﷺ سواری سے نیچے اترنے لگے تاکہ دوسرا ساتھی اس پر سوار ہو ۔۔۔۔
شمع رسالت ﷺ کے پروانوں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ہماری باری میں بھی آپ ﷺ ہی سواری پر تشریف فرما رہیں ہماری اس سے بڑی خوش نصیبی اور سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ آپ ﷺ اونٹ پر سوار ہوں نکیل ہمارے ہاتھوں میں ہو سواری کے پاؤں سے جو گرد اڑ رہی ہو وہ ہماری آنکھوں کا سرمہ اور چہروں کا غازہ بن رہی ہو ۔۔۔ یا رسول اللہ ﷺ ہماری اس مخلصانہ پیشکش کو قبول فرمائیے ۔۔۔۔۔
میرے آقا و مولیٰ ﷺ نے جو فرمایا ! خدا کی قسم وہ تا قیامت قیادت کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔۔۔۔۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا
اے میرے دوستو! تم دونوں نہ مجھ سے طاقت ور ہو اور نہ یہ بات ہے کہ مجھے اجر کی ضرورت نہ ہوصرف تمہیں اجر کی ضرورت ہو
ضیاء النبی جلد سوم صفحہ 296 از پیر کرم شاہ الازہری
آج جب میری نگاہ قائدین پر جاتی ہے تو آنکھیں جھک جاتی ہیں ۔۔۔۔۔میدان تصوف میں تو حال ہی برا ہے ۔۔۔
رہبران ِ تصوف کے مناظر کو دیکھو تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے
ایک منظر دیکھا پیر صاحب نے بڑی رعونت سے گاڑی کی چابی پھینک دی خراب ہو گئی ہے مرید چابی کو اٹھانے لگے چومنے لگے اور گاڑی ٹھیک کرا کر واپس لاکر دے دی ۔۔۔۔کہیں منظر ایسا کہ مرید کی گاڑی لے لی اور کہا ہماری گاڑی ٹھیک کرا کر لے آؤ پھر اپنی گاڑی لے جانا ( شدتِ خلوص کی اس سے زیادہ کیا آبرو ریزی ہو گی ) وہ مفت کا غلام مرید اپنے سارے کام چھوڑ کر اپنے بیوی بچوں اور دیگر معاملات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے اس مفت کی غلامی میں مصروف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔مناظر بہت ہولناک ہیں ۔۔۔۔کہاں تک سناؤں ۔۔۔۔سوال خانقاہ بنانے کا ہوتا ہے اور تعمیر کوٹھی کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
شاعر نے ایسے ہی پیروں کی ترجمانی یوں کی ہے
پڑتی ہے بنا کر ہمیں رکھنی اسی خاطر
دنیا کے بنا اپنی فقیری نہیں چلتی
چھوٹی سی جماعت ہو یابڑی، قیادت کا حال بے حال ہے ۔۔۔۔۔
آؤ اے ملت اسلامیہ کے قائدین آؤ ! کہ ہم سب نبی کریم ﷺ کی سیرت سے ۔۔۔۔حسنِ عمل سے ۔۔۔۔۔۔اپنی زندگی کو روشن کر لیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں