7

فساد کو دفع کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

فساد کو دفع کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی
ماحول بہت خراب ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ایک نیک کام کی تکمیل ،ہولناک خون خرابے کی پیشنگوئی کررہی تھی ۔۔۔۔۔
جذبات میں تناؤ صاف محسوس کیا جا سکتا تھا ۔۔۔۔۔تلواریں نیاموں سے باہر نکلنے کو بے تاب تھیں ۔۔۔۔۔بیت اللہ کی تعمیر کے وقت جس خلوص اور محبت کو دیکھا جا رہا تھا ۔۔۔۔حجرِ اسود کی تنصیب پر ایک خونی طوفان اہلِ مکہ کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ۔۔۔سوئی ہوئی عصبیت انگڑائی لینے لگی ہر شخص چاہتا تھا کہ حجرِ اسود کی تنصیب کا اعزاز اس کے قبیلے کو ملے ۔۔۔۔۔
خون کے پیالے میں انگلیاں ڈبو کر عہد لیا جانے لگا ،ہم اپنے قبیلے کے سوا کسی اورکو حجر اسود نصب نہیں کرنے دیں گے ۔۔۔۔حالات بہت نازک تھے کسی بھی وقت یہ خونی آگ بھڑک سکتی تھی ۔۔۔۔۔
اس مسئلے کے حل کے لیے سب مسجد ِ حرام میں جمع تھے اور طے یہ ہوا کہ کل صبح جو سب سے پہلے مسجد میں داخل ہو گا اس کو ہم اپنا حکم بنا لیں گے ۔
خدا کی قدرت دوسرے دن صبح جو شخصیت سب سے پہلے مسجد ِ حرام میں تشریف لائی وہ اللہ کے نبی ﷺ کی ذات تھی ۔۔۔۔لوگوں کی مسرت کی کوئی حد نہیں رہی ۔۔۔۔
ان میں سے جو بزرگ ترین شخص تھا اس نے کہا
یہ محمد ﷺ ہیں یہ امین ہیں ، ہم سب ان کے فیصلے پر راضی ہیں
آپ ﷺ کو تمام روداد سُنائی گئی ۔۔۔۔۔
آپ ﷺ نے فرمایا
میرے پاس ایک چادر لے آؤ
جب چادر لائی گئی تو آپ ﷺ نے حجر اسود کو اپنے دست مبارک سے اٹھایا اور اسے چادر کے درمیان میں رکھ دیا ۔۔۔۔۔ہر قبیلے اور ہر خاندان کے سردار کو بلا یا اور کہا اس چادر کو پکڑ لو اور حجر اسود کو اٹھا کر میرے پاس لے آؤ ۔۔۔۔سب نے چادر کو تھام لیا جب یہ اس مقام پر پہنچے جہاں حجر اسود کو نصب کیا جانا تھا تو آپ ﷺ نے اپنے یمن و برکت والے ہاتھوں سے اٹھا یا اور اس کو اس کے مقام پر نصب کر دیا ۔۔۔۔۔۔اس طرح سب کو تنصیب کا فخر بھی حاصل ہو گیا اور فتنہ و فساد کے شعلے اپنی موت آپ مر گئے ۔۔۔۔۔
احبابِ من ! یہ ہے سیرت النبی ﷺ کا پیغام ۔۔۔۔۔۔
ناموسِ رسالت ﷺ کی حفاظت کا تاج کس کے سر سجے گا؟
نفاذِ دین کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے ؟
سود کے خلاف کون ڈٹا رہا؟ ۔۔۔۔۔
ہم چئیر مین ہیں ۔۔۔۔۔ہم بانی ہیں ۔۔۔۔۔ہم نے شروع کیا ۔۔۔۔ہم ہی تھے یہ تو بعد میں آئے کا شور
نفرتوں کے الاؤ روشن ہیں ۔۔۔۔۔جملوں کی دھار سے محبتوں کا قتل ِ عام جاری ہے ۔۔۔۔۔
اے قائدین ملت ! یاد رکھو ! اگر اللہ کریم نے تمہاری کاوش کو قبول کر لیا تو تم مبارکباد کے مستحق ۔۔۔۔تم کامیاب
اور اس کی بارگاہ میں قبول نہ ہوئیں تو بے شک تم خسارے میں رہے ۔۔۔۔۔۔
اپنے خلوص پر ایک نگاہ ضرور ڈال لیا کرو ۔۔۔۔صبح جب بیدار ہو اپنی نیت کو ٹٹول لیا کرو ۔۔۔۔۔
جس کام کا آغاز خلوص سے کیا تھا وہ تجارت کی جانب تو گامزن نہیں
شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس بات کو مت بھولا کرو ۔۔۔۔۔
اے اہلِ محبت ! اللہ کے نبی ﷺ کی تعلیمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں ۔۔۔۔۔
آؤ اہل محبت! اہل محبت کو ساتھ لے کر چلیں ۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں