5

زخموں سے چور چور امت مسلمہ کا سوال ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

زخموں سے چور چور امت مسلمہ کا سوال ۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی
حج کے ایام قریب آچکے تھے بیت اللہ کی زیارت کا شوق اس اعرابی کو بہت ستا رہا تھا ۔۔۔۔ اپنی بیٹی کو لے کر بیت اللہ کی جانب روانہ ہو گیا ۔۔۔۔
جب یہ اعرابی مکہ میں داخل ہوا تو ایک تاجر اپنی دولت پر نازاں طاقت کے نشے میں چور اس حسینہ کی عفت و عصمت کے درپے ہو گیا اور اسے اپنے گھناؤنی اور غلیظ خواہش کی تکمیل کے لیے اغوا کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
باپ دہائیاں دیتا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔
کسی باپ سے اس کی جوان بیٹی کوئی چھین کر لے جائےاور اس کی عفت و عصمت کا دشمن ہو اس کا کرب ۔۔۔۔اس کی تکلیف سو چ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ۔۔۔۔۔
بیٹی بھی اس تاجر کو بیت اللہ کے تقدس کا واسطہ دیتی رہی مگر ہوسِ نفس نے اس کو بہرا کر دیا ۔۔۔۔۔۔
مظلوم اعرابی نے سوچا کہ اپنے قبیلے کو مدد کے لیے بلائے مگر عرب کے حال سے واقف تھا وہ جانتا تھا اس کی داستان غم پر اگر اس کا قبیلہ اس کی مدد کو آبھی گیا تواس میں مردوں کی تعداد بہت کم ہے ۔۔۔۔وہ مکہ کے دس قریشی قبیلوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اسی پریشانی میں گم تھا ۔۔۔۔۔مدد کے لیے سرگرداں اس اعرابی کا علم نبی کریم کو ہوا تو آپ ﷺ نے قریش کے نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا اور انہیں کہا اس تاجر کی اس حرکت پر ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔۔۔۔۔
آپ ﷺ کی دعوت پر۔۔۔۔اس اعرابی کی مدد کے لیے قریش مکہ کے وہ چند نوجوان بیت اللہ کے پاس جمع ہو ئے اور سب نے حلف اٹھایا ۔۔۔۔۔
ہم قسم اٹھاتے ہیں کہ ہم اس مظلوم کی مدد کریں گے یہاں تک کہ ظالم سے وہ اپنا حق واپس لے لے اور ہم قسم اٹھاتے ہیں کہ اس حلف سے اس کے بغیر ہمارا کوئی مقصد نہیں ہو گا ہم اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ مظلوم غنی ہے یا فقیر
نظرۃ جدیدہ فی سیرۃ الرسول از کورنستاس جیور جیو صفحہ 40 بحوالہ ضیاء النبی جلد دوم صفحہ 124 از پیر کرم شاہ الازہری مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
نو جوان بیت اللہ میں حلف اٹھا چکے تھے اپنی قسم کو پختہ ظاہر کرنے کے لیے انہوں نے حجر اسود کو آب زم زم سے دھویا اور اس دھون کو پی لیا ۔۔۔۔۔حلف برداری کی اس تقریب کے بعد اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے ان نوجوانوں کے ساتھ اس ظالم تاجر کے گھر گئے اور اس کے گھر کا گھیراؤ کر لیا اور اس سے مطالبہ کیا کہ اعرابی کی بیٹی کو عزت و آبرو کے ساتھ فی الفور اس کے حوالے کرے
تاجر نے کہا مجھے ایک رات کی مہلت دی جائے صبح ہوتے ہی لڑکی اس کے باپ کو لوٹا دوں گا لیکن ان نوجوانوں نے اس تاجر کی ایک نہ سنی ۔۔۔۔۔۔
اب اس ظالم تاجر کو اس اعرابی کی بیٹی فورا ا سکے حوالے کرنی پڑی ۔۔۔۔۔۔۔
احباِ بِ من! حلف الفضول کی تاریخ تو پڑھو !!!!
تمہیں معلوم ہو گا اللہ کے نبی ﷺ نے جس دین کو تم تک پہنچایا وہ کیساہے ۔۔۔۔کوئی شک نہیں حلف الفضول کی ابتداء زبیر بن عبد المطلب سے ہوئی لیکن اس میں صحیح جان اور قوت اسوقت پیدا ہوئی جب نبی کریم ﷺ کی ترغیب پر ایک مسلح جتھہ ظالموں کی سرکوبی کے لیے تیار ہو گیا ۔۔۔۔۔
آج ہم مظلوم کی مدد سے آنکھیں چراتے ہیں ۔۔۔۔۔ظلم ہوتا دیکھتے رہتے ہیں مگر اپنے مسلک ۔۔۔۔اپنے فرقے ۔۔۔اپنی جماعت کی وجہ سے حق نہیں بولتے ۔۔۔۔۔مظلوم کو اس کا حق دلانے کی سعی نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔
اس سنت کو زندہ کرنے کے لیے کوئی جماعت عملی طور پر تیا رنہیں ہو تی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنی نوع انسان بالخصوص زخموں سےچور چور امت ِ مسلمہ پوچھ رہی ہے
کیا فرقوں اور لسانی جماعت کی ٹکڑیوں میں بٹے ہمارے ہم مذہب میں کوئی ایک جماعت ایسی نہیں جو اس سنت کو زندہ کرے ؟
اقبال نے برسوں پہلے کہا تھا
کل ایک شوریدہ خواب گاہِ نبیؐ پہ رو رو کے کہہ رہا تھا
کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بِنائے ملّت مِٹا رہے ہیں
یہ زائرانِ حریمِ مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے
ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں
غضب ہیں یہ ’مُرشدانِ خود بیں، خُدا تری قوم کو بچائے!
بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزّت بنا رہے ہیں
سُنے گا اقبالؔ کون ان کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے
نئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سنا رہے ہیں!
میلاد النبی ﷺ کے موقع پر سیرت النبی ﷺ کا پیغام بھی عام کرو ۔۔۔
آؤ ! ہم سب مل کر اس سنت رسول ﷺ کو ادا کرنے کا عہد کریں انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی ۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں