6

تبدیلی کا فریب ۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

تبدیلی کا فریب ۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی
پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آجاتے ہیں ۔۔۔۔
بھولی بھالی عوام ! تم یقین کرو کوئی تبدیلی نہیں آرہی اور نہ کوئی تبدیلی آئے گی ۔۔۔۔۔یہ بے چارے تو اس حد تک بے بس ہیں اپنا پروٹوکو ل ختم نہیں کرا سکتے ۔۔۔۔خدا بننے کی خواہش کو ماریں کیسے اور خدا کے قانون کو نافذ کر دیں توخود اس بھولی بھالی عوام کے بنامِ جمہوریت ” خدا کیسے بنیں”
یہ بھی ویسے ہی انسان ہیں جیسے ماضی میں گزرے
انہیں بھی انسانوں کا خدا بننے میں وہی مزہ آتا ہے جو ہر دور کے فرعون و نمرود کو آتا تھا ۔۔۔۔
یہ کوئی تبدیلی نہیں لا سکیں گے برا لگ رہا ہے نا ! آپ کو ۔۔۔۔
آپ کہیں گے ۔۔۔
ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔مسائل کتنے ہیں ۔۔۔۔دشمن ۔۔۔۔آستین کے سانپ ۔۔۔۔اور اوپر سے مجھ جیسے ناقد
نہیں محترم نہیں !!!! معذور آٹھ سالہ عمر میری نگاہوں میں ہے ۔۔۔۔۔بہت درد ہوتا ہے مجھے ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے میرا بیٹا ہے میرے سامنے ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے سامنے کوئی اور نہیں میری بہن کی بے بسی کے آنسو ہیں ۔۔۔۔
رسم ِ دنیا بھی کیا خوب ادا کی گئی ہے جناب ! گورنر صاحب کا نوٹس ۔۔۔۔کے الیکٹرک کی بے بس والدین سے سودے بازی
مت کہنا مجھ سے کہ ان کے درمیان تصفیہ ہو گیا ہے ؟
بھولے بھالے لوگوں کبھی معصوم عمر کی جگہ اپنی اولاد کو رکھ کر دیکھا کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے کوئی پوچھنے والا جو پوچھے ان سفاکوں سے کہ اس شہر میں کہاں کہاں سے 11000 ہزار وولٹ کی تاریں گزر رہی ہیں ؟
ہے کوئی صدر ، وزیر اعظم اورگورنر و وزیر اعلیٰ ؟
نہیں اگلے حادثے پر بے وقوف عوام کو پھر کچھ دے دلا کر یا ڈرا دھمکا کر خاموش کر دیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک مثال ہے۔۔۔۔۔چند سطور کے دامن میں اتنی جگہ ہی کہاں جہاں پھپھولے پھوڑیں ۔۔۔۔۔اور داغِ دل کو عریاں کریں ہوس زادوں کے قہقہوں کے لیے ۔
خان صاحب ! بیت اللہ کے اندر جانا کمال نہیں ہے ۔۔۔۔۔
بیت اللہ کے درو دیوار سے لپٹ کر لات منات معزز نہیں ہو جاتے ۔۔۔۔۔
روضہ رسول ﷺ پر حاضری بڑی سعادت ہے ۔۔۔۔پر اہل ِ وفا کے لیے
ورنہ رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی نے تو حضور ﷺ کی زیارت کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معذرت خان صاحب ! بہت معذرت !
آپ چاہتے ہیں پاکستان میں خوشحالی آجائے ۔۔۔۔ ملک میں من و سلویٰ اتر جائے
ایسا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔مگر معلوم ہے کیسے ؟
جنگل جلیبی کے پیڑ پر انگور نہیں لگتے ۔۔۔۔۔۔
سودی معیشت سے رحمت نہیں برسے گی خان صاحب
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْؕ-مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌؕ-وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ القرآن 66:05
اور اگر وہ قائم رکھتے توریت اور انجیل اور جو کچھ ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے اترا تو انہیں رزق ملتا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ان میں کوئی گروہ اعتدال پر ہے اور ان میں اکثر بہت ہی برے کام کررہے ہیں
اس آیت میں کامیاب معیشت کی کنجی موجود ہے ۔۔۔۔۔انہوں نے دین نافذ نہیں کیا ۔۔۔۔تم بھی نہیں کررہے ہو ۔۔۔۔کیا تم سودی معیشت کو ختم کرو گے ۔۔۔۔تم نفاذ کرو گے قرآن کے قوانین کا ؟۔۔۔۔تم حدود اللہ کو قائم کرو گے ؟
تم صاحب ِ قرآن ﷺکے روضے پر گئے ۔۔۔۔۔رسمِ حکمرانی نبھانے گئے تھے یا تجدیدِ وفا کرنے ؟
تم بیت اللہ کے چکر لگاؤ مگر ریاست مدینہ کےنام پر قوم کو چکر مت دو ۔۔۔۔
اور اے بھولی بھالی قوم !یہ آیت صرف اربابِ اقتدار کے لیے نہیں ہے میرے اور تمہارے لیے بھی ہے سچی توبہ کرو اور جہاں تک ہو سکے اللہ کی کتاب کے احکامات کو خود پر نافذ کرو ۔۔۔۔۔۔۔ورنہ تمہارے بچے تاروں سے جھلس کر معذور ہوتے رہیں گے ۔۔۔۔اسٹریٹ کرائم بڑھتے رہیں گے اور تم صرف آنسو ؤں کی فریاد لیے ایک در سے دوسرے در تک بھٹکتے رہو گے ۔۔۔۔۔
آواز بلند کرو۔۔۔۔ ریاست مدینہ کا وعدہ پورا کرو ۔۔۔۔۔۔۔
ایسے لوگوں کے ہاتھوں کو مضبوط کرو جن کے چہرے گواہی دیتے ہوں یہ اقتدار میں آئے تو احکامات ِ دین نافذ کریں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں