14

استادکی بے بسی ۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

استادکی بے بسی ۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی
چہرے پر تھکاوٹ۔۔۔۔ آنکھوں میں اُداسی ۔۔۔۔ دل غم سے بوجھل ۔۔۔تھکے ہوئے اعصاب اور لہجے میں پریشانی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ہاں میں ایک استاد ہوں ۔۔۔۔
میری بیوی ہسپتال میں زیرِ علاج ہے ۔۔۔۔۔کبھی میری بیٹی یا بیٹا کبھی میرے بوڑ ھے ماں باپ ہسپتال کے چکر کاٹتے ہیں ۔۔۔۔۔اور کبھی میں خود ہسپتال میں زیر علاج ہو جاتا ہوں ۔۔۔۔
میرے پاس ہسپتال کی بھاری بھرکم فیس ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ۔۔۔۔۔ گورنمنٹ کے سروسز ہسپتال میں وہ سہولیات نہیں اور اگر ہوں تو کراچی جیسے شہر میں گلشن حدید سے جامع کلاتھ تک کا سفر ٹیکسی کا بڑا بل بنا دینے کے لیے ہی کافی ہے اور مریض کا اتنا طویل سفر مراعت کے بجائے ایک سزا تصور ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔قرض لے کر علاج کرا بھی لیا جائے اور بعد میں Reimbursement کے لیے بل بنانا اور پھر اس رقم کا حصول اور قدم قدم پر رشوت کا بازار گرم اور رشوت دینے کے بعد بھی آدھی رقم ہاتھ میں آتی ہو تو بتائیے ۔۔۔۔استاد کی اس بے بسی کو آنسوؤں کی روشنائی سے کیسے لکھوں ؟
کیا کروں ؟ ۔۔۔۔میں ایک استاد ہوں ۔
ہاں میں ایک استاد ہوں ۔۔۔۔بالکل وہی استاد جو پرائمری اسکول سے لے کر جامعہ تک اپنا کردار ادا کر تا ہے حروفِ تہجی سے نابلد بچے کو ا،ب، ت سے لے کر سائنس اور سائنس سے سوشیل سائنسز تک ایک ترقی یافتہ ،تعلیم یافتہ دنیا کے قابل بناتا ہے ۔۔۔۔
ترقی یافتہ دنیا جس کا آپ زور و شور سے حوالہ دیتے ہیں وہاں استاد کی عظمت کیا ہے ؟
وہاں استاد کی تنخواہ، مراعات گورنمنٹ کے ہر ملازم سے زیادہ ہے ۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں جن کی وجہ سے لوگ دانشور ، انجنئیر ،ڈاکٹر اور ہر شعبے کے ما ہر بنتے ہیں انہیں سماجی اور معاشی طور پر کیسے دوسروں سے کم رکھا جائے ۔۔۔۔۔۔مجھے اپنے اس کالم میں استاد کی عظمت بیان نہیں کرنی ۔۔۔۔
صرف ان آنسوؤں اور کرب کا تذکرہ کرنا ہے جسےاربابِ اقتدار جان نہیں پا ر ہے ہیں ۔۔۔ ایک استاد جو اپنے گھر میں ماں ، باپ ،بیوی بچوں یا خود کو صحت مند نہیں رکھ سکے۔۔۔ ذہنی طور پر پریشان ہو ۔۔۔آپ خود ہی بتائیے کیا وہ آپ کی آنے والی نسلوں کو اچھی تعلیم دے سکے گا ؟؟؟؟؟
دنیا میں موجود ملٹی نیشنل ادارے ۔۔۔۔۔نہیں نہیں پاکستان میں موجود پروڈکشن کے حامل سرکاری ادارے ۔۔۔۔ارے یہاں تک کہ پرائیویٹ ادارے بھی اپنے ملازمین کو میڈیکل کی بہترین سہولیات فراہم کرتی ہیں ۔۔۔۔۔ان کے میڈیکل کارڈز ہوتے ہیں ۔۔۔۔یہ کسی بھی اچھےہسپتال میں بہترین علاج کراتے ہیں ۔۔۔۔ پرائیویٹ اداروں کو، انشورنس کمپنیوں کے میڈیکل کارڈز میسر ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
ارباب اختیار ! آپ سے استدعا ۔۔۔استاد کا فکری طور پر آسود ہ ہو نا تمام لوگوں سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔۔۔۔۔قوم کے لیے بہت ضروری ہے ۔۔۔۔مستقبل کے معماروں کے لیے استاد کا ہر فکر سے آزاد ہونا نہایت ضروری ہے چہ جائیکہ وہ میڈیکل کی reimbursement کے سلسلے میں دفتروں کے دھکے کھاتا رہے ۔۔۔۔قرض کے بوجھ تلے دب جائے ۔۔۔۔۔اور اپنا جائز حق لینے کے لیے کلرک بادشاہوں کو رشوتیں دیتا رہے ورنہ سالوں اس کی پئیمنٹ نہیں ہو اور کلرک کوئی نہ کوئی آبجیکشن لگا کر اس کو ذلیل و خوار کرتے رہیں ۔۔۔۔۔اگر یہ استاد یونہی ذلیل خوار ہوتے رہے تو ہماری آنے والی نسلیں عزت و وقار کا سفر کیسے طے کر سکیں گی ؟
ان کی تنخواہوں سےہر ماہ انشورنس کی رقم کاٹی جاتی ہے اسی کی بنیاد پر انہیں کم ازکم میڈ یکل کی مکمل سہولت تو فراہم کی جائے ۔۔۔۔انہیں صرف سروسز ہسپتال میں نہیں بلکہ ہر اچھے ہسپتال جہاں انہیں آسانی ہو علاج معالجے کی سہولت دی جائے ۔۔۔۔
استاد کی عظمت کے لیے ۔۔۔۔۔اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں