15

مسلمانوں کے سائنسی کارنامے از:پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی

از:پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی

حقیقت یہ ہے کہ یونانیوں کے پاس نظریات تھے، لیبارٹری نہیں تھی۔ مسلمان سائنسدانوں نے لیبارٹری یا تجربہ گاہوں میں تجرباتی طریقے ایجاد کیے۔ مسلمانوں نے اپنی نگاہ ہمیشہ ٹھوس اشیا پر رکھی، اور مشاہداتی اور تجرباتی طریقے پر زور دیا۔ عہد قدیم میں سائنس کا وجود نہ تھا۔ یونانیوں کے پاس علم ہیئت اور ریاضی باہر سے آئے۔ اہل یونان کی تگ و دو محض نتائج اخذ کرنے اور نظریات تک محدود تھی۔ مسلمانوں نے تحقیقاتی طریقہ، حقیقی معلومات کی فراہمی اور سائنس کی دقیقہ بینی کے طریقے کی بنیاد ڈالی۔ مشاہدے اور تجرباتی تحقیق سے اہل یونان ناواقف تھے۔ یورپ کو ان طریقوں سے مسلمانوں نے متعارف کرایا۔ اس اعتبار سے یورپ میں جدید سائنس نے جو ترقی کی ہے، وہ مسلمانوں کی مرہون منت ہے۔ اس لیے یہ بات بالکل غلط ہے کہ سائنس کا تجرباتی طریقہ یورپ نے ایجاد کیا۔ یورپ کا گمراہ کن طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ایجادات کو اپنے سائنس دانوں سے منسوب کردیتا ہے۔
چناںچہ انہوں نے راجر بیکن کو تجرباتی طریقہ کار کا موجد قرار دیا، حالاںکہ راجر بیکن اسپین کے مسلمانوں کا شاگرد تھا، جس کا اس نے خود اعتراف کیا ہے۔ راجر بیکن کی تصانیف پر ابن حزم کے اثرات ہیں۔ مشہور مستشرق بریفالٹ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب تشکیل انسانیت The making of humanity میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آکسفورڈ اسکول میں مسلمانوں کے شاگردوں سے بیکن نے عربی سائنس سیکھی۔ راجر بیکن کو تجرباتی سائنس کے موجد ہونے کا حق نہیں پہنچتا، بلکہ اس کو یورپ میں اسلامی سائنس کا پیامبر کہا جاسکتا ہے۔ بریفالٹ نے آگے چل کر لکھا ہے کہ راجر بیکن نے زمانے تک مسلمانوں کا تجرباتی سائنس کا طریقہ یورپ میں کافی مقبول اور مشہور ہوچکا تھا۔

اسی طرح عبدالرحمٰن بن عمرالرازی نے یونانی حکیم بطلیموس کے اس نظریے کی تردید کی کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ الرازی نے یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس طرح بطلیموس کا نظریہ باطل ہوگیا۔ اسی طرح اصطرلاب (دوربین) علی بن عیسیٰ اصطرلابی نے ایجاد کی، گلیلیو نے نہیں کی۔ گلیلیو سے اصطرلاب منسوب کو کرنا، یورپ کا غلط پروپیگنڈا ہے۔ گلیلیو بعد کا ہے، جب کہ اصطرلابی اس سے پہلے گزرے۔ غرض جدید سائنس اسلامی تہذیب کا تحفہ ہے، جو اسپین کے مسلمانوں نے یورپ کو دیا۔
ابن بیطار نے مشاہدہ اور سائنسی تجربات کو یورپ پہنچایا۔ ابن بیطار نے تجرباتی طریقے سے نباتیاتی تحقیق کو آگے بڑھایا۔ اس نے 1400 پودوں کا سراغ لگایا۔ فارمیسی میں اس کی کتاب ’الجامع فی مفردات الادویۃ والاغذیۃ‘ انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔زراعت Agronomy پر کتاب احمد بن عسلی یا ابن وحشیہ کی ہے جس میں انہوں نے پیڑ پودوں، ذرائع آبپاشی، موسمی حالات، شجرکاری اور دوسرے موضوعات پر بحث کی ہے۔ زراعت پر سب سے پہلی کتاب مسلمان سائنسدان ابن وحشیہ کی ہے۔
آج کا دور سائنس کا دور ہے، لیکن دنیائے اسلام میں یہ دور بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ قرون اولیٰ میں مسلمانوں نے جو سائنسی اکتشافات کیے، انہیں پس پشت ڈال کر اس کا سہرا یورپ کے سر باندھ دیا گیا۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جب مسلمان سائنسدان سائنسی کارنامے انجام دے رہے تھے، اس وقت یورپ دورِ تاریکی میں تھا۔ مسلمانوں کی سائنسی تحقیقات سے یورپ متاثر ہوا۔ اہل مغرب نے مسلمان سائنسدانوں سے بھرپور استفادہ کیا اور ان کے کارناموں کو اپنے نام سے منسوب کرلیا۔ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ مسلمان سائنسدانوں کے کارناموں کی مرہون منت ہے۔

احمد عبداللہ حبش حاسب نے علم ریاضی میں ٹرگنو میٹریکل نقشہ (Trignometrical Table) بڑی تحقیق کے بعد مرتب کیا۔ یہ ٹرگنو میٹریکل ٹیبل آج بھی فن انجینئرنگ میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ عصر حاضر کے سائنسدان احمد بن عبداللہ حاسب دان کے بنائے ہوئے اسی ٹرگنو میٹریکل نقشے سے استفادہ کررہے ہیں اور اسے استعمال میں لارہے ہیں۔ حاسب علم مثلث میں ٹرگنومیٹری کا بانی تھا۔ اس نے قاطع یعنی Scantion کو پہلی مرتبہ دریافت کیا اور ٹرگنومیٹری میں اسے رائج کیا۔
اجرام فلکی یعنی چاند سورج اور ستاروں کے علم کو علم فلکیات کہتے ہیں۔ مسلمانوں نے فلکیات اور اس کی ایک شاخ علم نجوم میں کار ہائے نمایاں انجام دیے۔ خلیفہ مامون الرشید کے زمانے میں جو بیت الحکمت قائم ہوا، اس میں بیشتر مسلمان سائنسدان تھے۔
احمد بن موسیٰ شاکر وہ پہلا میکانیکل انجینئر ہے جس نے گھڑی ایجاد کی۔ وہ اچھا سول انجینئر بھی تھا۔ علم میکانیات یا علم حلیل پر اس کی ایک کتاب بھی ہے۔ مشہور مورخ ابن خلکان نے اپنی کتاب وفیات الاعیان میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔
خلافت عباسیہ کے دور میں دنیائے اسلام کے بڑے سے بڑے فلسفی اور علما پیدا ہوئے۔ سائنسدانوں میں الخوارزمی، ابن سینا، کندی، امام غزالی اور فارابی کے نام آتے ہیں۔ جابر بن حیان اور ابوبکر زکریا رازی بھی اس دور کے ہیں۔ غرض مسلمانوں کی قومی اور ملی تاریخ بہت درخشاں ہے، کیوںکہ مسلمانوں نے سائنس کی دنیا میں ناقابل فراموش کارنامے انجام دیے۔

مسلمان سائنسدانوں نے بنی نوع انسان کو آسانیاں بہم پہنچانے کے لیے ہزاروں اختراعات کیں، اور اپنے نظریات، افکار، تجربات، مشاہدات اور ایجادات کی بدولت انسانی زندگی اور اس کے طرز فکر پر گہرے نقوش چھوڑے۔ انہوں نے سائنسی خیالات اور تصورات کو آگے بڑھایا۔ ان کی سائنسی خدمات کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یورپ پر مسلمان سائنسدانوں کے احسانات ہیں۔ یورپ نے مسلمانوں کی سائنسی ایجادات کی بنیاد پر سائنسی دریافتیں کیں۔
خلیفہ مامون الرشید کے زمانے میں یونانی کتابوں کے عربی میں تراجم ہوئے۔ چناںچہ اسحاق بن حنین نے اقلیدس کی اولیات Element اور بطلیموس کی کتاب مجسطی Al magest کے تراجم عربی میں کیے۔ اسحاق بن حسنین نے دنیا کو سب سے پہلے حکیم اقلیدس اور ارشمیدس کے کارناموں سے روشناس کرایا۔ موسمیات میں ایک کتاب الفضل بن حاتم النیریزی کی ہے۔ اس کا نام رسالہ فی احداث الجو ہے۔ اس نے مخروط مضلع یعنی Pyramid اور کروی یعنی زمینی اور فضائی فاصلوں کو متحقق کیا۔ یہ ۹۲۲ء کی بات ہے۔
اسی طرح مسلمانوں نے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے ماورا بہت بڑا سائنسی لٹریچر دیا۔ مسلمانوں نے سائنسی علوم کو فروغ دیا۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ تفکر و تدبر کی تاکید ہے، جن سے عملی سائنس اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی طرف اشارے ملتے ہیں۔ اسپین کے مسلمانوں نے سائنس کی نوعیت اور مقصد سے متعلق حیرت انگیز کارنامے انجام دیے۔ مسلمانوں کا سائنس سے اٹوٹ رشتہ ہے۔
مفروضے Hypothesis کو مشاہدے یا تجربے کی کسوٹی پر کسنا تحقیق ہے۔ یہی تحقیقی منہج مسلمانوں کا ایجاد کردہ ہے۔ اسی طرح استنباط اور استقرا کا طریقہ بھی مسلمانوں کا ہے۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں