7

یورپ پر اسلام کے احسان – ڈاکٹر غلام جیلانی برق

یورپ پر اسلام کے احسان
ڈاکٹر غلام جیلانی برق

تاریخ کا یہ قطعی فیصلہ ہے کہ اگر مسلمان سپین اور سسلی نہ جاتے تو یورپ بربریت‘ فلاکت اور انتہائی بداخلاقی کی دلدلوں سے کبھی نہ نکل سکتا‘ مسلمانوں نے یورپ کو ایک تابدار تمدن‘ عظیم الشان تہذیب ‘ بے شمار درس گاہیں اور ہر قسم کے علوم دئیے‘ انھیں کپڑے پہننا‘ نہانا‘ کھانا اور انسانوں کی طرح رہنا سکھایا‘ اخلاق و آداب کا درس دیا‘ ان سے آٹھ سو برس تک نہایت عادلانہ و فیاضانہ سلوک کیا‘ اپنے دربار میں بڑے بڑے منصب دئیے‘ سب کچھ کیا‘ لیکن جو نہی انھیں زوال آیا‘ عیسائیوں نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے شروع کر دئیے( اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں مسلمانوں کو تہ تیغ کر کے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا) اسی قتل عام کا یہ اثر ہوا کہ وہ اندلس جو سارے یورپ کو علم اور تہذیب کا درس دے رہا تھا‘ دفعتاً جہالت میں ڈوب گیا‘ مدارس بند ہو گئے‘ اساتذہ بھاگ گئے ‘ صنعت و حرفت ختم ہو گئی اورشہر اجڑ گئے۔ تیسری صلیبی جنگ میں برطانیہ کے شیر دل ’’رچرڈ‘‘ نے اسلامی فوج کے ایک دستے کو جو تین ہزار افراد پر مشتمل تھا، وعدہ معافی دے کر ہتھیار رکھو الیے‘ لیکن فوراً بعد اسلامی لشکر گاہ کے سامنے انھیں قتل کر ڈالا‘ دوسری طرف جب یہی رچرڈ بیمار ہورا تو صلاح الدین ایوبیؒ اسے کھانا‘ پھل‘ اور دیگر چیزیں بھیجتا تھا۔ بیت المقدس پر عیسائیوں کے قبضے کے بعد مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ہر طرف ان کے ہاتھوں‘ اور پائوں کے انبار لگ گئے‘ کچھ آگ میں پھینکے جا رہے تھے اور کچھ فصیل سے کود کر ہلاک ہو رہے تھے۔ گلیوں میں ہر طرف سر ہی سر نظر آتے تھے‘ ہیکل سلیمانی میں دس ہزار مسلمانوں نے پناہ لی تھی‘ عیسائیوں نے اس مقام کے تقدس کا کوئی خیال نہ کیا اور سب کو قتل کر ڈالا۔ لیکن جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا‘ تو کسی عیسائی کو کوئی تکلیف نہ دی اور ان سے فیاضانہ اور عادلانہ سلوک روارکھا۔ (یورپ پر اسلام کے احسان ‘ از ڈاکٹر غلام جیلانی برق)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں