5

تذکرہ ایک بارعب و خوبرو نوجوان کا……..

تذکرہ ایک بارعب و خوبرو نوجوان کا……..
عکاظ کا بازار یوں کہیے کہ عربوں کا روایتی میلہ تھا جہاں خرید و فروخت ہوتی، شعراء کلام سناتے، شعبدہ بازی کی محفلیں لگتی، خطباء تقاریر و قصّے بیان کرتے اسی بازار میں کشتی کے مقابلے بھی ہوتے جس میں جہاندیدہ اور بہادر پہلوان اپنی قوت و طاقت کے جوہر دکھلاتے. ان مقابلوں میں جب وہ باطل شکن و خداداد صلاحیتوں کا مالک مردِ آہن بھی شرکت کرتا تو تمام کی نظریں اس پر جم جایا کرتی تھی.
باپ حرب و فن کا ماہر سخت جان اور نڈر تھا اور اپنے بیٹے کو بھی اپنی طرح قوی الجسم توانا اور ذہنی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتا تھا لہذا سختی کے ساتھ اپنے بیٹے کی تربیت کرتا سارا عرب جاہلیت کی عجیب تصویر پیش کررہا تھا ایسے سماج میں پڑھے لکھے افراد انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے ان میں یہ شجاع و بارعب نوجوان علم کے زیور سے آراستہ تھا.
عقل و خرد جرأت و غیرت استقامت و شجاعت کی وہ پہچان و علامت بن چکا تھا اس کی شخصیت اور کردار کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ تاجدارِ مدینہ نے اسے اپنے رب سے خود مانگا ہے وہ دعاءِ نبی تھا وہ مرادِ نبی تھا.
اللّه نے اس کی ذات کو اسلام کے لئیے خیر کا ذرئعہ بنایا مسلمانوں کے لئیے حرم کے دروازے کھلے کافروں پر رعب طاری ہوا ایوانِ باطل میں کہرام سا مچ گیا.
یہ دیکھئیے مسلمان اپنے خدا و رسول کا حکم پاتے ہی ہجرت کے لئیے روانہ ہورہے ہیں یہ سب کچھ چھوڑنے کے لئیے کتنی جلدی تیار ہوگئے وہ کتنی احتیاط کر رہے ہیں کہ کہیں پکڑے نہ جائے ہمارا سفر کافروں کی سازشوں اور ظلم کا شکار نہ ہوجائے لیکن اس نوجوان کو کوئی طوفان بھلا کیا روکے گا وہ تو طوفانوں کا رخ موڑنے کے لئیے آیا ہے آندھیوں سے مقابلہ کرنا اور زلزلوں سے پنجہ آزمائی کرنا اس کی پہچان ہے کافروں کے سرغنہ اور سرداروں کی محفل میں بلا خوف و خطر داخل ہوتا ہے اور یہ چیلنج کرتا ہے جس کو اپنی بیویاں بیوہ اور بچے یتیم کروانے ہوں وہ میرے مقابلے کو آجائے اور مجھے ہجرت کے مبارک سفر سے روک کر دکھائے سب بہادروں کی بہادری کو جیسے سانپ سونگھ گیا اور وہ شاہانہ عظمت کے ساتھ سرزمینِ طیبہ کی جانب روانہ ہوگیا.
کئی موقعوں پر اس نے ایسے فیصلے اور مشورے محسنِ انسانیت کو دئیے کہ جس کی تائید میں قرآنی آیتیں اتری ہر جنگ میں شجاعت کے وہ جوہر دکھلائے کہ جس نے دیکھا وہ دیکھتا ہی رہ گیا.
نبی سے محبت اور عشق کا یہ عالم کہ آپ کے دشمنوں پر وہ سونتی ہوی تلوار تھا گستاخِ رسول کے لئیے موت کا پیغام تھا سرکشوں اور ظالموں پر خدا کا عذاب تھا وہ جدھر جاتا خیر کو اپنے ساتھ لے جاتا شر اور شیطان اس سے دور بھاگتے تھے فتنوں کی مجال نہ تھی کہ اس کی موجودگی میں سر اٹھاسکے.
سرکارِ دوعالم اور صدیقِ اکبر کے بعد اس نے ملتِ بیضاءکی قیادت کی اور فتح و سربلندی اس کے قدم چومتی گئی ایران و شام زیرِ نگوں ہوا سرکشوں نے اطاعت کا قلادہ اپنی گردنوں میں پہنا ساسانی اور بازنطینی حکومت اپنے انجام کو پہونچی فرشتوں نے اس کی عظمت کے گیت گنگنائے اشراف الناس نے اس کے وجود کو رحمتِ خداوندی جانا.
اس نے عدل و انصاف قائم کرنے کے خاطر اپنے چین و اطمئنان کو خیرباد کہہ دیا تھا سادگی و قناعت فقر و شکر اس کی جبینِ ناز کو آکر آکر بوسے دیتے وہ اپنی رعایا کو خوش اور مامون دیکھنا چاہتا تھا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوا زندگی بھر اس نے اپنے قول کو اپنی عملی زندگی میں پیش کیا کہ قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے.
راتوں کو بے چین ہوکر اٹھتا کہ کہیں کوئی بھوکا تڑپ تو نہیں رہا ہے؟ کوئی مظلوم آہ و بکاں تو نہیں کررہا ہے وہ کہتا کہ اگر دجلہ کے کنارے کوئی کتا پیاس سے مرجائے تو میں اپنے رب کو کیا جواب دونگا.
قیادت و سیادت کی اس نے بےنظیر و بےمثال تصویر پیش کی ہے حتی کہ اس کی طرزِ حکومت کی اغیار نے بھی تعریف کی.
وہ جہاں ماہر اور کامیاب حکمراں تھا تو وہیں خدا ترس اور پرہیزگار مسلمان بھی ہر وقت اس کی نظر اللّه اور اپنی عاقبت پر ہوتی چنانچہ اس کے خاتم پر کندہ تھا کہ کفی بالموت واعظا………………….
عبدالرحیم ندوی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں