5

آنسؤوں میں گندھی تحریر۔۔۔۔۔ ثقہ تاریخ کے جھروکوں سے۔ جناب عمر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ

آنسؤوں میں گندھی تحریر۔۔۔۔۔

ثقہ تاریخ کے جھروکوں سے۔ جناب عمر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ

اس کی ذاتی عظمتوں، سچائیوں اور رعنائیوں کے واقعات تو ہزار، کملی والےﷺ سے اس کی محبت بھی کیا خوب تھی! اس کو رسول اللہ ﷺ نے دعاؤں سے مانگا تھا اور جب وہ آیا تو ایسا کہ کعبے کا در کھلوانے سے لے کر رب کا دین سر بازار منوانے تک کے سارے مرحلے یکبارگی طے کر گیا۔

اور اسی بانک پن کے ساتھ کل حیاتی آقا علیہ السلام کے ساتھ رہا، جسے خود مانگا ہو وہ کچھ لاڈلا بھی ہوا کرتا ہے، یہ اپنی غیور طبیعت سے مجبور ذرا ذرا سی بات پر تلوار نکال لیتا تھا۔ حاطب بن ابی بلتعہ کا معاملہ ہوا تو آؤ دیکھا نہ تاؤ تلوار نکال لی، «ابھی اس منافق کی گردن مارتا ہوں»، وہ تو حضور نے سمجھایا کہ “یار عمر! بدری منافق نہیں ہوا کرتے”۔ (1)

کبھی رسول اللہ ﷺ کے سامنے ڈٹ گیا کہ نہیں کرنا یہ کام اور قربان جاؤں آمنہ کے لال نبی علیہ السلام پر، فرمایا: “اچھا عمر تم کہتے ہو تو نہیں کرتے”۔ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوہریرہ کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ “راہ میں ملنے والے سب لوگوں کو سلام بولو اور جنت کی بشارت دے دو”۔ اب ان کی قسمت کہ پہلا ٹاکرا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا، انہیں بشارت دی تو بجائے خوش ہونے کے زور سے سیدنا ابوہریرہ ہی کو (لات) مار دی، وہ بھاگے تو ان کے پیچھے پیچھے ہولیے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس جاکر معاملہ حل ہوا۔ اسی لب و لہجے میں بولے، «آقا رہنے دیں، لوگوں کو ایسے بشارتیں دینے کی ضرورت نہیں ہے، ایویں قناعت کر لیں گے»، حضور نے فرمایا: “ٹھیک ہے”۔ (2)

رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن ابی کے جنازے پر جانے لگے تو قمیص پکڑ لی، «آقا! نہیں جانے دوں گا»۔ پیغمبر تو آخر پیغمبر تھے۔ روکنے کے باوجود چلے گئے، کیوں کہ آخری وقت تک حرص رہتا تھا کہ شاید کسی کا بھلا ہوجائے، پھر اللہ کا پیغام آگیا کہ آخری بار تھی، اب ایسے لوگوں کے جنازوں پر بھی نہیں جانا ہے۔ (3)

قیمتی باغ ملا تو اپنے دوست کے پاس چلے گئے، عرض کیا «حضورﷺ! یہ میری سب سے قیمتی متاع ہے، اب بولئے اس کا کیا کروں؟»۔ جواب ملا: “صدقہ کردو”۔ تو صدقہ کردیا۔ (4)

کوئی کام کرنے سے پہلے محمد ﷺ کے پاس گئے اور آقا نے کوئی سا کام کرنا ہوا تو عمر اور ابوبکر کو بلوا لیا، ان تینوں دوستوں کایہی قصہ تھا، ایک دوسرے کے بغیر رہتے ہی کب تھے۔

پھر ایک دوست بچھڑ گیا، آقا کو اللہ نے اپنے پاس بلوا لیا، عمر تو جیسے ہمت ہار گئے، وہی تلوار نکال لی، «خبردار! جو کسی نے کہا کہ محمد ﷺ دنیا میں نہیں رہے، گردن اتار دوں گا»۔
ابوبکر نے ذرا ہمت کی، ڈولتے ہوئے جذبوں کو سہارا دیا، بلال کی آنکھیں پونچھیں، عمر کو صبر کی تلقین کی، بیٹیوں کے سر پہ ہاتھ رکھا کہ تقدیر کے فیصلوں سے مفر کسے ہے؟

اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ عمر یکسر بدل جاتے ہیں، وہ غصیلی طبیعت، وہ ذرا ذرا سی بات پر تلوار نکالنے والا، جدائی کے ایسے گہرے گھاؤ پڑے کہ اندر تک کرچی ہوگیا، ٹوٹ پھوٹ کر رہ گیا، دکھی لوگ بڑے میٹھے ہوجاتے ہیں، عمر کے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی قیامت گزری تھی۔
اس غصیلے شیر میں یکسر ماؤں کی سی، ارے نہیں، رسول اللہ ﷺ کی سی رحمت آجاتی ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوۃ کے خلاف جہاد کا علم اٹھایا تو راہ میں حائل ہوگئے، «ابوبکر! کیا رسول اللہ ﷺ کی امت کو یوں مارو گے؟»۔ ابوبکر نے حیرانی سے کہا: “عمر جاہلیت میں دلیر اور اسلام میں بزدل؟”۔ بڑی مشکل سے سمجھایا کہ جہاد ضروری ہے۔ (5)

اب یہ دو دوست باقی رہ جاتے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کی یادیں، ہر ہر لمحے اور ہر ہر گھڑی یادوں میں بسرام کرتے، ایک دفعہ ام ایمن کے پاس اس خیال سے چلے گئے کہ محمد ﷺ بھی وہاں جایا کرتے تھے، وہ رونے لگیں:بولے «ام ایمن روتی کیوں ہو؟»۔ جواب ملا: “وحی کا سلسلہ جو منقطع ہوچکا”۔ اور ریت کی طرح پپوٹوں میں کھٹکتے آنسو گرا دئیے گئے، تینوں مل کر رونے لگے۔ (6)

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا، میں نے تجھے یاد کیا

بے شک جس سے محبت ہو اس سے متعلقہ ہر چیز سے انسان کو حد درجہ انس ہوجاتا ہے، سیدہ فاطمہ سے مخاطب ہو کر فرماتے: «فاطمہ، اللہ کی قسم! مجھے اس کائنات میں تیرے بابا سے زیادہ محبت کسی سے نہیں، اور تیرے بابا کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبت اگر کسی سے ہے، تو وہ تجھ سے ہے» (7)

فاطمہ کا گھر جلانے کے فسانے گھڑنے والو! کبھی عمر کو سمجھنےکی کوشش تو کی ہوتی، واللہ بے شرمی بھی تم سے شرما جاتی ہے، جب تم اس مقدس ذات پہ الزام لگاتے ہو۔

ایک دفعہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو فرمانے لگے: «لوگو! پیغمبر کے زمانے میں ہم کو بذریعہ وحی معلوم پڑ جاتا تھا کہ منافق کون ہے اور مسلمان کون ہے؟
اب چوں کہ وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا تو آپ کے ظاہری اعمال دیکھ کر ہی حکم لگایا جاسکے گا» ۔(8)

یہاں تھوڑا سا وقفہ کیجئے! پیغمبر کے رازدان صرف سیدنا حذیفہ نہیں تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بہت ساری باتوں کا علم تھا، منافقین کے متعلق وہ بھی جانتے تھے۔ تو ذرا سوچئے، وہ عمر جو منافق کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیتا، ایک منافق اس کے دور میں شام کا گورنر رہ سکتا ہے؟ اور کیا ایک منافق سے عمر کے یارانے ممکن ہیں؟
ایک دفعہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ شام سے حج کے لئے آئے ، ابن خطاب سے ملاقات ہوئی تو آپ ان کی ٹھاٹھ اور ان کے چہرے کی رونق کو دیکھ کرمحبت بھرے انداز میں تعجب کرنے لگے، آپ بار بار ان کی پیٹھ تھپتھپاتے، اور کہتے! «واہ معاویہ کیا بات ہے» (9)

مجھے کہنے دیجئے کہ معاویہ وہ واحد ذات ہیں، جن کی ٹھاٹھ اور جن کے ناز کو عمر نے بھی سراہاہے، البتہ اس امت کے بدبخت ٹولے کو معاویہ برداشت نہیں ہوتے۔
نماز پڑھتے تو پھر دوست کی یاد آجاتی ہو گی، مسجد ہی میں بیٹھ رہتے، اور لوگوں کے معاملات حل کرنے لگتے۔ یہی طریق رسول اللہ ﷺ کا تھا۔(10)

فتح تستر کے موقع پر بکر بن وائل قبیلہ مرتد ہوا تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ان کو قتل کردیا، جب یہ خبر سیدنا عمر کو دی تو تڑپ کر رہ گئے، «ہائے! اے کاش وہ زندہ میرے پاس آجاتے، اے کاش وہ کلمہ پڑھ لیتے»۔ (11)

کوئی رات کو ملنے آتا تو جاگ رہے ہوتے، اورکوئی دن کو ملنے آتا تو عمر کو سویا ہوا نہیں پاتا تھا۔ (12)

رات کا ایک حصہ عبادت میں صرف کرتے، پھر گھر والوں کو جگاتے اور نماز پڑھانے لگتے۔(13)
ذرا رسول اللہ ﷺ کا زمانہ دیکھو، آقا بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے نا؟

طبیعت کے عجز کا اندازہ تو لگاو، شام گئے تو اپنی سواری سے اتر کر اپنے غلام اسلم کی سواری پر بیٹھ گئے۔ اسلم نے لوگوں کو اشارے سے بتایا کہ یہ ہیں عمر !(14)

ساتھیوں نے کہا: امیر المومنین! آپ اونٹ پر بیٹھے ہیں، گھوڑے پر بیٹھ جائیے کہ رعب و دبدبہ ہووے!لوگوں کو پتہ چلے کہ کوئی بڑا آتا ہے؟
فرمایا:واہ! انما الامر من ہاہنا، بڑائیاں وہاں سے اترتی ہیں،آسمان کی طرف اشارہ کیا۔(15)

مال غنیمت آیا تو فورا سے پہلے لوگوں میں تقسیم کردیا،
(16)
اور اپنے بیٹوں کو کسی نے تحفہ بھی دیا تو بیت المال میں جمع کروا دیا۔(17)

سیدنا قدامہ بن مظعون نے شراب پی تو ان کو کوڑے مارے، قدامہ ناراض ہوگئے، پھرخود ہی ان سے معافی مانگی اور صلح کر لی۔ (18) حالاں کہ یہ صلح بنتی نہ تھی، امیر المومنین حق پر سزا دیں اور لڑائی چہ معنی؟ مگر بچھڑے دوست کے اخلاق کا تتبع بھی تو کرنا تھا۔

سیدنا معاذ بن جبل اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما نے خط لکھا، جوابا تحریر فرمایا کہ خط لکھتے رہا کیجئے، نصیحت کرتے رہا کیجئے، مجھے اصلاح کی ضرورت ہے۔(19)

مدینہ میں قحط آیا تو خود پر لازم کر لیا کہ آئندہ سے گھی نہ کھائیں گے، بلکہ وہی کھائیں گے جو دوسرے لوگ کھاتے ہیں، ایک دفعہ پیٹ نے گڑگڑاہٹ کی تو یوں گویا ہوئے: ارے پیٹ جتنا چاہے گڑگڑا، گھی نہیں ملے گا، جب تلک کہ رسول اللہ ﷺ کی امت گھی نہیں کھاتی۔(20)

جنگ کے لئے لشکر بھیجتے تو فرماتے:
بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کیجئے گا!(21)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ دیکھا کہ امیر المومنین کے دو کندھوں کے درمیان تین پیوند لگے ہوئے اور ایک دوسرے پر چپکے پڑتے ہیں، یہ اسلامی قلمرو کے بادشاہ اور وقت کی سپر پاور کے سپہ سالار کی حالت تھی۔(22)

کبھی اپنے نفس سے مخاطب ہوتے اور فرماتے، تو اللہ سے ڈر جا، نہیں تو تجھے ماروں گا! (23)

کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی عمر ہے، جس کی ہیبت سے زمانہ لرزتا تھا؟ جس کی ایک آواز سے کعبہ کا در کھول دیا گیا تھا؟ جو چھوٹی چھوٹی بات پر تلوار نکال لیا کرتا تھا؟ نہیں!
عمر نے رسول اللہ کو خود پر طاری کر لیا تھا، یہ وہ والا نڈر عمر نہیں، وچھوڑے کا ستایا ہوا عمر ہے، کملی والے کی محبت میں کملایا ہوا عمر ہے۔
عمر دن رات دعائیں کیا کرتے کہ ربا! تیرے نبی کے شہر میں شہادت کی موت چاہتا ہوں، (24)

اب ان دعاوں کی قبولیت کا وقت آرہا تھا، ایک دن نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو لُؤ لُؤ فَیرُوز نے خنجر کے وار سے زخمی کردیا، یہ خنجر کافی رہا، بستر علالت پر جاپڑے ، اور یہی بستر مرگ ثابت ہوا۔
لوگ باگ ملاقاتوں کے لئے آنے لگے، سیدنا مسور بن مخرمہ نے ایک رات ان کے ہاں گزاری، صبح ان کو نماز کے لئے جگایا تو فرمانے لگے:ہاں، جو نماز نہیں پڑھتا اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ پھر صبح کی نماز اس حالت میں ادا کی زخموں سے خون جاری تھا۔(25)

پہلے اصحاب رسول ملنے آئے، پھر مدینہ والوں کو اذن ملا، پھر اہل شام آنے لگے، آخر میں عراقیوں کو اجازت ملی، لوگ آتے اور عمر کی حالت اور ضعف دیکھ کر رونے لگتے! لوگوں نے عرض کیا: امیر المومنین، وصیت کردیجئے!
فرمایا: اللہ کی کتاب کو لازم پکڑنا، جب تک اس کی اتباع کرتے رہو گے، گمراہ نہ ہو گے۔
دو چار وصیتیں مزید کیں اور ان کو وہاں سے اٹھادیا، (26)

بیٹے کو بھیجا کہ جاؤ! امی عائشہ سے اجازت لو کہ عمر اپنے دوستوں کے ساتھ لیٹنا چاہتا ہے، ماں نے احتراما اجازت دے دی۔(27)

بیٹی حفصہ نے ذرا تعریف کی تو اسے ڈانٹ دیا، (28) سر عبد اللہ کی گود میں تھا، فرمانے لگے: اسے زمین پر رکھ دو، بیٹے نےاپنی چادر کا سرہانہ بنایا اور بابا کا سر اس پہ رکھ دیا، باپ پھر غصے میں آگئے، فرمایا: تیری ماں نہ رہے، زمین پہ رکھو میرا سر۔ پھر ایک گردان زبان پر جاری ہوگئی، عمر کے لئے ویل، عمر کی ماں کے لئے ویل، اگر اللہ نے اسے معاف نہ کیا!(29)

بس ایسا ہی کوئی لمحہ تھا کہ روئے زمین پر بعد از انبیاء عدل کی انتہائی مثال اس جہان فانی سے کوچ کر گئی، خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
ابن عباس ان کی چار پائی پر کھڑے تھے، لوگ آپ کے لئے استغفار کرتے تھے، کہ کسی نے ابن عباس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، وہ سیدنا علی المرتضی تھے، فرماتے تھے: مجھےیقین تھا کہ عمر کو اللہ محمد ﷺا ور ابوبکر کے ساتھ جگہ دے گا، میرا دل چاہتا ہے کہ اللہ کےپا س جاؤں تو میرے پلے عمر کے جیسے اعمال ہوں، میں خود رسول اللہ ﷺ کو بار بار فرماتےسنا کرتا تھا، میں ابوبکر اور عمر گئے، میں ابوبکر اور عمر نکلے، میں ابوبکراور عمر داخل ہوئے۔(30)

رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ
اللھم ارزقنا اتباعہم

ابو الوفا محمد حماد اثری
Muhammad Hammad
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(حوالہ جات کمنٹ بار میں ملاحظہ فرمائیں۔)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آنسؤوں میں گندھی تحریر۔۔۔۔۔ ثقہ تاریخ کے جھروکوں سے۔ جناب عمر رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ” ایک تبصرہ

  1. 1)صحیح البخاری : 307۔
    2)صحیح مسلم: 31۔
    3)صحیح البخاری : 1366
    ۔4)صحیح مسلم: 4311۔
    5)۔۔۔۔6)صحیح مسلم: 6472۔
    7)الاحاد والمثانی لابن ابی عاصم: 2962، وسندہ صحیح
    ۔8)صحیح البخاری: 2641
    ۔9)الزہد لابن المبارک: 135، وسندہ صحیح۔
    10)مسند حمیدی: 143، وسندہ صحیح۔
    11)مصنف ابن ابی شیبہ: 33406، وسندہ صحیح۔
    12)الزہد لاحمد بن حنبل: 646، حسن۔
    13)۔ موطا امام مالک : 313، وسندہ صحیح۔
    14)الزہد لابن المبارک: 585، وسندہ صحیح۔
    15)مصنف ابن ابی شیبۃ: 34536، وسندہ صحیح۔16)مصنف ابن ابی شیبۃ : 33535۔
    17)موطا امام مالک: 2534، وسندہ صحیح۔
    18)مصنف عبد الرزاق: 17076، وسندہ صحیح۔
    19)مصنف ابن ابی شیبۃ: 35592۔
    20)طبقات ابن سعد: 3/313، وسندہ صحیح۔
    21)مصنف ابن ابی شیبۃ: 33791، وسندہ صحیح۔
    22) موطا امام مالک:1638، وسندہ صحیح۔
    23)موطا امام مالک : 2860، وسندہ صحیح۔
    24)صحیح البخاری: 1890۔
    25)موطا امام مالک: 117، وسندہ صحیح۔
    26)مصنف ابن ابی شیبۃ: 38218، وسندہ صحیح۔
    27)۔۔۔۔۔۔28)مسند حارث: 264، وسندہ صحیح۔
    29)الزہد لابن ابی داود: 46، وسندہ صحیح۔
    30)فضائل الصحابۃ للنسائی: 14، وسندہ صحیح۔

اپنا تبصرہ بھیجیں