5

عدم وجود theory of nothingness – دوسری قسط : تحریر مظہر بخاری

عدم وجود theory of nothingness

دوسری قسط

یونیورس کو دو مختلف تھیوریز کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک آئن سٹائن کی جرنل تھیوری، جسے ہم میکرو تھیوری بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ تھیوری سورج، چاند ستاروں جیسے بڑے بڑے باری اجسام کی گریویٹی اور حرکات کے مشاہدے سے کائناتی ماڈل کی وضاحت کرتی ہے لیکن اس سطح کی تحقیق و جستجو میں ایک مقام ایسا آیا کہ جہاں جرنل تھیوری ہینڈز اپ ہوگئی، اس مقام پر کوانٹم مکینکس کے اطلاق کی ضرورت محسوس ہوئی، اسے مائیکرو تھیوری بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس میں سب ایٹومک پارٹیکلز کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ دونوں تھوریز ایک دوسرے کی ضد سمجھی جاتی ہے، ایک ہی وقت میں دونوں کا اطلاق ممکن نہیں سمجھا جاتا۔ آئن سٹائن آخری دنوں میں ایک (Unified theory) کے لیے کوشاں رہا لیکن وہ کوانٹم مکینکس کے (Uncertainity) کا قائل نہیں تھا۔ اس کے لیے دونوں تھیوریز کو یکجا نہ کر سکا۔
کیمبرج یونیورسٹی کا سٹیو ہاکنگ گزشتہ 20 سال سے ان دونوں تھوریز کو یکجا کر کے (Theory of everything) دینے کی کوشش میں مصروف تھے۔ جو پچھلے سال انتقال کر گئے۔مزید آگے بڑھنے سے پہلے کوانٹم مکینکس کے ارتقائی سفر کا انتہائی مختصر جائزہ لینا فائدہ مند رہے گا۔
ارسطو ہوا، پانی، مٹی اور آگ کو بنیادی ترین ناقابل تقسیم اجزائے ترکیبی قرار دیتا تھا، ڈیماکریٹس وہ پہلا انسان ہے کہ جس نے لفظ ایٹم استعمال کیا اور اسے مادے کی بنیادی ترین اکائی قرار دیا۔ ایٹم کا یونانی مطلب ہی ناقابل تقسیم (Indvisible) ہے۔
1911 میں نیوزیلینڈ کے فنریسٹ (Ernest rutherford) نے ایٹم کا اندرونی سٹرکچر تجویز کیا کے ایٹم کے مرکز میں مثبت چارج نیوکلیئس اور اس کے گرد الیکٹران ہوتے ہیں۔ 1913 میں ڈینش (Niels bohr) نے ایٹم سے متعلق اپنا ماڈل پیش کیا اور یہ بھی بتایا کے ایکٹرانز مخصوص مداروں میں گردش کرتے ہیں، بوہر نے الیکٹران شیل کا تصور بھی متعارف کر وایا کے کسی بھی ایٹم کی خصوصیات کا نثار اس کے الیکٹران شیل کی تشکیل پر بھی ہوتا ہے۔ 1928 میں کیمبرج کے پروفیسر (Paul dirac) نے اپنی پیش گوئی نما تھیوری پیش کی کے الیکٹران کا بھی کوئی نہ کوئی پارٹنر ضرور ہونا چاہیئے۔ 1932 میں پوزیٹران (Positron) کی دریافت سے اس کی پیش گوئی کی تصدیق کر کے اسے نوبل پرائز دلوایا۔
1932 میں ہی کیمبرج کے (James chdwick) نے نیوکلیئس میں پروٹان کے ساتھ ایک اور پارٹیکل بھی دریافت کر لیا جس کا وزن تو پروٹان کے برابر ہے لیکن اس پر چارج کوئی نہیں۔ اس پارٹیکل کو نیوٹران کہا گیا۔ 1940 میں آسٹریا کے (Meitner lise) جرمن یونیورسٹی میں نیوکلیئس میں اضافی نیوٹران کے داخلے کے امکانات و اثرات کا جائزہ لے رہی تھی۔ یہیودیوں کے خلاف نازیوں کے بڑھتے ہوئے مظالم کی وجہ سے اسے جرمنی چھوڑنا پڑا, بعد ازاں یہی نیوکلیئر فژن تھیوری مین ہٹن پروجیکٹ کی بنیاد بنی جس نے ہیروشیما و ناگا ساقی برباد کر دیا تاہم لزمائنر نے نیوکلیئر انرجی کے فوجی استعمال کی ہمیشہ مخالفت کی۔

1968 تک پروٹان اور نیوٹران کو ہی ایٹم کے بنیادی ترین پارٹیکل سمجھا جاتا تھا تاہم بعد کے تجربات نے ثابت کیا کے یہ دونوں پارٹیکل مزید چھوٹۓ اجزاء پر مشتمل ہے جنہیں فنریسٹ (Murray Gell-mann) نے کوارکس کا نام دے کر نوبل انعام حاصل کیا۔ (Quarks) کو بھی آگے سے مزید اقسام میں تقسیم کیا گیا۔ تجربات سے ظاہر ہوا کے یہ پارٹیکل بھی لہروں کی طرح ہوتے ہیں۔ جس پارٹیکل کی انرجی جتنی زیادہ ہوتی ہے اس ویو لینتھ اتنی کم ہوتی ہے۔ جرمنی کے (Werner heisenberg) نے دریافت کیا کے ان پارٹیکل کی پوزیشن اور رفتار کی ایک ہی وقت میں درست پیمائش ممکن نہیں۔ ایک کی پیمائش جتنی بہتر ہوگی، دوسرے کی اتنی ابتر یعنی اگر پوزیشن ٹھیک معلوم کرلی تو رفتار کی پیمائش غلط ہو جائے گی اور اگر رفتار صحیح جان لی تو پوزیشن کا اندازہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ پارٹیکل کی اسی غیر یقینی حالت کو ورنر ھیزنبرگ نے (Uncertainity principle) کا نام دیا۔ پارٹیکل کا یہی غیر یقینی اصول کوانٹم مکینکس کا لازمی اصول بن گیا۔
اس تھیوری کے مطابق پارٹیکل کی پوزیشن اور رفتار کا الگ الگ جائزہ نہیں لیا جاسکتا کیونکہ وہ ہمیشہ کوانٹم حالت میں رہتے ہیں کہ جو پوزیشن اور رفتار کا امتزاج ہے۔ جس طرح روشنی کے بارے میں اب یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ یہ کبھی پارٹیکلز تو کبھی ویوز کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح کوانٹم مکینکس میں بھی پارٹیکل ویوز کے اس باہنی تبادلے کو مان لیا گیا ہے۔ آئن سٹائن نے اسی غیر یقیقنی صورت حال کی وجہ سے کوانٹم میکینکس کو مکمل طور پر قبول نہ کیا اور کہا (God dose not play dice)۔ کوانٹم میکینکس کے مطابق تمام پارٹیکلز اصل میں ویوز ہیں۔ یا ویوز کی صورت اختیار کر لیتے ہیں کوانٹم میکینکس ورنر ہیرنبرگ کے اسی غیر یقینی اصول اور میکس پلان کے کوانٹم اصول کے ملاپ سے تشکیل پائی۔ واضح رہے کوانٹم وہ ناقابل تقسیم چھوٹی ترین اکائی ہے کہ جس میں کوئی ویو جزب یا خارج ہو سکتی ہے۔
اس تھیوری کے مطابق انرجی سے جوڑوں (پارٹیکلز، اینٹی پارٹیکلز) کی صورت میں بنیادی مادی ذرات پیدا ہو سکتے ہیں، خالی سپیس ایسے پارٹیکل جوڑوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ جوڑے لامتناہی انرجی کے حامل ہو سکتے ہیں اور (E=mc2) کے مطابق لامتناہی ماس پر بھی مشتمل ہو سکتے ہیں۔ ان کی گریویٹیشنل فورس یونیورس کو بھی خم دے کر لامتناہی چھوٹا کر سکتی ہے۔ پارٹیکل اینٹی پارٹیکل جوڑے میں بھی ایک مثبت انرجی کا حامل ہوتا ہے اور دوسرا منفی انرجی کا۔
یونیورس کی ٹوٹل انرجی صفر رہتی ہے کیونکہ مادہ مثبت انرجی سے بنتا ہے اور یہ مادہ خود کو گریویٹی سے جکڑے رکھتا ہے جبکہ اس گریویٹیشنل فیلڈ کی انرجی منفی ہوتی ہے۔ یہ منفی گریویٹیشنل انرجی مادے کی مثبت انرجی کو کینسل کر دیتی ہے۔ اس لیے یونیورس بیلنس اور اس کی انرجی سطح صفر رہتی ہے۔ ہر پارٹیکل کا اینٹی پارٹیکل ہے۔ ہر مثبت انرجی کی منفی انرجی ہے، اس لیے انرجی کنزریویشن قانون کی کہیں بھی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ جتنے پارٹیکل بنتے ہیں اتنے اینٹی پارٹیکلز ہوتے ہیں۔ جتنی مثبت انرجی، اتنی منفی انرجی۔ سائنسدانوں کے مطابق مادہ ہو یا انرجی، یونیورس میں ہر چیز جوڑے کی صورت پیدا ہوکر ایک دوسرے کو کینسل کر کے یونیورس اور اس کے انرجی لیول کا توازن برقرار رکھتی ہے۔

جنرل تھیوری بہت بڑے اجسام پر لاگو ہوتی ہے اور قوانٹم مکینکس کا اطلاق بہت ہی چھوٹے ذرات پر ہو سکتا ہے ان دونوں تھیوریز کے ملاپ سے ایک نئی قوانٹم تھیوری آف گریویٹی بنانے کی کوشش جاری ہے، اس سلسلے میں سٹیوھاکنگ لیڈنگ کردار ادا کر تھے، مقصد یہ تھا کہ ایک ایسی تھیوری تشکیل دی جاسکے کہ جو سب کچھ بیان کر سکے، اسی لیے مجوزہ تھیوری کو (Theory of Everything) کا نام بھی دیا گیاتھا۔ اس قسم کی کسی تھیوری کی ضرورت اسی لیے محسوس ہوئی کہ نئے یونیورسل ماڈل کی تشکیل میں ایک مقام ایسا آیا جہاں فزکس کے سارے قوانین ناکارہ ہو گئے، حتٰی کہ آئن سٹائن کی جرنل تھیوری بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئی، اسی لیے قوانٹم مکینکس کا سہارا لینا پڑا۔ جس مقام نے ان دونوں مختلف تھیوریز کے ملاپ کی ضرورت اجاگر کی، اسے بلیک ہول کہا جاتا ہے.
بلیک ہول کی اصطلاح سب سے پہلے باقاعدہ طور پر امریکی سائنسدان (John wheeler) نے 1969 میں استعمال کی لیکن بلیک ہول کی اصل کہانی 1783 سے شروع ہوتی ہے کہ جب کیمبرج کے پروفیسر (John wheeler) نے ستاروں کے بارے اپنی تھیوری پیش کرتے ہوئے لکھا کہ کئی ستارے بہت بڑے بھی ہو سکتے ہیں۔ اتنے بڑے کہ انکی گریویٹیشنل فورس انکی روشنی تک کو خارج ہونے کی اجازت نہ دیتی ہو اور اسی ستارے میں ہی جزب کر لیتی ہو۔ ان بڑے ستاروں کی روشنی چونکہ انہی ستاروں میں جزب ہو جاتی ہے، خارج ہوکر ہم تک پہنچتی ہی نہیں، اسی لیے یہ دکھائی بھی نہیں دیتے۔ فرانسیسی سائنسدان (Marquis de laplace) نے بھی اسی طرح کی ایک تھیوری پر کام کرتے ہوئے ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے بتایا کہ کوئی ستارہ اپنی ہی گریویٹی کا شکار ہو سکتا ہے اور ایک ایسے ریجن میں پھنس کر رہ جاتا ہے کہ جسکی سطح بالآخر سکڑتے سکڑتے صفر ہو جاتی ہے۔ سطح صفر ہونے کے بعد اس کا حجم بھی صفر ہو جانا چاہیئے۔ اس ستارے کا تمام مادہ بھی اس صفر حجم کے ریجن میں سکڑ جاتا ہے، اس لیے اس کی کثافت (Density) اور سپیس ٹائم کا خم بھی لامتناہی (Infinite) ہو جاتا ہے۔
روجر پنروز کے فارمولے کے مطابق اس طرح کا ستار (Singularity) پر منتج ہوتا ہے۔ روجر نے اپنا اس فارمولے کا صرف ستاروں کی مخصوص حالت پر ہی اطلاق کیا تھا، لیکن کیمبرج کے سٹیو ہاکنگ نے بعد ازاں اسی فارمولے میں وقت کی سمت تبدیل کرکے بلیک ہول کا تصور پوری یونیورس پر لاگو کر دیا اور بگ بینگ کو بھی (Singularity) پر ہی لے گیا یعنی جسطرح ایک ستارہ اپنی ہی مرکز میں گر کر بلیک ہول بن کر (Singularity) ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح یہ پوری یونیورس بھی کبھی (Singularity) ہو سکتی ہے۔ ہاکنگ کو یقین تھا کہ ہماری یونیورس ایک انتہائی چھوٹے سے نقطے سے شروع ہوئی تھی۔ لیکن اب سوال یہ تھا کہ یہ نقطہ کیسے بنا؟ ان دونوں سائنسدانوں نے پھر اس موضوع پر مشترکہ ریسرچ کی اور بتایا کہ بلیک ہول میں لامتناہی کثافت کی (Singularity) اور سپیس ٹائم کا خم (Curvature) ضرور ہونا چاہیئے۔ اس (Singularity) پہ آکر فزکس کے سارے قوانین ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ یہی (Singularity) بعد ازاں سٹیوہاکنگ کے لیے بھی مسئلہ بن گئی اور وہ آخر تک اس پہ کام کرتے رہے۔ لیکن حل نہیں نکال سکے۔

ستاروں کی تشکیل کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کے جب کسی گیس خصوصا ہائیڈروجن کی بہت بڑی مقدار کہیں اکھٹی ہوتی ہے تو گریویٹیشنل اثرات کے تحت یہ گیس سکڑنے لگتی ہے۔ اس عمل میں گیس کے ایٹم بڑی تیز رفتاری سے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ اس ٹکراؤ سے گیس اتنی گرم ہوتی ہے کے ہائیڈروجن کے ایٹم مزید باؤنس نہیں کرتے بالکہ مل کر ہیلیئم بننے لگتے ہیں اس فیوژن پراسس میں جو حرارت خارج ہوتی ہے وہی ستاروں کے چمکنے کے باعث بنتی ہے۔ حرارت میں بے پناہ اضافے پر گیس کا دباؤ بھی اتنا بڑھ جاتا ہے کے وہ بلآخر اس کے گریویٹیشنل اثرات مں توازن کا موجب بن جاتا ہے۔ اس مقام پر گیس مزید سکڑنے سے رک جاتی ہے اور ستارہ متوازن ہو جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ ستارے اپنی ہائیڈروجن اور دیگر نیوکلیئر ایندھن ختم کر بیٹھتے ہیں۔ ستارہ جب مکمل طور پر جل چکا ہوتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے کے ساتھ ساتھ پھر سے سکڑنے لگتا ہے۔ اس کا سارا ماس اور ساری راکھ اس کے مرکز میں گرتی اور جمع ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس سطح پر گریویٹیشنل فیلڈ اتنا طاقتور، پرکشش اور توانا ہو جاتا ہے کے اپنی روشنی تک وہ ہڑپ کر جاتا ہے اور اس کا اخراج و فرار ناممکن بنا دیتا ہے۔ ستارے کی زندگی کے اس نازک مقام کو سائنسی زبان میں بلیک ہول کہا جاتا ہے اور اس کی باؤنڈر کو (Event horizon) کا نام دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ستارے کی موت بلیک ہول بنا دیتی ہے یا یہ بلیک ہول اصل میں ستارے کی قبر ہوتا ہے۔ اس (Event horizon) سے گزرنے والی کوئی بھی چیز لامنتاہی کثافت اور (Singularity) کا شکار ہوتی جاتی ہے۔ بلیک ہول کے مرکز میں سپیس اور ٹائم غائب ہو جاتے ہیں۔ یہی مرکز (Singularity) کہلاتا ہے۔ یہاں سائنس کے سارے قوانین درگور ہو جاتے ہیں۔ فزکس کا کوئی فارمولہ کار آمد نہیں رھتا۔ آئن سٹائن کی جرنل تھیوری بھی ناکارہ ہو جاتی ہے، اور تو اور یہاں وقت تک بے وقعت ہو جاتا ہے، یہاں کوئی وقت نہیں، یہاں کوئی ڈائمنشن نہیں یعنی کوئی زمان و مکاں نہیں، غیر سائنسی زبان میں یہاں کوئی وہاں نہیں، اس لیے سٹیو ہاکنگ کو بلیک ہول کی مزید وضاحت کے لیے قوانٹم مکینکس کا سہارا لینا پڑاتھا ۔

قوانٹم مکینکس کے مطابق ایٹم اور سب ایٹومک پارٹیکلز کی موجودگی اور حرکت کے بارے میں یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ پارٹیکل کسی بھی وقت کہیں بھی ہو سکتا ہے اور ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ جگہ بھی پایا جا سکتا ہے۔ خود فوٹان کی موجودگی بارے بعض اوقات فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات زرات اچانک ظاہر ہو جاتے ہیں اور یک لخت غائب بھی ہو جاتے ہیں۔ انرجی خالی سپیس میں سب ایٹومک پارٹیکلز کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ انرجی سے پارٹیکلز ہمیشہ جوڑے (پارٹیکلز، اینٹی پارٹیکلز) کی صورت پیدا ہوتے ہیں، ایک مثبت انرجی کا حامل ہوتا ہے تو دوسرا منفی انرجی پر مشتمل۔ دونوں ظاہر ہوتے ہیں اور ملکر غائب ہو جاتے ہیں۔ پوری کائنات میں جگہ جگہ ”ظاہر و باطن” کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے، جب بھی حاضر ہوتے ہیں تو اکھٹے ہی ہوتے ہیں اور پھر اکھٹے ہوکر غائب بھی اکھٹے ہی ہوتے ہیں۔ سٹیو ہاکنگ نے سوچا بلیک ہول کے قریب ان سب ایٹومک پارٹیکلز کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟ ہاکنگ نے انتہائی چھوٹے چھوٹے ذرات کی تھوری سے انتہائی بڑے بڑے اجسام کی وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ سٹیفن ہاکنگ کے خیال میں مثبت انرجی پارٹیکلز میں اتنی انرجی ہوتی ہے کہ وہ (Event horizon) سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور یہ بلیک ہول سے ریڈیشن بن کر برآمد ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بلیک ہول کی ریڈیئیشن انہی مثبت پارٹیلکز کی بدولت ہوتی ہے، جبکہ منفی انرجی پارٹیکلز بلیک ہول میں گر جاتے ہیں (کتنی عجیب بات ہے کہ جس بلیک ہول کی انتہائی خوفناک حد تک طاقتور کشش اس کی ذراسی روشنی کو سرکنے نہیں دیتی، وہاں سے یہ ننھا منا، نحیف و نزار سا مثبت انرجی پارٹیکل بچ نکلتا ہے! اس میں یہ سپر نیچرل قوت کہاں سے آگئی؟ اس ٹوپک پر اب تک صرف سائنسدانوں کے تصورات پیش کئے جارہے ہیں، اب سے اتفاق یا اختلاف بعد کی بات ہے، ان کا تجزیہ بھی وہی ہو جائے گا)۔
یہ منفی انرجی پارٹیکل بلیک ہول میں گر کر (E=mc2) کی عملی تعبیر پیش کرتے ہوئے منفی ماس بنکر بلیک ہول کا ماس کم کرنے لگتے ہیں، ماس کم ہونے سے بلیک ہول (Event horizon) کا سائز بھی گھٹنے لگتا ہے۔ ماس بہت زیادہ کم ہونے پر کیا ہوتا ہے، بلیک ہول کا کیا بنتا ہے؟ اس پر سارے سائنسدان ابھی تک خاموش ہیں، نہیں جانتے کہ کیا ہوتا ہے، تاہم ہاکنگ کا خیال تھا کہ اس مقام پر پہنچتے ہی بلیک ہول غائب ہو جاتا ہوگا یا پھر لاکھوں ہائیڈروجن بموں کے دھماکے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہوگا اور جو کچھ اس میں جاتا ہوگا وہ بھی ختم ہو جاتا ہوگا۔ ھاکنگ کا یہ خیال فزکس کے قوانین کی سراسر خلاف ورزی تھا کیونکہ ہر چیز پارٹیکلز سے ملکر بنی ہوئی ہے اور ان پارٹیلکز کی انفرمیشن ضائع یا ختم نہیں کی جا سکتی۔ سٹیفن ہاکنگ کے اسی خیال کو بعد ازاں انفرمیشن پیراڈاکس یا ہاکنگ پیراڈاکس کا نام دیا گیا۔سٹینفورڈ یونیورٹی کے پروفیسر (Leonard susskind) نے اس پیراڈاکس کو چیلنج کر دیا اور کہا کہ تمام انفر میشن (Event horizon) پہ ہی رہ جاتی ہے اس لیے ضائع نہیں ہوتی۔ سٹیفن ہاکنگ نے بڑی مزحمت کے بعد اپنے پیراڈاکس سے مشروط طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔

تحریر مظہر بخاری

جاری ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں