12

حفظ قرآن کے ادارے: چند تجاویز

حفظ قرآن کے ادارے: چند تجاویز
———————————
1- حفظ قرآن کا بہترین ادارہ مسجد ہے۔ اس لیے آپ نے اگر حفظ قرآن کا کوئی اچھا ادارہ کھولنا ہے تو بہتر ہے کہ مسجد میں کھولیں۔ اس کے کئی ایک فوائد ہیں جیسا کہ بچے کا مسجد سے ایک نفیساتی اور معاشرتی تعلق قائم ہو گا، باجماعت نماز کی عادت پڑے گی، مسجد آنے جانے کی عادت پڑے گی، بہت سے اخراجات مثلا بلڈنگ وغیرہ کی بچت ہو گی، مسجد کے بابرکت ماحول کے اثرات ہوں گے، مسجد کا کشادہ ہال مل جائے گا کہ اس کے بھی اثرات ہوتے ہیں کہ تنگ جگہ سے ذہن میں بھی تنگی پیدا ہوتی ہے وغیرہ۔

اگر آپ کے پاس مسجد نہیں ہے تو کسی مسجد والوں سے رابطہ کر کے ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کر لیں جیسا کہ آپ حفظ کے بچوں سے فیس لیں گے اور اس کے بدلے قاری صاحب کو معقول تنخواہ دیں گے اور بجلی وغیرہ کا مناسب بل ادا کریں گے۔ اگر مسجد میں ممکن نہ ہو تو پھر اسکول یا کسی دوسری بلڈنگ میں شروع کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ جگہ کھلی ہو اور صاف ستھری ہو۔ حفظ کے بعض جدید اداروں میں تھوڑی سی جگہ پر زیادہ بچوں کا داخلہ کر لیا جاتا ہے کہ جس سے ماحول میں بہت گھٹن پیدا ہو جاتی ہے۔ اور یہ گھٹن بچوں کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

2- حفظ قرآن کے لیے بہترین اوقات کار حفظ کے روایتی نظام یعنی مدرسہ کے ہیں۔ فجر کی نماز باجماعت سے لے کر صبح گیارہ بجے تک، پھر ظہر سے عصر تک، اور اس کے بعد مغرب سے عشاء تک۔ اگر ان اوقات کی پابندی ممکن نہ ہو تو پھر کچھ ایسی ترتیب ہو کہ نماز کا وقفہ اور لنچ بریک وغیرہ نکال کر روزانہ کی بنیاد پر بچے کو آٹھ گھنٹے پڑھائی کا موقع مل جائے۔ اس سے کم وقت دینے میں منزل کی پختگی کے مسائل پیدا ہوں گے یا حفظ کا دورانیہ بڑھ جائے گا۔

3- حفظ کے ساتھ اسکول کی تعلیم کو جمع نہ کیا جائے اگرچہ پہلے پانچ پاروں میں چونکہ منزل زیادہ نہیں ہوتی ہے لہذا اسکول کی تعلیم کو جمع کیا جا سکتا ہے، اس کے بعد نہیں۔ 4- حفظ میں چھٹیاں بہت نقصان دہ ہیں، عید وغیرہ کے موقع پر بھی دو یا تین سے زیادہ چھٹیاں نہ ہوں۔ عموما ہفتہ دس دن کی چھٹیوں سے بچے بہت کچھ بھلا کر واپس آتے ہیں کہ جسے دوبارہ یاد کرنے میں اور ان کا ٹمپو بننے میں کافی وقت ضائع ہوتا ہے۔ 5- قاری صاحب کو کلاس میں اسمارٹ فون لانے کی بالکل بھی کسی صورت اجازت نہ دی جائے۔ 6- قاری صاحب کو معقول اور مناسب تنخواہ دی جائے تا کہ وہ ٹیوشن وغیرہ کے چکر میں پڑ کر اصل کلاس پر توجہ نہ کھو بیٹھیں۔

7- بچوں کے قاری صاحب تبدیل نہ ہوں کہ اس سے بھی بہت نقصان ہوتا ہے لہذا کوئی بڑا اور سیریس ایشو ہو تو قاری صاحب تبدیل کیے جائیں۔ 8- مسجد اور مدرسہ کے نظام میں والدین کو بچوں کے حفظ پر توجہ کی عموما ضرورت نہیں پڑتی ہے لیکن اسکول کے حفظ کی ترتیب میں کم اوقات ہونے کی وجہ سے والدین کی توجہ بہت ضروری ہے بلکہ گھر میں بچوں کو سبق یاد کروانے کی ذمہ داری وغیرہ بھی والدین پر پڑ جاتی ہے۔ اس کا لحاظ رہے۔ 9- دس پارے منزل ہونے کے بعد دو دو بچوں کو مغرب کے بعد نوافل میں ایک دوسرے کو منزل سنانے کے لیے کھڑا کرنا چاہیے۔ 10- لائق بچہ ایک سال میں، ایورج بچہ ڈیڑھ سال میں اور کمزور بچہ دو سال میں حفظ کر سکتا ہے۔

11- حفظ مکمل ہونے کے بعد بچہ چار ماہ میں لازما گردان نکالے اور تین سال لازما مصلی سنائے۔ 12- حفظ کی بہترین عمر آٹھ سے دس سال ہے اور اس سے بڑی عمر میں بچے میں بغاوت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جبکہ اس سے چھوٹی عمر میں یاد کرنے کے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے بعد حفظ کی بہترین عمر سترہ سال کی ہے جو کہ شعور کی عمر ہے۔ 13- حفظ کے ادارے میں ایک کلاس بڑی عمر کے بچوں کے حفظ کے لیے ضرور رکھیں۔ 14- حفظ کے ادارے میں ایک کلاس ان بڑوں کے لیے ضرور رکھیں جو اپنا بھولا ہوا حفظ ریوائز کرنا چاہتے ہوں۔

15- ہر بچہ حفظ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے کروانا چاہیے لہذا تیسویں پارے کا حفظ کسی بھی بچے کے لیے بطور ٹیسٹ مقرر کرنا چاہیے کہ وہ حفظ کر سکتا ہے یا نہیں۔ 16- ادارے میں مار کٹائی کی بالکل اجازت نہ ہو لیکن بچوں کو مار پڑنے کا ڈر ہو تو اس میں حرج نہیں ہے بلکہ ایسے ڈر اور خوف میں ان کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ 17- حفظ کے لیے بچوں میں ترغیب اور تشویق کا نظام قائم کیا جائے مثلا انہیں حفظ کرنے کے فضائل کی احادیث سنائی جائیں۔ انہیں اچھا سبق، سبقی یا منزل سنانے پر چھوٹا موٹا انعام دے دیا جائے۔ 18- حفظ کی ایک کلاس میں بیس سے زیادہ بچے نہ ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں