17

اللہ تعالی معذور لوگ کیوں پیدا کرتا ہے جبکہ قرآن مجید میں بہت سارے مقامات پر ہے کہ اللہ تعالی بہت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے تو اس قدر مہربان خدا اپنی مخلوق کو معذور کیوں پیدا کرتا ہے جو بظاہر انسانوں پر ایک طرح کا ظلم دکھائی دیتا ہے ؟

اللہ تعالی معذور لوگ کیوں پیدا کرتا ہے جبکہ قرآن مجید میں بہت سارے مقامات پر ہے کہ اللہ تعالی بہت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے تو اس قدر مہربان خدا اپنی مخلوق کو معذور کیوں پیدا کرتا ہے جو بظاہر انسانوں پر ایک طرح کا ظلم دکھائی دیتا ہے ؟

جواب
اسی طرح کا سوال ایک مرتبہ حضرت عیسی سے پوچھا گیا تھا جس کے جواب میں انھوں نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالی نے اندھے لوگ اس لیے پیدا کیے ہیں تاکہ دیکھنے والے اس نعمت کی قدر کر سکیں-
ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ یہ دنیاوی زندگی ہمارے لیے جائے آزمایش ہے- قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق جنت اصل میں ان لوگوں کے لیے انعام ہے جنھوں نے اس آزمایش میں صبرو استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا-اسلام عليكم معزور بچے اللہ كي طرف سے ايك انسان كے ليے امتحان ہے.جب اللہ تعالي ہميں صحتمند اولاد ديتے ہيں تو ہم اسے اپنا حق سمجھ كر كم ہي شكرگزار ہوتے ہيں اور جب اللہ اس كے بعد ايسا بچہ ديتے ھيں جس ميں كچھ كمي ہوتي ہے تو ھميں احساس ہوتا ہے كہ كيا نعمت ملي ہوءي تھي-ليكن جيسا كہ آپ بہنوں نے اوپر سمجھايا كہ مايوسي كے بجاءے اس ميں بھي اللہ كي رحمت تلاش كي جاءے انشااللہ-جس كسي ازماءيش ميں انسان كو ڈالا جاتا ہے اور اس ازمايش ميں وہ ثابت قدم رہتا ہے تو اللہ تعالي اس كي مشكلوں كو اسان كر ديتا ہے
سورۃ الدہر میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ “ان کے صبر اور استقامت کے بدلے میں اللہ تعالی انھیں انعام کے طور پر جنت اور ریشمی ملبوسات سے نوازے گا”-(12-76)
سورۃ الزمر میں ہے “جو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے ان کو ان کا صلہ بے حساب پوراکیا جائے “-(10-93)
دوسرے لفظوں میں کہنا یہ پیش نظر ہے کہ اس دنیا میں جو لوگ معذور نظر آتے ہیں ان کی معذوری کسی گناہ کی سزا نہیں ہوتی بلکہ اس کائنات کے بارے میں اللہ تعالی کی حکمت اور سکیم کے مطابق ہوتی ہے- اس آزمائش کے قانون کے تحت وہ کسی کو بہت مال ودولت دے کر آزماتا ہے تو کسی کو زندگی کی بنیادی بھی میسر نہیں ہوتیں- کسی کو حسن دیتا ہے تو کسی کو بد صورت بنا دیتا ہے بالکل اسی طرح کسی انسان کی جسمانی ساخت میں کوئی نقص ہوتا ہے اور کوئی بالکل تندرست و توانا ہوتا ہے- دنیا کی اس آزمائش میں کسی کو دے کر اس کے شکر کا امتحان کرتا ہے تو کسی سے چھین کر اس کے صبر کا- دین کی تعلیمات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شکر کا امتحان صبر کے امتحان سے زیادہ مشکل ہوتا ہے-
یہاں ایک چیز کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ ایک انسان جتنی صلاحیتوں سے محروم ہوگا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالی کے ہاں جواب دہی اتنی ہی آسان ہوگی اور اس کی محرومی کا اس کو الاؤنس دیا جائے گا-
وہ بچے جن کا دماغی توازن سہی نہیں ہوتا، اس کو الله قیامت کے دن اجر دیگا اور جن میں جسمانی ناقص ہے، وو ان کے لئے بھی امتحان ہی. کیونکہ انسان سری امر عبادت کرے تو جسم کے ایک صحیح حصّے کا شکر نہیں ادا کر سکتے.
وو پورے معاشرے کا امتحان ہیں. ہم اپ سے بھی پوچھا جاےگا ، دوسروں کے لئے کیا کیا ہیں ؟
الله ہمارے گناہوں کو معاف فر ما دے.
امین
پہلا سوال یہ بنتا ہے کہ الله ایسا کیوں کرتا ہے ؟؟؟
گو کہ یہ سوال بنتا نہیں کیوں کہ جب آپ اپنی مرضی سے دنیا میں آئے
نہیں اور نہ ہی ایک مخصوص حد سے آگے جا کر اپنی تمام تر عقل و فہم
کے باوجود مجبور محض قرار پاتے ہیں خود کو تو پھر یہ محاورہ کچھ یوں پڑھ لیں
بندہ کی تے اوس تا سوال کی ؟؟؟
چلیں تھوڑا جواب کی طرف آتے ہیں
یہ تو سب جانتے ہیں کہ الله کے برگزیدہ ترین بندے اس کے نبی اور رسول ہیں
اب اپنے محبوب ترین بندوں کو مثال بنا دیا عام انسان کے لیے
صاحب ایمان ہوتے ہوے
کسی کو خلیل بنایا تو بیٹے اور بیوی کو صحرا و پہاڑوں میں تنہا چھڑوا دیا
پھر حکم ہوا جاؤ اور اسے گلے پر چھری پھیر کر ہمارے نام کی بھینٹ چڑھا دو
الله کے خلیل ہیں لیکن کیا گلا یا سوال ہوا ؟؟
ایک کو کلیم بنایا اپنا اور پیدائش کے ساتھ ہی ماں کی گود سے دور فرما دیا
پھر شہر سے نکال باہر کیا اور ١٠ یا ١٢ سال بکریاں چرانے پر لگا دیا
یہاں بھی کوئی سوال نہیں
ایک کو بدن میں کیڑے ڈال کر ویرانوں میں ڈال دیا اور اس نہج تک پہونچایا کہ
لیٹے لیٹے بیل سے کھا سکتے تھے بیٹھ یا اٹھ نہیں سکتے تھے
کوئی سوال نہیں لہذا صبر کی معراج کو پہونچے
ایک کو مچھلی کے پیٹ میں تاریکیوں میں مقید فرما دیا
کوئی سوال نہیں
ایک کو درجن بیٹے دیے لیکن سب سے محبوب فرزند کو دیگر
بیٹوں کے ہی ہاتھوں ہی کنویں میں ڈالویا اور باپ کو لاچار کر چھوڑا
ایک گیا دیگر کو کچھ کہتا یا بدعا دیتا ہے تو ان سے بھی محروم بلآخر
باپ جو نبی بھی ہے اسے اندھا کر چھوڑتا ہے
یہاں بھی کوئی سوال نہیں
بیٹا جسے حسن یگانہ دیتا ہے باپ موجود لیکن یتیم بنا غلام بنا
پروان چڑھاتا ہے پھر جب صاحب منصب و جاہ ہونے کو ہے تو
ایک اور آزمائش پھر زندان میں ڈال چھوڑتا ہے
کوئی سوال نہیں
ایک کو بغیر باپ کے پیدا کرتا ہے اور ثبوت بہم پہونچتا ہے
لیکن جب نبوّت دیتا ہے تو چند حواری عطا کرتا ہے اور پھر ان
میں ہی سے ایک کو دشمن بنا دیتا ہے نتیجہ سولی چڑھا دینے
کی کوشش اور پھر آسمانوں پر اٹھا لیا جاتا ہے پھر دوبارہ نزول
بھی لکھ دیتا ہے اور صاحب شریعت ہوتے هوئے امتی کر چھوڑتا ہے
کوئی سوال نہیں
کسی کو درخت میں چھپاتا ہے اور ساتھ ہی دشمنوں کو پتا بھی دیتا ہے
اور آری سے دو لخت کرواتا ہے اور ساتھ ہی حکم دیتا ہے کہ اس
دوران زبان سے اف بھی نکلی تو نبوت تو چھوڑ جنّت بھی نہ دیکھے گا
کوئی سوال نہیں
اور پھر ان کو دیکھیں جس کے لیے فرماتا ہے کہ
اگر تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو پیدا نہ کرتا یعنی وجہ وجود کائنات
آپ ، میں ، تمام انبیاء ، گویا زرہ سے آفتاب تک انہی کا احسان مند
جب پیدا کرتا ہے تو یتیم ، پھر ماں کو اس عمر میں اور ویرانے میں
اٹھاتا ہے جب ماں کا لمس ابھی محسوس کرنا شروع کیا جاتا ہے
پھر نبوت دیتا ہے تو قوم کو ایسا دشمن بناتا ہے کہ پتھر بھی کھلواتا ہے
٢ سال نوالے کو ترستا ہے ، پھر شہر سے ہی ہجرت کا حکم آتا ہے
پھر جنگ احد میں زخم بھی دیتا ہے
یہاں آپ معذور اولاد کو روتے ہیں وہاں تین ، تین بیٹے دیتا ہے
اور پھر واپس لے لیتا ہے
کوئی گلا نہیں کوئی شکوہ نہیں
یہ سوال اٹھایا گیا ہے کے اللہ نے انسانوں کو آزمائشوں میں ڈالا انکو تکلیفیں ملیں ، آخر کیوں ؟ بھلا کوئی خوشی ملی ؟
اللہ پاک انسانوں کو انکی اوقات سے بڑھ کر نعمتیں دیتا کیا اسکا کوئی جواب ہے کے وہ ان نعمتوں سے کیوں نوازتا ہے ،
اللہ کے ہر کام میں ایک مصلحت ہوتی ہے جسکو سمجھنے کی انسانی صلاحیت محدود ہے اللہ کے کس کام میں کیا بھلائی چھپی ہے کون سمجھ سکتا ہے۔
یہ ان کا احوال ہے جو منتخب شدہ اور محبوب ترین ٹہرے
آپ “ہم عامیوں “کو روتے ہو ؟؟؟
سانس اس کی ، بدن اس کا ، روح اس کی
آسائش اور تنگی اس کی لیکن ساتھ ہی فرما دیا کہ
نعمت پر شکر کرو ، انعام پاؤ
آزمائش پر صبر کرو ، مالا مال ہو جاؤ
ایک نیکی کرو ١٠ سے کئی گنا پھل لے لو
ایک برائی کرو فقط ایک ہی لکھی جاے گی
قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ
“اگر ہم انسان کو گناہوں پر پکڑتے تو روئے زمین پر کوئی متنفس باقی نہ رہتا “، گویا
کہ ہماری تو یہ چند روزہ زندگی بھی اس کا احسان ٹھری

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ وَلَـٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا ﴿٤٥﴾سورة فاطر

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا۔ تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ سو جب ان کا وقت آجائے گا تو (ان کے اعمال کا بدلہ دے گا) خدا تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے
اور
کلیہ یہ ہے کہ احسان مند سوال نہیں کیا کرتے
بس جس میں محسن راضی اس میں ہم بھی راضی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں