15

نوجوان لوگ اپنا راستہ کیسے بنائیں؟ ـــــ پارٹ وَن – (پہلا حصّہ ــ ایبسٹریکٹ ورلڈ یعنی فکر وخیال کی دنیا سے متعلق کچھ حقائق)

نوجوان لوگ اپنا راستہ کیسے بنائیں؟ ـــــ پارٹ وَن
(پہلا حصّہ ــ ایبسٹریکٹ ورلڈ یعنی فکر وخیال کی دنیا سے متعلق کچھ حقائق)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اپنا راستہ تراشنا پڑتا ہے۔ بستر پر پڑے پڑے خواب و خیال کے گھوڑے کیسے ہی دور تک کیوں نہ دوڑا لیں، یاد رہے، باہر کی مادّی دنیا ذرا جامد، اور سُست رو ہے۔ محض سوچ لینے سے جمود ٹوٹنے کا نہیں۔ اِس ضمن میں قدرت نے جو نظام اس دنیا میں فِکس کر رکھا ہے، اس پر نظر رہنی چاہئیے:

1- اِس مادّی دنیا پر ضربیں لگانا پڑتی ہیں۔ اِسے ہِلانے جُلانے میں قوت و توانائی کی ااچھی خاصی مقدار صرف کرنا پڑتی ہے تب حالات آپ کی فیور میں ڈھلتے ہیں۔ عجلت پسندی کی بجائے صبر اور حوصلہ چاہئیے۔

2- ہر رکاوٹ سے بار بار ٹکرانا پڑتا ہے، تب دیوار گرتی ہے۔ نیز، ایک کے بعد دوسری دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ تاہم، کوئی بھی آزمائش آپ کی مقدارِ ظرف سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کبھی نہیں!

3- یہ رکاوٹیں اصل میں learning lessons یعنی سیکھنے کے اہم اسباق ہیں جو انجامِ کار آپ کوآپ کے شعبے کا گُرو بنا ڈالتی ہیں۔

4- قدرت کا اصول یہ ہے کہ آپ سیکھ سیکھ کر میچور ہو جائیں، تب مطلوبہ شے آپ کو عطا کی جائے ـــ بِن محنت ہاتھ آئی شے کی نہ تو قدر ہوتی ہے، نہ اسے سنبھالنے، برقرار رکھنے کی استعداد ہی۔ آپ اکثر اسے ضائع کر دیتے ہو۔

5- جلدی میں کچھ ہاتھ نہیں آنے کا۔ ہر اچھا، قابلِ ستائش مقام، ہر بڑا حاصل مشقت بھرے ایک طویل عمل کا متقاضی ہے۔ بس اتنی احتیاط رہے کہ یہ عمل آپ کا پسندیدہ ہونا چاہئیے۔ آپ کی صلاحیت اور شوق کیمطابق۔ تب، محنت و ریاضت کے اس عمل میں پڑ جانا بذاتِ خود ایک انعام ہے۔ سارا سفر خوشگوارہو جاتا ہے اگر کام آپ کی پسند کا بھی ہو۔

6- دُعا وہ توانائی ہے جو راستے کا گردوغبار جھاڑنے، رکاوٹیں اور مخالفتیں آپ کے حق میں ڈھال دینے کا پراسیس آسان بنا دیتی ہے۔ یہ صرف ایک سہولت ہے۔ یہ توانائی خالص اور تیز رفتار ہو سکتی ہے اگر آپ عمل کے میدان کے کھلاڑی بھی ہوں۔ پازیٹو سوچ کے مالک ہوں اور جھوٹ، بہتان، شور شرابا، خود غرضی، بے وفائی، غصہ وغیرہ ایسے منفی جذبوں کو مسخّر کئے بیٹھے ہوں۔ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں، اور برے سلوک کو بھلا کر، کشادہ ظرفی سے معاف کرتے ہوئے چلنے کا شعار اپنا چکے ہوں۔ ایسے پازیٹو شخص کی سوچ بھی دُعا بن جاتی ہے۔

7- اپنی کوشش کے باوجود سب کچھ کو خدا کی عطا سمجھنے والا بندہ (اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں) اپنے ماتحت افراد کے حوالے سے خود غرض اور بے رحم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ اسے سخی دل پاؤ گے۔ ایسا بندہ تحمّل، اور شکر گذاری کے احساس سے لبریز رہ کر ذرا بلند مقام پر جا کھڑا ہوتا ہے۔ بلند مقام سے مراد یہ ہے کہ اپنے پرائے بیشتر لوگ اس سے محبّت کرنے لگ جاتے ہیں۔ کیڑے نکالنے والے منفی لوگ اگرچہ ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گے۔ 🙂

8- آپ اور آپ کے کام میں نقائص تلاش کرنے والے کچھ لوگوں کا وجود بھی اِس دنیا میں ضروری ہے۔ یہ ایک اہم سرّ حیات ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے نہ کہ اس پر تلملا جانے کی۔ ایسے لوگوں کی منفی تنقید آپ کو آپ کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے تا کہ آپ خبطِ عظمت کا شکار نہ ہو جائیں۔ خود کو پرفیکٹ نہ سمجھ بیٹھیں ـــــ کہ جس سے آپ کا شخصی حسن اور حاصل کردہ نعمت کسی قدر دھندلا جایا کرتے ہیں۔

9- اِسے کہتے ہیں شکر گذاری کے مقام پر فائز ہو جانا۔ اس کا ایک انعام اور پختہ نشانی یہ بھی ہے کہ آپ ایک مستحکم طبیعت کے مالک بن جاتے ہیں۔ ایسے شخص اندر منفی جذبے جب جب سر اٹھاتے ہیں، وہ اُن کو بہ آسانی کنٹرول میں لے لیا کرتا ہے۔ یُوں، ایسا شخص حاصل کردہ مقام و رتبہ کو برقرار رکھ سکتا ہے، اور زوال کا شکار نہیں ہوتا۔

اُوپر جو کچھ لکھا، سب ایبسٹریکٹ abstract باتیں ہیں جن کا تعلّق باطن کی مضبوطی سے ہے، اور اپنی سمت درست رکھنے کو کچھ آفاقی حقیقتوں سے آگاہ رہنے سے ہے۔ ان پر نظر رہنی چاہئیے۔ اِس تحریر کے پارٹ 2 میں کچھ عملی اقدامات پر بات ہو گی۔ اِس تحریر کا پارٹ ٹُو بہت اہم ہے۔ اصل تحریر وہی ہے۔ سوچا پہلے کچھ بنیادی باتیں شیئر کی جائیں۔ 🙂

پارٹ ٹُو شام 9 بجے، انشا اللہ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمایوں مجاہد تارڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں