5

حجتہ الوداع

حجتہ الوداع

دعوت و تبلیغ کا کام پورا ہو گیا اور اللہ کی الوہیت کے اثبات اس کے ماسوا کی الوہیت کی نفی اور محمدرسول اللہۖ کی رسالت کی بنیاد پر ایک نئے معاشرے کی تعمیر و تشکیل عمل میں آگئی۔ اب گویا غیبی ہاتف آپۖ کے قلب و شعور کو یہ احساس دلا رہا تھا کہ دنیا میں آپۖ کے قیام کا زمانہ اختتام کے قریب ہے۔ چنانچہ آپۖ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کعو 10ھ میں یمن کا گورنر بنا کر روانہ فرمایا تو رخصت کرتے ہوئے منجملہ اور باتوں کے فرمایا ”اے معاذ! غالباً تم مجھ سے میرے اس سال کے بعد نہ مل سکو گے بلکہ غالباً میری اس مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو گے۔” اور حضرت معاذ یہ سن کر رسول اللہۖ کی جدائی کے غم سے رونے لگے۔

درحقیقت اللہ چاہتا تھا کہ اپنے پیغمبرۖ کو اس دعوت کے ثمرات دکھلا دے جس کی راہ میں آپۖ نے بیس برس سے زیادہ عرصہ تک طرح طرح کی مشکلات اور مشقتیں برداشت کی تھیں اور اس کی صورت یہ ہو کہ آپۖ حج کے موقع پر اطرافِ مکہ میں قبائل عرب کے افراد و نمائندگان کے ساتھ جمع ہوں، پھر وہ آپۖ سے دین کے احکام و شرائع حاصل کریں اور آپۖ ان سے یہ شہادت لیں کہ آپۖ نے امانت ادا کر دی۔ پیغامِ رب کی تبلیغ فرما دی اور امت کی خیرخواہی کا حق ادا فرما دیا۔ اس مشیت ایزدی کے مطابق نبیۖ نے جب اس تاریخ حج مبرور کے لیے اپنے ارادے کا اعلان فرمایا تو مسلمانانِ عرب جوق در جوق پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہر ایک کی آرزو تھی کہ وہ رسول اللہۖ کے نقش پا کو اپنے لیے نشان راہ بنائے اور آپۖ کی اقتدا کرے۔ پھر سینچر کے دن جبکہ ذی قعدہ میں چار دن باقی تھے رسول اللہۖ نے کوچ کی تیاری فرمائی۔ بالوں میں کنگھی کی، تیل لگایا، تہبند پہنا، چادر اوڑھی، قربانی کے جانوروں کو قَلاوَہ پہنایا اور ظہر کے بعد کوچ فرما دیا اور عصر سے پہلے ذوالخلیفہ پہنچ گئے۔ وہاں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی اور رات بھر خیمہ زن رہے۔ صبح ہوئی تو صحابہ کرام سے فرمایا ”رات میرے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والے نے آکر کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو حج میں عمرہ ہے۔”

پھر ظہر کی نماز سے پہلے آپۖ نے احرام کے لیے غسل فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپۖ کے جسم اطہر اور سر مبارک میں اپنے ہاتھ سے ذریرہ اور مُشک آمیز خوشبو لگائی۔ خوشبو کی چمک آپکیۖ کی مانگ اور داڑھی میں دکھائی پڑتی تھی مگر آپۖ نے یہ خوشبو دھوئی نہیں بلکہ برقرار رکھی۔ پھر اپنا تہبند پہنا، چادر اوڑھی، دو رکعت ظہر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد مصلے ہی پر حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھتے ہوئے صدائے لبیک بلند کی۔ پھر باہر تشریف لائے۔ قصوا اونٹنی پر سوار ہوئے اور دوبارہ صدائے لبیک بلند کی۔ اس کے بعد اونٹنی پر سوار کھلے میدان میں تشریف لے گئے تو وہاں بھی لبیک پکارا۔

اس کے بعد آپۖ نے اپنا سفر جاری رکھا۔ ہفتہ بھر بعد جب آپۖ سرشام مکہ کے قریب پہنچے تو ذی طویٰ میں ٹھہر گئے۔ وہیں رات گزاری اور فجر کی نماز پڑھ کر غسل فرمایا۔ پھر مکہ میں صبح دم داخل ہوئے۔ یہ اتوار 4 ذی الحجہ 10ھ کا دن تھا۔ راستے میں آٹھ راتیں گزاری تھیں۔ اوسط رفتار سے اس مسافت کا یہی حساب بھی ہے۔ مسجد حرام پہنچ کر آپۖ پہلے خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کی مگر احرام نہیں کھولا کیونکہ آپۖ نے حج و عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا اور اپنے ساتھ ہدی (قربانی کے جانور) لائے تھے۔ طواف و سعی سے فارغ ہو کر آپۖ نے بالائی مکہ میں حجون کے پاس قیام فرمایا لیکن دوبارہ طوافِ حج کے سوا کوئی اور طواف نہیں کیا۔

آپۖ کے جو صحابہ کرام اپنے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) نہیں لائے تھے، آپۖ نے انہیں حکم دیا کہ اپنا حرام عمرہ میں تبدیل کر دیں اور بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرکے پوری طرح حلال ہو جائیں، لیکن چونکہ آپۖ خود حلال نہیں ہو رہے تھے اس لیے صحابہ کرام کو تردد ہوا۔ آپۖ نے فرمایا ”اگر میں اپنے معاملے کی وہ بات پہلے جان گیا ہوتا جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو جاتا۔” آپۖ کا یہ ارشاد سن کر صحابہ کرام نے سر اطاعت خم کر دیا اور جن کے پاس ہدی نہ تھی، وہ حلال ہو گئے۔

آٹھ ذی الحجہ ترویہ کے دن آپۖ مِنی تشریف لے گئے اور وہاں 9 ذی الحجہ کی صبح تک قیام فرمایا۔ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر (پانچ وقت) کی نمازیں وہیں پڑھیں۔ پھر اتنی دیر توقف فرمایا کہ سورج طلوع ہو گیا۔ اس کے بعد عرصہ کو چل پڑے۔ وہاں پہنچے تو وادی نمرہ میں قبہ تیار تھا۔ اسی میں نزول فرمایا۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپۖ کے حکم سے قصوا پر کجاوہ کسا گیا اور آپۖ بطن وادی میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپۖ کے گرد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار انسانوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار روہا تھا۔ آپۖ نے ان کے درمیان ایک جامع خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپۖ نے فرمایا:

”لوگو! میری بات سن لو! کیونکہ میں نہیں جانتا شاید اس سال کے بعد اس مقام پر میں تم سے کبھی نہ مل سکوں۔

تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے آج کے دن کی، رواں مہینے کی اور موجودہ شہر کی حرمت ہے۔ سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے پائوں تلے روند دی گئی ہے۔ جاہلیت کے خون بھی ختم کر دیئے گئے ہیں اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جسے میں ختم کر رہا ہوں۔ وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے۔ یہ بچہ بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا کہ انہیں ایام میں قبیلہ ہذیل نے اسے قتل کر دیا اور جاہلیت کا سود ختم کر دیا گیا اور ہمارے سود میں سے پہلا سود جسے میں ختم کر رہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سُود ہے۔ اب یہ سارا کا سارا سُود ختم ہے۔

ہاں! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے، اور اللہ کے کلمے کے ذریعے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو تمہیں گوارا نہیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو لیکن سخت مار نہ مارنا اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف کے ساتھ کھلائو اور پہنائو۔

اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہے ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے اور وہ ہے اللہ کی کتاب۔

لوگو! یاد رکھو۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں، لہٰذا اپنے رب کی عبادت کرنا، پانچ وقت کی نماز پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، خوشی خوشی اپنے مال کی زکوٰة دینا، اپنے پروردگار کے گھر کا حج کرنا اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا۔ ایسا کرو گے تو اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو گے۔

اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے۔ تو تم لوگ کیا کہو گے؟” صحابہ نے کہا، ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپۖ نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور خیرخواہی کا حق ادا فرما دیا۔

یہ سن کر آپۖ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: ”اے اللہ گواہ رہ۔”

آپۖ کے ارشادات کو ربیعہ بن امیہ بن خلف اپنی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچاتے رہے تھے۔ جب آپۖ خطبہ سے فارغ ہو چکے تو اللہ عزو جل نے یہ آیت نازل فرمائی:

”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بحیثیت دین پسند کر لیا۔”

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت سنی تو رونے لگے۔ دریافت کیا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا، اس لیے کہ کمال کے بعد زوال ہی تو ہے۔

خطبہ کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان اور پھر اقامت کہی۔ رسول اللہۖ نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ اس کے بعد حضرت بلال نے پھر اقامت کہی اور آپۖ نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد سوار ہو کر آپۖ جائے وقوف پر تشریف لے گئے۔ اپنی اونٹنی قصویا کا شکم چٹانوں کی جانب کیا اور حبل مشاة (پیدل چلنے والوں کی راہ میں واقع ریتلے تودے) کو سامنے کیا اور قبلہ رخ مسلسل ا(اسی حالت میں) وقوف فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔ تھوڑی زردی ختم ہوئی، پھر سورج کی ٹکیہ غائب ہو گئی۔ اس کے بعد آپۖ نے حضرت اُسامہ کو پیچھے بٹھایا اور وہاں سے روانہ ہو کر مزدلفہ تشریف لائے۔ مزدلوہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامت سے پڑھیں۔ درمیان میں کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد آپۖ لیٹ گئے اور طلوعِ فجر تک لیٹے رہے۔ البتہ صبح نمودار ہوتے ہی اذان و اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ اس کے بعد قصوا پر سوار ہو کر مشعر حرام تشریف لائے اور قبلہ رخ ہو کر اللہ سے دعا کی اور اس کی تکبیر و تہلیل اور توحید کے کلمہات کہے۔ یہاں اتنی دیر تک ٹھہرے رہے کہ خوب اجالا ہو گیا۔ اس کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے منیٰ کے لیے روانہ ہو گئے اور اب کی بار حضرت فضیل بن عباس کو اپنے پیچھے سوار کیا۔ بطن محسر میں پہنچے تو سواری کو ذرا تیزی سے دوڑایا۔ پھر جو درمیانی راستہ جمرۂ کبری پر نکلتا ہے اس سے چل کر جمرۂ کبریٰ پر پہنچے۔ اس زمانے میں وہاں ایک درخت بھی تھا اور جمرۂ کبریٰ اس درخت کی نسبت سے بھی معروف تھا۔ اس کے علاوہ جمرۂ کبریٰ کو جمرۂ عقبہ اور جمرۂ اولیٰ بھی کہتے ہیں۔ ھپر آپۖ نے جمرۂ کبریٰ کو سات کنکریاں ماریں۔ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے جاتے تھے۔ کنکریاں چھوٹی چھوٹی تھیں جنہیں چٹکی میں لے کر چلایا جا سکتا تھا۔ آپۖ نے یہ کنکریاں بطن وادی میں کھڑے ہو کر ماری تھیں۔ اس کے بعد آپۖ قربان گاہ تشریف لے گئے اوراپنے دست مبارک سے 63اونٹ ذبح کیے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سونپ دیا اور انہوں نے بقیہ 37 اونٹ ذبح کیے۔ اس طرح سو اونٹ کی عتداد پوری ہو گئی۔ آپۖ نے حضرت علی کو بھی اپنی ہدی (قربانی) میں شریک فرما لیا تھا۔ اس کے بعد آپۖ کے حکم سے ہر اونٹ کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا۔ پھر آپۖ نے اور حضرت علی نے اس گوشت میں سے کچھ تناول فرمایا اور اس کا شوربا پیا۔

بعدازاں رسول اللہۖ سوار ہو کر مکہ تشریف لے گئے۔ بیت اللہ کا طواف فرمایا، اسے طوافِ افاضہ کہتے ہیں اور مکہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر (چاہِ زمزم پر) بنو عبدالمطلب کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ حجاج کرام کو زمزم کا پانی پلا رہے تھے۔ آپۖ نے فرمایا ”بنو عبدالمطلب تم لوگ پانی کھینچو۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ پانی پلانے کے اس کام میں لوگ تمہیں ملغوب کر دیں گے تو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ کھینچتا۔” یعنی اگر صحابہ کرام رسول اللہۖ کو خود پانی کھینچتے ہوئے دیکھتے تو ہر صحابی خود پانی کھینچنے کی کوشش کرتا اور اس طرح حجاج کو زمزم پلانے کا جو شرف بنو عبدالمطلب کو حاصل تھا۔ اس کا نظم ان کے قابو میں نہ رہ جاتا۔ چنانچہ بنو عبدالمطلب نے آپۖ کو ایک ڈول پانی دیا اور آپۖ نے اس میں سے حسب خواہش پیا۔

آج یوم انحر تھا یعنی ذی الحجہ کی دس تاریخ تھی۔ نبیۖ نے آج بھی دن چڑھے (چاشت کے وقت) ایک خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ خطبہ کے وقت آپۖ خچر پر سوار تھے اور حضرت علی آپۖ کے ارشادات صحابہ کو سنا رہے تھے۔ صحابہ کرام کچھ بیٹھے اور کچھ کھڑے تھے۔ آپۖ نے آج کے خطبے میں بھی کل کی کئی باتیں دہرائیں۔ صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان مروی ہے کہ نبیۖ نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کو خطبہ دیا۔ فرمایا:

”زمانہ گھوم پھر کر اپنی اسی دن کی ہیئت پر پہنچ گیا ہے جس دن اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار مہینے حرام کے ہیں۔ تین پے در پے یعنی ذی قعدہ ذی الحجہ اور محرم اور ایک رجب مضر جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے درمیان ہے۔”

آپۖ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا، اللہ اور اس کے رسولْ بہتر جانتے ہیں۔ اس پر آپۖ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپۖ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن پھر آپۖ نے فرمایا، کیا یہ ذی احجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا، کیوں نہیں! آپۖ نے فرمایا، یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ اس پر آپۖ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا آپۖ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے مگر آپۖ نے فرمایا، کیا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ آپۖ نے فرمایا، اچھا تو یہ دن کون سا ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ اس پر آپۖ خاموش رہے۔ یہاں تک کہ ہم نے سمجھا آپۖ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے مگر آپۖ نے فرمایا، کیا یہ یوم النحر (قربانی کا دن، یعنی دس ذی الحجہ) نہیں ہے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں؟ آپۖ نے فرمایا، اچھا تو سنو کہ تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے آج کے دن کی حرمت ہے۔

اور تم لوگ بہت جلد اپنے پروردگاھر سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا، لہٰذا دیکھو میرے بعد پلٹ کر گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ بتائو! کیا میں نے تبلیغ کر دی؟ صحابہ نے کہا، ہاں۔ آپۖ نے فرمایا، اے اللہ! گواہ رہ۔ جو شخص موجود ہے وہ غیر موجود تک (میری باتیں) پہنچا دے کیونکہ بعض وہ افراد جن تک (یہ باتیں) پہنچائی جائیں گی وہ بعض (موجود) سننے والے سے کہیں زیادہ ان باتوں کے درو بست کو سمجھ سکیں گے۔

ایک روایت میں ہے کہ آپۖ نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا ”یاد رکھو! کوئی بھی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی اور پر جرم نہیں کرتا (یعنی اس جرم کی پاداش میں کوئی اور نہیں بلکہ خود مجرم ہی پکڑا جائے گا) یاد رکھو! کوئی جرم کرنے والا اپنے بیٹے پر یا کوئی بیٹا اپنے باپ پر جرم نہیں کرتا (یعنی باپ کے جرم میں بیٹے کو یا بیٹے کے جرم میں باپ کو نہیں پکڑا جائے گا) یاد رکھو! شیطان مایوس مایوس ہو چکا ہے کہ اب تمہارے اس شہر میں کبھی بھی اس کی پوجا کی جائے لیکن اپنے جن اعمال کو تم لوگ حقیر سمجھتے ہو، ان میں اس کی اطاعت کی جائے گی اور وہ اسی سے راضی ہوگا۔

اس کے بعد آپۖ ایامِ تشریق (1112۔13 ذی الحجہ کو) منیٰ میں مقیم رہے۔ اس دوران آپۖ حج کے مناسک بھی ادا فرما رہے تھے اور لوگوں کو شریعت کے احکام بھی سکھا رہے تھے۔ اللہ کا ذکر بھی فرما رہے تھے۔ ملت ابراہیمی کے سنن ہدی بھی قائم کر رہے تھے اور شرک کے آثار و نشانات کا صفایا بھی فرما رہے تھے۔ آپۖ نے ایام تشریق میں بھی ایک دن خطبہ دیا۔ چنانچہ سنن ابی دائود میں بہ سنہ حسن مروی ہے کہ حضرت سراء بنت بنہان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہۖ نے ہمیں رئوس کے دن خطبہ دیا اور فرمایا، کیا یہ ایام تشریق کا درمیانی دن نہیں ہے؟ آپۖ کا آج کا خطبہ بھی کل (یوم النحر) کے خطبے جیسا تھا اور یہ خطبہ سورۂ نصر کے نزول کے بعد دیا گیا تھا۔

ایام تشریق کے خاتمے پر دوسرے یوم النفر یعنی 13 ذی الحجہ کو نبیۖ نے منیٰ سے کوچ فرمایا اور وادی ابطح کے خیف بن کنانہ میں فروکش ہوئے۔ دن کا باقی ماندہ حصہ اور رات وہیں گزاری اور ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں وہیں پڑھیں۔ البتہ عشاء کے بعد تھوڑا سا سو کر اٹھے، پھر سوار ہو کر بیت اللہ تشریف لے گئے اور طوافِ وداع فرما آئے۔

اور اب تمام مناسک حج سے فارغ ہو کر آپۖ نے سواری کا رخ مدینہ منورہ کی راہ پر ڈال دیا۔ اس لیے نہیں کہ وہاں پہنچ کر راحت فرمائیں بلکہ اس لیے کہ اب پھر اللہ کی خاطر اللہ کی راہ میں ایک نئی جدوجہد کا آغاز فرمائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں