16

پرانا فرنیچر : حنیف سمانا – تنہائی بہت ظالم ہوتی ہے .

پرانا فرنیچر : حنیف سمانا

تنہائی بہت ظالم ہوتی ہے .
اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایسے جیون ساتھی جنہوں نے زندگی کا ایک طویل سفر ایک ساتھ گزارہ ہو . وہ ایک دوسرے کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ ان میں سے خدانخوستہ کوئی ایک دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو دوسرے کے لئے جینا دوبھر ہوجاتا ہے اور پھر بہت جلد دوسرا بھی دنیا چھوڑ جاتا ہے. ایک ساتھ محبت سے رہنے والے جیون ساتھی ایک دوسرے کی زندگی کا حصّہ بن جاتے ہیں. ایک دوسرے کے ہاتھ پیر بن جاتے ہیں. ایک دوسرے کی آنکھیں بن جاتے ہیں. بعض اوقات تو ان کی شکلیں بھی ایک جیسی ہوجاتی ہیں. ان کے دکھ درد سانجھے ہوتے ہیں. خوشیاں ایک سی ہوتی ہیں. یہاں تک کہ سپنے بھی ایک جیسے دیکھتے ہیں. زندگی کے دن …چاہے اچھے ہوں یا برے… وہ مل بانٹ کے گزارتے ہیں اور پھر ایک روز دبے پاؤں موت کی دیوی ان میں سے کسی ایک کو لینے آجاتی ہے. دوسرا ٹوٹ کے رہ جاتا ہے. پہلے تو اس کی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ اب ہوگا کیا. وہ اپنے ساتھی کے بغیر کیسے جی پائے گا. اسے اس زندگی کے تصور سے ہی خوف آتا ہے جو اس کے ہمدم و ہمسفر کے بغیر ہو. پھر دن گزرتے جاتے ہیں. وقت مرہم رکھنا شروع کرتا ہے. بھلاوہ بھی قدرت کی ایک نعمت ہے. اگر بھولنے کی عادت نہ ہو تو لوگ اپنے پیاروں کے ساتھ ہی مر جائیں. وہ رفتہ رفتہ نئے سرے سے زندگی شروع کرتا ہے. اپنے آپ کو اکیلا زندگی کے سفر پر گامزن کرتا ہے. چلنا تو ہے ہی جب تک سانس ہے. گرتے پڑتے، کبھی اٹھتے، کبھی سنبھلتے ، سفر جاری رہتا ہے. مگر ایک کمی سی ضرور رہتی ہے.
اکثر گھروں میں بزرگ دادا دادی اور نانا نانی قسم کے لوگ جو اپنے جیون ساتھی کے جانے کے بعد اپنی بقیہ زندگی گھر کے پرانے فرنیچر کی طرح گزارتے ہیں. ان کی اولادوں کی نظر میں…. خاص طور پر پوتے پوتیوں، یا نواسے نواسیوں کے آگے بعض اوقات ان کی وقعت ایک پرانے فرنیچر سے زیادہ نہیں ہوتی. وہ بیچارے کسی سے بات کرنے کو ترستے ہیں. مگر اس مصروف دور میں نہ اولاد کے پاس ان کے پاس بیٹھنے کا وقت ہوتا ہے اور نہ ہی اولاد کی اولادوں کے پاس. اپنے فرینڈز، ٹی وی، موبائل اور لیپ ٹاپ سے کچھ وقت بچتا ہے تو وہ گھر کے بزرگوں کو خیرات میں دے دیتے ہیں.

ہم عجیب لوگ ہیں. ہمارے پاس ہزاروں میل دور بیٹھے ایک اجنبی سے “چیٹنگ” کے لئے تو وقت ہے مگر اپنے ہی گھر کے کونے میں پڑے بوڑھے باپ، دادا یا نانا کے لئے وقت نہیں جسے ہماری توجہ کی حد سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے. ہمیں انٹرنیٹ کے ذریعے بنے دوست کی ناراضگی کا تو خیال ہوتا ہے کہ اگر اسے جواب نہیں دیا تو کہیں unfriend کر دےگا. مگر اس بوڑھے کا خیال نہیں ہوتا کہ کہیں اسے جواب نہیں دیا تو یہ ناراض نہ ہوجائے. ہمیں پتہ ہے کہ اس بیچارے نے ناراض ہوکے بھی کہاں جانا ہے. ہمارے ہی رحم و کرم پہ رہنا ہے. وقت اسے اس مقام پر لے آیا کہ کل تک جو ہماری کفالت کرتا تھا… ہمیں پالتا تھا… ہماری چھوٹی بڑی خواہشیں پوری کرتا تھا… آج اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے بھی اسے ہماری طرف دیکھنا پڑتا ہے… اور ہمارا رویہ …اس کا کوئی چھوٹا موٹا کام کرکے ایسا ہوتا ہے جیسے ہم نے حاتم طائ کی قبر پر لات ماری ہے اور پھر ایک روز……. وہ گھر کا پرانا فرنیچر بھی اپنی جگہ چھوڑ دیتا ہے. پھر ہم اس کے لئے روتے ہیں. آتے جاتے اس کے کمرے کی طرف دیکھتے ہیں. اس کی چیزوں کو دیکھ کے اسے یاد کرتے ہیں. اس کا چہلم اور برسیاں مناتے ہیں. اس کی یاد میں مختلف پروگرام رکھتے ہیں. اس کی تصویریں دیکھتے ہیں. کاش کے ہم نے زندگی میں ہی اسے اتنی اہمیت دی ہوتی تو اس کی زندگی کے آخری سال کچھ اچھے گزر گئے ہوتے…
اے کاش!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں