13

عالمگیر اور غریب بڑھیا کی مدد۔

عالمگیر اور غریب بڑھیا کی مدد۔
ــــــــــــــــــــــ
ملک اور رعایا کے صحیح حالات معلوم کرنے کے لیے واقعہ نگاری وار پرچی نویسی کے صیغوں کی ابتداء حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے ہوئی۔اس کے بعد ہر عادل خلیفہ اور بادشاہ نے اس محکمہ کو نہ صرف باقی رکھا بلکہ وسعت بھی دی۔
اورنگزیب عالمگیر کے زمانہ میں بھی یہ محکمہ معتبر و محتاط حکام کے سپرد تھا۔جس کی وجہ سے برصغیر ہندوستان کے کونے کونے کی خبر عالمگیر کو پہنچتی رہتی تھی اور معمولی سے معمولی واقعہ کا بھی اسے علم ہوتا رہتا تھا۔وہ اپنے تمام عمال کی کارگزاریوں کی نگرانی انہیں پرچہ نویسوں کے ذریعے کرتا تھا،اس نے شاہی جاہ و جلال،شان و شوکت اور ناز و نعم کی بجائے اپنی زندگی رعایا کی خدمت اور راحت رسانی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
1050ھ میں عالمگیر حسن ابدال کے سفر پر روانہ ہوا۔راستہ میں اسے ایک باغ میں قیام کرنا پڑا،اس کی دیوار کے نیچے ایک بڑھیا کا رہائشی مکان اور ایک پن چکی تھی جو باغ کے پانی سے چلتی تھی۔مغل اعظم کے قیام کے دوران میں سرکاری ملازمین نے باغ کا پانی روک لیا،جس کی وجہ سے چکی چلنا بند ہو گئی۔
اور نگزیب کے پرچہ نویس(خفیہ پولیس) نے فورا اس واقعہ کی اطلاع اورنگزیب کو پہنچائی۔انہوں نے اسی وقت پانی کھلوا دیا۔رات کو جب کھانے پر بیٹھے تو دو قاب کھانے کے اور پانچ اشرفیاں ابو الخیر کو دیں کہ اس بڑھیا کو دے آؤ اور میری طرف سے معذرت کرو کہ افسوس ہمارے آنے کی وجہ سے تم کو تکلیف ہوئی۔تم معاف کرو۔
صبح کو پالکی بھیج کر آپ نے بڑھیا کو بلوا کر حرم میں بھیجا۔عالمگیر کو پتہ چلا کہ بڑھیا کی دو بن بیاہی لڑکیاں اور دولڑکے ہیں۔تو دو سو روپے عنایت کئے،بیگمات نے بھی اسے جواہر سے مالا مال کر دیا۔
دو تین دن کے بعد آپ نے بڑھیا کو بلوایا اور لڑکی کی شادی کے لیے دو ہزار روپے عنایت کئے،بیگمات و شہزادوں نے اس بڑھیا پر اشرفیوں کی بارش کی۔اس طرح چند دنوں میں بڑھیا امیر ہو گئی۔
اورنگزیب کے ملازموں کے ہاتھوں اس بڑھیا کو جو تکلیف پہنچی،اس کی تلافی کے لیے انہوں نے خود بھی معافی مانگی اور نقصان سے کئی گنا زیادہ معاوضہ بھی ادا کیا۔لیکن اس دور کے اربابِ اختیار سے ایسے حسنِ اخلاق کی توقع محض فریبِ نفس ہوگا۔اوّل تو مظلوموں اور ستم رسیوں کی فریادیں وہاں تک رسائی ہی حاصل نہیں کرسکتیں اور اگر وہ دیوارودر کو چیرتی ہوئی ان کے گرانِ گوش تک پہنچ بھی جائیں تو داد رسی کے امکانات مفقود ہوتے ہیں۔چہ جائیکہ معاوضہ میں انعام و اکرام ملے۔
حضرت طاؤسؒ نے سلیمان بن عبدالملک سے فرمایا:اے امیر المومنین!جہنم میں ایک کنوایں کے کنارے پر سے ایک چٹان کو گریا گیا تو ستر سال تک اس میں گرتی رہتی،تب جا کر اس کی انتہا تک پہنچی۔کیا آپ کو معلوم ہے اللہ تعالیٰ نے وہ کس کے لیے تیار کیا ہے؟
کہا معلوم نہیں۔فرمایا:ہلاکت ہے اللہ نے جس کے لیے تیار کیا ہے(اس کے لیے ہلاکت ہے)،جس کواللہ نے اپنے حکم میں شریک کیا(یعنی حکمران بنایا) لیکن اس نے ظلم کرنا شروع کر دیا۔طاؤسؒ فرماتے ہیں یہ بات سن کر سلیمان بن عبدالملک رو پڑے۔(حلیہ الاولیاء)
حسن بن یحییٰ خشنی فرماتے ہیں:جہنم میں کوئی گھر ایسا نہیں نہ کوئی گھاٹ کی جگہ نہ طوق نہ بیڑی نہ زنجیر ،مگر جواس کا مستحق ہے اس پر اس کا نام لکھا ہوا ہے۔
احمد(ابن ابی الحواری) کہتے ہیں:میں نے یہ بات ابوسفیان کو بتائی تو وہ رو پڑے۔پھر فرمایا۔تیرے لیے ہلاکت ہو،اس کا کیا حال ہوگا جواس کا مستحق ہو۔طوق اس کے گلے میں بیڑیاں اس کے پاؤں میں،زنجیر اس کی گردن میں ڈال کر اسے آگ میں ڈالا جائے،پھر اسے لوٹ مار کی جگہ پھینک دیا جائے(تو اس لوٹ مار کی جگہ جہنم میں جو بلا جیسے چاہے اسے کاٹ کھائے،ڈس لے،جلائے اور قسم وقسم کی تکلیف پہنچائے)اللہ ہمیں اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔
آمين يارب العالمين

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں