4

آخری فوجی مہم

آخری فوجی مہم

رومن امپائر کی کبریائی کو گوارا نہ تھا کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کے زندہ رہنے کا حق تسلیم کرے اسی لیے اس کی قلمرو میں رہنے والا کوئی شخص اسلام کا حلقہ بگوش ہو جاتا تو اس کے جان کی خیر نہ رہتی۔ جیسا کہ معان کے رومی گورنر حضرت فروہ بن عمرو جذامی کے ساتھ پیش آچکا تھا۔

اس جرأتِ بے محابا اور اس غرور بے جا کے پیش نظر رسول اللہۖ نے صفر 11ھ میں ایک بڑے لشکر کی تیاری شروع فرمائی اور حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اس کا سپہ سالار مقرر فرماتے ہوئے حکم دیا کہ بلقاء کا علاقہ اور داروم کی فلسطینی سرزمین سواروں کے ذریعے روند آئو۔ اس کارروائی کا مقصد یہ تھا کہ رومیوں کو خوفزدہ کرتے ہوئے ان کی حدود پر واقع عرب قبائل کا اعتماد بحال کیا جائے اور کسی کو یہ تصور کرنے کی گنجائش نہ دی جائے کہ کلیسا کے تشدد پر کوئی بازپرس کرنے والا نہیں اور اسلام قبول کرنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اپنی موت کو دعوت دی جا رہی ہے۔

اس موقع پر کچھ لوگوں نے سپہ سالار کی نوعمری کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور اس مہم کے اندر شمولیت میں تاخیر کی۔ اس پر رسول اللہۖ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ ان کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کر رہے ہو تو ان سے پہلے ان کے والد کی سپہ سالاری پر طعنہ زنی کر چکے ہو، حالانکہ وہ خدا کی قسم سپہ سالاری کے اہل تھے اور میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھے اور یہ بھی ان کے بعد میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہیں۔

بہرحال صحابہ کرام حضرت اسامہ کے گردا گرد جمع ہو کر ان کے لشکر میں شامل ہو گئے اور لشکر روانہ ہو کر مدینہ سے تین میل دور مقامِ جرف میں خیمہ زن بھی ہو گیا لیکن رسول اللہۖ کی بیماری کے متعلق تشویشناک خبروں کے سبب آگے نہ بڑھ سکا بلکہ اللہ کے فیصلے کے انتظار میں وہیں ٹھہرنے پر مجبور ہو گیا اور اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ یہ لشکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کی پہلی فوجی مہم قرار پائے۔

رفیق اعلیٰ کی جانب

الوداعی آثار:

جب دعوتِ دین مکمل ہوگئی اور عرب کی نکیل اسلام کے ہاتھ میں آگئی تو رسول اللہۖ کے جذبات و احساسات، احوال و ظروف اور گفتار و کردار سے ایسی علامات نمودار ہونا شروع ہوئیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اب آپۖ اس حیاتِ مستعار کو اس جہانِ فانی کے باشندگان کو الوداع کہنے والے ہیں۔ مثلاً:

آپۖ نے رمضان 10ھ میں بیس دن اعتکاف فرمایا جبکہ ہمیشہ دن دن ہی اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ پھرحضرت جبریل نے آپۖ کو اس سال دو مرتبہ قرآن کا دور کرایا جبکہ ہر سال ایک ہی مرتبہ دور کرایا کرتے تھے۔ آپۖ نے حجتہ الوداع میں فرمایا ”مجھے معلوم نہیں شاید میں اس سال کے بعد اپنے اس مقام پر تم لوگوں سے کبھی نہ مل سکوں۔” جمرۂ عقبہ کے پاس فرمایا ”مجھ سے اپنے حج کے اعمال سیکھ لو کیونکہ میں اس سال کے بعکد غالباً حج نہ کر سکوں گا۔” آپۖ پر ایام تشریق کے وسط میں سورہ نصر نازل ہوئی اور اس سے آپۖ نے مجھ لیا کہ اب دنیا سے روانگی کا وقت آن پہنچا ہے اور یہ موت کی اطلاع ہے۔

اوائل صفر 11میں آپۖ دامن اُحد میں تشریف لے گئے اور شہداء کے لیے اس طرح دعا فرمائی گویا زندوں اور مُردوں سے رخصت ہو رہے ہیں۔ پھر واپس آکر منبر پر فروکش ہوئے اور فرمایا ”میں تمہارا میرِ کارواں ہوں اور تم پر گوا ہوں۔ بخدا، میں اس وقت اپنا حوض (حوضِ کوثر) دیکھ رہا ہوں۔ مجھے زمین اور زمین کے خزانوں کی کُنجیاں عطا کی گئی ہیں اور بخدڈا مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد شرک کرو گے بلکہ اندیشہ اس کا ہے کہ دنیا طلبی میں باہم مقابلہ کرو گے۔”

ایک روز نصف رات کو آپۖ بقیع تشریف لے گئے اور اہل بقیع کے لیے دعائے مغفرت کی۔ فرمایا ”اے قبر والو! تم پر سلام۔ لوگ جس حال میں ہیں اس کے مقابل تمہیں وہ حال مبارک ہو جس میں تم ہو۔ فتنے تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ایک کے پیچھے ایک چلے آرہے ہیں اور بعد والا پہلے والے سے زیادہ برا ہے۔ اس کے بعد یہ کہہ کر اہلِ قبور کو بشارت دی کہ ہم بھی تم سے آ ملنے والے ہیں۔

مرض کا آغاز:

29صفر 11ھ روز دوشبنہ کو رسول اللہۖ ایک جنازے میں بقیع تشریف لے گئے۔ واپسی پر راستے ہی میں دردِ سر شروع ہو گیا اور حرارت اتنی تیز ہوگئی کہ سر پر بندھی ہوئی پٹی کے اوپر سے محسوس کی جانے لگی۔ یہ آپۖ مرض الموت کا آغاز تھا۔ آپۖ نے اسی حالتِ مرض میں گیارہ دن نماز پڑھائی۔ مرض کی کل مدت 13 یا 14 دن تھی۔

آخری ہفتہ:

رسول اللہۖ کی طبیعت روز بروز بوجھل ہوتی جا رہی تھی۔ اس دوران آپۖ ازدواج مطہرات سے پوچھتے رہتے تھے کہ میں کل کہاں رہوں گا؟ میں کل کہاں رہوں گا؟ اس سوال سے آپۖ کا جو مقصود تھا ازواجِ مطہرات اسے سمجھ گئیں، چنانچہ انہوں نے اجازت دے دی کہ آپۖ جہاں چاہیں رہیں۔ اس کے بعد آپۖ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں منتقل ہو گئے۔ منتقل ہوتے ہوئے حضرت فضل بن عباس اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہا کا سہارا لے کر درمیان میں چل رہے تھے۔ سر پر پٹی بندھی تھی اور پائوں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ اس کیفیت کے ساتھ آپۖ حضرت عائشہ کے مکان میں تشریف لائے اور پھر حیاتِ مبارکہ کا آخری ہفتہ وہیں گزارا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا موذات اور رسول اللہۖ سے حفظ کی ہوئی دعائیں پڑھ کر آپۖ پر دم کرتی رہتی تھیں اور برکت کی امید میں آپۖ کا ہاتھ آپۖ کے جسم مبارک پر پھیرتی رہتی تھیں۔

وفات سے پانچ دن پہلے

وفات سے پانچ دن پہلے روز چہار شنبہ (بدھ) کو جسم کی حرارت میں مزید شدت آگئی جس کی وجہ سے تکلیف بھی بڑھ گئی اور غشی طاری ہو گئی۔ آپۖ نے فرمایا مجھ پر مختلف کنوئوں کے سات مشکیزے بہائو تاکہ میں لوگوں کے پاس جا کر وصیت کر سکوں۔ اس کی تکمیل کرتے ہوئے آپۖ کو ایک لگن میں بٹھا دیا گیا اور آپۖ کے اوپر اتنا پانی ڈالا گیا کہ آپۖ بس بس کہنے لگے۔

اس وقت آپۖ نے کچھ تخفیف محسوس کی اور مسجد میں تشریف لے گئے۔ سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ منبر پر فروکش ہوئے اور بیٹھ کر خطبہ دیا۔ صحابہ کرام گردا گرد جمع تھا۔ فرمایا ”یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنایا۔”

ایک روایت میں ہے: ”یہود و نصاریٰ پر اللہ کی مار کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا۔” آپۖ نے یہ بھی فرمایا ”تم لوگ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے۔”

پھر آپۖ نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش کیا اور فرمایا ”میں نے کسی کی پیٹھ پر کوڑا مارا ہو تو میری یہ پیٹھ حاضر ہے، وہ بدلہ لے لے اور کسی کی بے آبروئی کی ہو تو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ بدلہ لے لے۔”

اس کے بعد آپۖ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور عداوث وغیرہ سے متعلق اپنی پچھلی باتیں دہرائیں۔ ایک شخص نے کہا، آپۖ کے ذمہ میرے تین درہم باقی ہیں۔ آپۖ نے فضل بن عباس سے فرمایا، انہیں ادا کر دو۔ اس کے بعد انصار کے بارے میں وصیت فرمائی۔ فرمایا:

”میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ میرے قلب و جگر ہیں۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی مگر ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں، لہٰذا ان کے نیکوکار سے قبول کرنا اور ان کے خطاکار سے درگزر کرنا۔” ایک روایت میں ہے کہ آپۖ نے فرمایا ”لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار گھٹے جائیں گے۔ یہاں تک کہ کھانے میں نمک کی طرح ہو جائیں گے، لہٰذا تمہارا جو آدمی کسی نفع اور نقصان پہنچانے والے کام کا والی ہو تو وہ ان کے نیکوکاروں سے قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے۔”

اس کے بعد آپۖ نے فرمایا ”ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو کچھ چاہے اللہ اسے دے دے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کر لے تو اس بندے نے اللہ کے پاس والی چیز کو اختیار کر لیا۔” ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ یہ بات سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا ”ہم اپنے ماں باپ سمیت آپۖ پر قربان۔” اس پر ہمیں تعجب ہوا۔ لوگوں نے کہا، اس بڈھے کو دیکھو! رسول اللہۖ تو ایک بندے کے بارے میں یہ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے اُسے اختیار دیا کہ دنیا کی چمک دمک اور زیب و زینت میں سے جو چاہے اللہ اسے دے دے یا وہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اختیار کر لے اور یہ بڈھا کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کے ساتھ آپۖ پر قربان۔ (لیکن چند دن بعد واضح ہوا کہ) جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود رسول اللہۖ تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ صاحب علم تھے۔

پھر رسول اللہۖ نے فرمایا، مجھ پر اپنی رفاقت اور مال میں سب سے زیادہ صاحبِ احسان ابوبکر ہیں اور اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا لیکن (ان کے ساتھ) اسلام کی اخوت و محبت کا تعلق ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہ چھوڑا جائے بلکہ اسے لازماً بند کر دیا جائے، سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔

چار دن پہلے:

وفات سے چار دن پہلے جمعرات کو جب آپۖ سخت تکلیف سے دوچار تھے۔ فرمایا ”لائو میں تمہیں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم لوگ کبھی گمراہ نہ ہو گے۔” اس وقت گھر میں کئی آدمی تھے جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہوں نے کہا، آپۖ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے۔ بس اللہ کی یہ کتاب تمہارے لیے کافی ہے۔ اس پر گھر کے اندر موجود لوگوں میں اختلاف پڑ گیا اور وہ جھگڑ پڑے۔ کوئی کہہ رہا تھا، لائو رسول اللہۖ لکھ دیں اور کوئی وہی کہہ رہا تھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا، اس طرح لوگوں نے جب زیادہ شور و شغب اور اختلاف کیا تو رسول اللہۖ نے فرمایا ”میرے پاس سے اٹھ جائو۔”

پھر اسی روز آپۖ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ ایک اس بات کی وصیت کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین کو جزیرة العرب سے نکال دینا۔ دوسرے اس بات کی وصیت کی کہ وفود کی اسی طرح نوازش کرنا جس طرح آپۖ کیا کرتے تھے۔ البتہ تیسری بات کو راوی بھول گیا۔ غالباً یہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی وصیت تھی لیا شکرِ اسامہ کو روانہ کرنے کی وصیت تھی یا آپۖ کا یہ ارشاد تھا کہ نماز اور تمہارے زیردست یعنی غلاموں اور لونڈیوں کا خیال رکھنا۔

رسول اللہۖ مرض کی شدت کے باوجود اس دن تک یعنی وفات سے چار دن پہلے (جمعرات) تک تمام نمازیں خود ہی پڑھایا کرتے تھے۔ اس روز بھی مغرب کی نماز آپۖ ہی نے پڑھائی اور اس میں سورة والمرسلات عرفاً پڑھی۔

لیکن عشاء کے وقت مرض کا ثقل اتنا بڑھ گیا کہ مسجد میں جانے کی طاقت نہ رہی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبیۖ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا، نہیں یارسول اللہۖ سب آپۖ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپۖ نے فرمایا، میرے لیے لگن میں پانی رکھو۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ آپۖ نے غسل فرمایا اور اس کے بعد اٹھنا چاہا لیکن آپۖ پر غشی طاری ہو گئی۔ پھر افاقہ ہوا تو آپۖ نے دریافت کیا، کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا، نہیں یا رسول اللہۖ سب آپۖ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ اور پھر سہ بارہ وہی بات پیش آئی جو پہلی بار پیش آچکی تھی کہ آپۖ نے غسل فرمایا، پھر اٹھنا چاہا تو آپۖ پر غشی طاری ہو گئی۔ بالآخر آپۖ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان ایام میں نماز پڑھائی نبیۖ کی حیاتِ مبارکہ میں ان کی پڑھائی ہوئی نمازوں کی تعداد سترہ ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ نے نبیۖ سے تین یا چار بار مراجعہ فرمایا کہ امامت کا کام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بجائے کسی اور کو سونپ دیں۔ ان کا منشاء یہ تھا کہ لوگ ابوبکر کے بارے میں بدشگون نہ ہوں لیکن نبیۖ نے ہر بار انکار فرما دیا اور فرمایا تم سب یوسف والیاں ہو۔ ابوبکر کو حکم دو، وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

ایک دن یا دو دن پہلے:

ہفتہ یا اتوار کو نبیۖ نے اپنی طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی۔ چنانچہ دو آدمیوں کے درمیان چل کر ظہر کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کو نماز پڑھا رہے تھے۔ وہ آپۖ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔ آپۖ نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹیں اور لانے والوں سے فرمایا کہ مجھے ان کے بازو میں بٹھا دو۔ چنانچہ آپۖ کو ابوبکر کے بائںی بٹھا دیا گیا۔ اس کے بعد ابوبکر رسول اللہۖ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے اور صحابہ کرام کو تکبیر سنا رہے تھے۔

ایک دن پہلے:

وفات سے ایک دن پہلے بروز اتوار نبیۖ نے اپنے تمام غلاموں کو آزاد فرما دیا۔ پاس میں سات دینا تھے انہیں صدقہ کر دیا۔ اپنے ہتھیار مسلمانوں کو ہبہ فرما دیئے۔ رات میں چراغ جلانے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے تیل پڑوسن سے ادھار لای۔ آپۖ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع (کوئی 75 کیلو) جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔

حیات مبارکہ کا آخری دن:

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ دو شنبہ کے روز مسلمان نماز فجر میں مصروف تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ امامت فرما رہے تھے کہ اچانک رسول اللہۖ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے حجرے کا پردہ ہٹایا اور صحابہ کرام پر جو صفیں باندھے نماز میں مصروف تھے نظر ڈالی۔ پھر تبسم فرمایا۔ ادھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑ کے بل پیچھے ہٹے کہ صف میں جا ملیں۔ انہوں نے سمجھا کہ رسول اللہۖ نماز کے لیے تشریف لانا چاہتے ہیں۔ حضرت انس کا بیان ہے کہ رسول اللہۖ (کے اس اچانک ظہور سے) مسلمان اس قدر خوش ہوئے کہ چاہتے تھے کہ نماز کے اندر ہی فتنے میں پڑ جائیں (یعنی آپۖ کی مزاج پرسی کے لیے نماز توڑ دیں) لیکن رسول اللہۖ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز پوری کر لو۔ پھر حجرے کے اندر تشریف لے گئے اور پردہ گرا لیا۔

اس کے بعد رسول اللہۖ پر کسی دوسری نماز کا وقت نہیں آیا۔

دن چڑھے چاشت کے وقت آپۖ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور ان سے کچھ سرگوشی کی۔ وہ رونے لگیں۔ آپۖ نے انہیں پھر بلایا اور کچھ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ بعد میں ہمارے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ (پہلی بار) نبیۖ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپۖ اسی مرض میں وفات پا جائںی گے۔ اس لیے میں روئی۔ پھر آپۖ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ آپۖ کے اہل و عیاس میں سب سے پہلے میں آپۖ کے پیچھے جائوں گی۔ اس پر میں ہنسی۔

نبیۖ نے حضرت فاطمہ کو یہ بشارت بھی دی کہ آپۖ ساری خواتین عالم کی سیدہ (سردار) ہیں۔

اس وقت رسول اللہۖ جس شدید کرب سے دوچار تھے اسے دیکھ کر حضرت فاطمہ بے ساختہ پکار اٹھیں واکرب باہ ” ہائے ابا جان کی تکلیف” آپۖ نے فرمایا ”تمہارے ابا پر آج کے بعد کوئی تکلیف نہیں۔”

آپ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہا کو بلا کر چوما اوران کے بارے میں خیر کی وصیت فرمائی۔ ازواج مطہرات کو بلایا اور انہیں وعظ و نصیحت کی۔

ادھر لمحہ بہ لمحہ تکلیف بڑھتی جا رہی تھی اور اس زہر کا اثر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گیا تھا جسے آپۖ کو خیبر میں کھلایا گیا تھا۔ چنانچہ آپۖ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے ”اے عائشہ! خیبر میں جو کھانا میں نے کھا لیا تھا اس کی تکلیف برابر محسوس کر رہا ہوں۔ اس وقت مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اس زہر کے اثر سے میری رگِ جاں کٹی جا رہی ہے۔”

آپۖ نے صحابہ کرام کو بھی وصیت فرمائی۔ فرمایا ”الصلاة الصلاة وما ملکت ایمانکم” ”نماز نماز اور تمہارے زیردستے۔” (یعنی لونڈی، غلام) آپۖ نے یہ الفاظ کئی بار دہرائے۔

نزع رواں

پھر نزع کی حالت شروع ہو گئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپۖ کی اپنے اوپر ٹیک لگوا دی۔ ان کا بیان ہے کہ اللہ کی ایک نعمت مجھ پر یہ ہے کہ رسول اللہۖ نے میرے گھذر میں، میری باری کے دن میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے وفات پائی اور آپ کی موت کے وقت اللہ نے میرا لعاب اور آپۖ کا لعاب اکٹھا کر دیا۔ ہوا یہ کہ عبدالرحمن بن ابی بکر آپۖ کے پاس تشریف لائے۔ ان کے ہاتھ میں مسواک تھی اور رسول اللہۖ مجھ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپۖ مسعواک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ میں سمجھ گئی کہ آپۖ مسواک چاہتے ہیں۔ میں نے پوچھا، آپۖ کے لے لوں؟ آپۖ نے سر سے اشارہ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے مسواک لے کر آپۖ کو دی تو آپۖ کو کڑی محسوس ہوئی۔ میں نے کہا، اسے آپۖ کے لیے نرم کر دوں؟ آپۖ نے سر کے اشارے سے کہا، ہاں۔ میں نے مسواک نرم کر دی اور آپۖ نے نہایت اچھی طرح مسواک کی۔ آپۖ کے سامنے کٹورے میں پانی تھا۔ آپۖ پانی میں دونوں ہاتھ ڈال کر چہرہ پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے۔ ”لا الہ الا اللہ، اللہ کے سعوا کوئی معبود نہیں۔ موت کے لیے سختیاں ہیں۔”

مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپۖ نے ہاتھ یا انگلی اٹھائی۔ چھت کی طرف بلند کی اور دونوں ہونٹوں پر کچھ حرکت ہوئی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کان لگایا تو آپۖ فرما رہے تھے۔ ”ان انبیائ، صدیقین، شہدا اور صالحین کے ہمراہ جنہیں تو نے انعام سے نوازا۔ اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر اور مجھے رفیق اعلیٰ میں پہنچا دے۔ اے اللہ! رفیق اعلیٰ!!”

آخری فقرہ تین بار دہرایا اور اسی وقت ہاتھ جھک گیا اور آپۖ رفیق اعلیٰ سے جالاحق ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

یہ واقعہ 12ربیع الاول 11ھ یوم دوشنبہ کی چاشت کو شدت کے وقت پیش آیا۔ اس وقت نبیۖ کی عمر تریسٹھ سال چار دن ہو چکی تھی۔

غم ہائے بیکراں:

اس حادثہ دلفگار کی خبر فوراً پھیل گئی۔ اہل مدینہ پر کوہِ غم ٹوٹ پڑا۔ آفاق و اطراف تاریک ہو گئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے جس دن رسول اللہۖ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا اور جس دن رسول اللہۖ نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔

آپۖ کی وفات پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرط غم سے فرمایا یاابتاہ اجاب ربا دعاہ یا ابتاہ من جنة الفردوس ماواہ، یا ابتاہ الی جبریل ننعاہ

”ہائے ابا جان! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا، ہائے ابا جان جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ ہائے ابا جان! ہم جبریل کو آپۖ کی موت کی خبر دیتے ہیں۔”

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موقف:

وفات کی خبر سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہوش جاتے رہے۔ انہوں نے کھڑے ہو کر کہنا شروع کیا ”کچھ منافقین سمجھتے ہیں کہ رسول اللہۖ کی وفات ہو گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہۖ کی وفات نہیں ہوئی بلکہ آپۖ اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں جس طرح موسیٰ بن عمران علیہ السلام تشریف لے گئے تھے اور اپنی قوم سے چالیس رات غالب رہ کر ان کے پاس پھر واپس آگئے تھے۔ حالانکہ واپسی سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ انتقال کر چکے ہیں۔

خدا کی قسم رسول اللہۖ بھی ضرورپلٹ کر آئیں گے اور ان لوگوں کے ہاتھ پائوں کاٹ ڈالیں گے جو سمجھتے ہیں کہ آپۖ کی موت واقع ہو چکی ہے۔”

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا موقف:

ادھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سنح میں واقع اپنے مکان سے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے اور اُتر کر مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔ پھر لوگوں سے کوئی بات کیے بغیر سیدھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور رسول اللہۖ کا قصد فرمایا۔ آپۖ کا جسد مبارک دھاریدار یمنی چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ حضرت ابوبکر نے رخ انور سے چادر ہٹائی اور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں