22

کرکٹ کی کالی آندھی – میٹھی چائے کے ظلم – میرین آرکیالوجی

کرکٹ کی کالی آندھی – میٹھی چائے کے ظلم – میرین آرکیالوجی

چین، عرب، مشرقِ بعید، برِصغیر، افریقہ یا یورپ میں رہنے والے لوگوں کے رنگ روپ اور شکل صورت منفرد ہے جس کی وجہ ہزاروں سال کی جغرافیائی علیحدگی ہے۔ شمالی امریکہ اور آسٹریلیا میں سفید فام اور جنوبی امریکہ میں ہسپانوی نسل کی اکثریت کی وجہ قرونِ وسطیٰ میں یورپ سے نکل کر کی جانے والی کالونائیزیشن ہے۔ کرکٹ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم جب اپنے عروج پر تھی تو اسے ‘کالی آندھی’ کا نام دیا گیا۔ امریکہ کے قریب جزائر سے تعلق رکھنے والی یہ آندھی ‘کالی’ کیوں؟ اس کی بڑی وجہ دنیا میں میٹھی چائے کی طلب تھی۔ کیسے؟ پہلے ایک چکر سمندر کے نیچے کا۔

میرین آرکیالوجی میں سمندر کے نیچے محفوظ پرانے بحری جہازوں کے ملبے سے اپنے ماضی کو پڑھا جاتا ہے۔ جس طرح آج کی دنیا میں خلائی جہاز ٹیکنالوجی کا شاہکار ہیں، آج سے کچھ صدیوں پہلے نئی دنیاؤں کی دریافت کا ذریعہ بحری جہاز تھے اور یہ اس دور کی ٹیکنالوجی کا شاہکار تھے۔ ان میں سے سمندربرد ہونے والے مختلف ادوار کے جہاز انسانی دستبرد سے محفوظ سمندر کی تہہ میں وقت میں ٹھہری ہوئے ایک تصویر دکھاتے ہیں۔ سونے چاندی سے لدے ہوئے جہاز، جنگی جہاز، انسانوں یا تجارتی مال کو ٹرانسپورٹ کرنے والے یا پھر بحری قزاقوں کے جہاز طوفانوں، اپنی کمزوریوں یا دوسرے انسانوں کی سبب اپنے عملے اور سامان سمیت سمندر کی تہہ میں بکھرے پڑے ہیں۔ ان کو معلوم کرنے کا سب سے اہم طریقہ میگنومیٹر سروے ہے جس سے مقناطیسی سگنل تہہ میں لوہے کا بتا دیتا ہے اور پھر غوطہ خور تہہ میں جا کر اس کے ٹکڑے جوڑتے ہیں۔ ایک جہاز کو سٹڈی کرنا صبرآزما کام ہے اور اس کی پوری تصویر بنانے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

ہنرئیٹا ماری نام کے بحری جہاز نےاپنا مال اتار کر برطانیہ کی طرف کو سفر کرنا تھا۔ یہ 1700 میں طوفانوں کا موسم تھا۔ کیوبا اور فلوریڈا کے درمیان یہ جہاز طوفان کا مقابلہ نہ کر سکا اور اپنے عملے سمیت غرق ہو گیا۔ پہلی بار 1972 میں سونے چاندی کے خزانوں کی تلاش کرنے والی ایک گروپ نے اس کا پتہ لگایا۔ لیکن جب اس کا سامان دیکھا تو اس کے تاریک راز کا علم ہوا۔ یہ غلاموں کی تجارت کرنے والا بحری جہاز تھا۔ یہ جہاز اس گروپ کے لئے بیکار تھا۔ 1983 میں آرکیولوجسٹس نے اس کی باقیات نکالنے پر کام شروع کیا۔ اس کے تاریک راز اپنی تفصیل سے بے نقاب ہونا شروع ہوئے اور اگلے تین برس میں سات ہزار اشیاء یہاں سے برآمد ہوئیں۔ یہ جہاز سترہویں اور اٹھارہویں صدی کی تجارتی مثلث کا حصہ تھا۔

گنے کے رس سے بنائی گئی چینی کی مانگ پوری دنیا میں تھی۔ گنا گرم مرطوب جگہ پر پیدا ہوتا ہے۔ جزائر غرب الہند اس کو اگانے کے لئے بہترین مقام ہیں۔ زراعت میں مشینوں کا استعمال نہیں تھا۔ اس کو کرنے کے لئے بہت سی افرادی قوت چاہیۓ تھی۔ یہ افرادی قوت افریقہ سے آتی تھی۔ افریقی قبائل کی آپس میں جنگوں میں بنے قیدی بکنے والا مال تھے۔ افریقہ کے کئی علاقے، خاص طور پر کانگو کی سلطنت افرادی قوت کی سپلائی کا سب سے بڑا ذریعہ تھی۔ تجارتی مثلث میں افریقہ سے غلام نئی دنیا کو جاتے، چینی، کپاس اور دوسری اجناس امریکہ سے یورپ اور یورپ سے کانچ کے زیور، کپڑے اور اسلحہ افریقہ کو۔ کانگو کی بادشاہت لوہے کی سلاخوں کے بدلے اپنے انسانوں کی تجارت کرتی۔ کل ایک کروڑ بیس لاکھ لوگ جبری طور پر افریقہ سے اپنے گھروں سے نکالے گئے اور بحرِ اوقیانوس کی دوسری پار ہزاروں میل جبری طور پر مشقت کے لئے فروخت ہوئے۔

غلاموں والے اس جہاز کو ڈیزائن اس طریقے سے کیا جاتا کہ یہ انسانی ‘مال’ جہاز میں زیادہ سے زیادہ آئے، دوسری جگہ تک پہنچنے تک محفوظ رہ جائے اور راستے میں تنگ نہ کرے۔ اس میں مرد، خواتین، لڑکے، لڑکیاں شامل ہوتے۔ دو غلاموں کو آپس میں ایک بیڑی سے باندھ کر رکھا جاتا۔ ہر پانچ میں سے ایک غلام اس طویل سفر کے آخر تک زندہ نہیں بچتا تھا۔ اس ملبے سے اس طرح کی نوے بیڑیاں نکالی جا چکی ہیں جس سے 180 لوگ آپس میں باندھے گئے ہوں گے۔ اس جہاز میں کانچ کے زیور اور لوہے کی سلاخیں بھی ملیں ہیں جن کے عوض یہ لوگ ان کے اپنے ہم نسل لوگوں نے فروخت کئے تھے۔

ویسٹ انڈیز کے جزائر میں گنے کی فصل کی وجہ سے افریقہ سے آئے ان لوگوں اور پھر ان کی اگلی نسلوں کی تعداد بڑھتی گئی اور یہی لوگ بھاری اکثریت میں تھے۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد یورپ کی کمزور پڑتی گرفت کی وجہ سے سب سے پہلے ہیٹی کو 1802 میں آزادی ملی اور پھر صنعتی انقلاب کے بعد مشینری آ جانے، انسانی قوت پر انحصار کم ہونے اور نتیجے میں ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ دوسرے جزائر بھی آزاد ہوتے چلے گئے۔ غلاموں سے بھرا آخری جہاز 1860 میں آیا اور یہ تجارت ماضی کا حصہ بنتی چلی گئی۔ ہنرئیٹا میری ماضی میں ہونے والی اس تجارت کی ایک یادگار ہے۔

انسانی تجارت کی وجہ جزائر غرب الہند پر افرادی قوت کے مانگ تھی۔ اس افرادی قوت کی مانگ کی وجہ دنیا میں میٹھے کی چاہت تھے۔ کیا اس دور میں اپنی چائے میں چینی ڈالتے ایک شخص کو علم تھا کہ اس کے چمچے میں سفید پاؤڈر کے لئے کتنے انسانوں کے ساتھ کیا کچھ ہو رہا ہے؟ یقینا نہیں۔ اس کے پیچھے اس کی ظلم کرنے کی خواہش نہیں، بلکہ لاعلمی اور لاتعلقی تھی۔ اس لئے جاننا اور علم ضروری ہے۔ میرین آرکیولوجی سے ملتی یہ تصاویر ہمیں یاد کرواتی ہیں کہ سپلائی چین میں ایتھیکل کمپلائنس کس قدر اہم ہے۔ دنیا میں سب سے بڑے ظلم لاعلمی اور لاتعلقی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم میں سیاہ فام کھلاڑیوں کے آباء دنیا کی چینی کی مانگ پوری کرنے کے لئے افریقہ سے نکل کر بیڑیوں میں بندھے ان جزائر میں پہنچے تھے۔ بارباڈوس، گیانا اور جمیکا میں گنے کی کاشت ابھی بھی ہوتی ہے لیکن انسانوں کی جگہ مشینوں نے لے لی ہے۔

پہلی تصویر ایک جہاز کے ڈیزائن کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کس طرح فٹ آ سکتے ہیں
دوسری تصویر ایک نیلام کی
تیسری تصویر اس تجارتی مثلث کی
چوتھی تصویر ان نکلی ہوئی بیڑیوں میں سے ایک کی
پانچویں تصویر میرین آرکیالوجی کرتے ہوئے

اس کا بڑا حصہ اس کتاب سے لیا گیا۔
Shackles from the Deep: Michael Cottman

اس ڈوبے ہوئے بحری جہاز کے بارے میں
https://en.wikipedia.org/wiki/Henrietta_Marie

سمندری آرکیالوجی پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Maritime_archaeology

تجارتی مثلث پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Triangular_trade

غلاموں کی اس تجارت پر
https://en.wikipedia.org/wiki/Atlantic_slave_trade

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں