5

ہمارے نظامِ شمسی کے تسلیم شدہ آٹھ سیارے – تیسرا حصّہ

ہمارے نظامِ شمسی کے تسلیم شدہ آٹھ سیارے

تحریر Zahid Arain

تیسرا حصّہ
زہرہ۔۔ Venus۔۔دوسرا حصّہ۔۔

مقناطیسی میدان اور مرکزہ
1967 میں وینیرا 4 نے زہرہ پر موجود انتہائی کمزور مقناطیسی میدان دریافت کیا۔ یہ مقناطیسی میدان زمین کے برعکس محض قطبی ہواؤں اور آئنو سفیئر کے درمیان تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ اس مقناطیسی میدان کی وجہ سے زہرہ پر آنے والی خلائی تابکاری کا معمولی سا حصہ رک جاتا ہے۔ طاقتور مقناطیسی میدان کی عدم موجودگی حیران کن ہے کیونکہ دیگر بہت سارے حوالوں سے زہرہ اور زمین ایک جیسے ہیں۔

مدار اور گردش
زہرہ سورج کے گرد تقریباً 10 کروڑ 80 لاکھکلومیٹر کے فاصلے پر گردش کرتا ہے۔ ایک گردش پوری کرنے پر اسے 224.65 زمینی دن لگتے ہیں۔ اگرچہ تمام تر سیاروں کے مدار بیضوی ہوتے ہیں تاہم زہرہ کا مدار تقریباً گول ہے۔ زہرہ زمین اورسورج کے درمیان زمین کا قریب ترین سیارہ ہے اور اس کا اوسط فاصلہ زمین سے 4 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر ہے۔ مثال کے طور پر پہلے 5383 سال کے دوران زہرہ 526 مرتبہ زمین سے 4 کروڑ کلومیٹر سے کم فاصلے سے گذرا ہے۔ تاہم اگلے 60٫200 سال تک فاصلہ 4 کروڑ کلومیٹر سے کم نہیں ہوگا۔ زہرہ اور زمین کا کم سے کم فاصلہ 3 کروڑ 82 لاکھ کلومیٹر سے کم نہیں ہو سکتا۔ اگر سورج کے شمالی قطب سے دیکھا جائے تو تمام سیارے سورج کے گرد گھڑیال مخالف رخ گھومتے ہیں ۔ اسی طرح ان تمام سیاروں کی اپنے محور کے گرد گردش گھڑیال مخالف سمت ہوتی ہے تاہم زہرہ کی گردش گھڑیال موافق ہے۔ زہرہ 243 زمینی دنوں میں ایک بار گھومتا ہے۔خط استوا پر اس کی حرکت کی رفتار ساڑھے چھ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جو ہمارے نظام شمسی کے بڑے سیاروں میں سب سے کم ہے۔ زمین پر یہی رفتار 1٫670 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ زہرہ پر سورج مغرب سے نکلتا اور مشرق میں غروب ہوتا ہے۔ زہرہ کا ایک دن زمینی اعتبار سے 116.75 دنوں کے برابر ہے۔ اس طرح زہرہ کا ایک سال 1.92 دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ زہرہ کا مدار اور اس کی گردش کچھ اس طرح کی ہے کہ ہر 584 زمینی دنوں میں زہرہ زمین کے قریب آ جاتا ہے۔ یہ مدت زہرہ کے 5 دنوں کے برابر ہے۔ اس وقت زہرہ کا اپنا کوئی چاند نہیں۔

مشاہدہ
زہرہ ہمیشہ دیگر ستاروں سے زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ سب سے زیادہ روشن یہ تب دکھائی دیتا ہے جب زمین کے قریب ہوتا ہے۔ جب سورج زہرہ کے عقب میں ہو تو اس کی روشنی کچھ ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ سیارہ اتنا روشن ہے کہ عین دوپہر کے وقت جب مطلع صاف ہو تو اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت زہرہ کا مشاہدہ زیادہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ جب زہرہ کی آب و تاب عروج پر ہو تو کئی لوگ اسے غلطی سے اڑن طشتری سمجھ لیتے ہیں۔ اپنے مدار پر گردش کے دوران زہرہ بھی چاند کی طرح گھٹتا بڑھتا دکھائی دیتا ہے جو دوربین کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے۔ زہرہ کا مدار کچھ اس طرح کا ہے کہ یہ بہت کم سورج کے سامنے سے گذرتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم اس وقت زہرہ کا مدار کچھ اس نوعیت کا ہے کہ ہر 243 سال میں ایک بار سورج کے سامنے سے گذرتا ہے۔ موجودہ حساب کے مطابق زہرہ ہر 105.5 یا 121.5 سال بعد گذرتا ہے۔ حال ہی میں جون 2004 میں زہرہ سورج کے سامنے سے گذرا تھا اور اس کا اگلا چکر جون 2012 میں لگے گا۔ اس سے قبل یہ واقعہ دسمبر 1874 اور دسمبر 1882 میں پیش آیا تھا۔ اگلی بار یہ واقعہ دسمبر 2117 اور دسمبر 2125 میں پیش آئے گا۔ تاریخی اعتبار سے زہرہ کا سورج کے سامنے سے گزرنا بہت اہم سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس سے سائنسدانوں کو فکلیاتی اکائی کی پیمائش کرنے کا موقع ملتا تھا جو نظام شمسی کی پیمائش کے لیے اہم تھا۔آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کی مہم جوئی سے قبل کیپٹن جیمز کک 1768 میں تاہیتی میں زہرہ کے سورج کے سامنے سے گذرنے کا مشاہدہ کیا تھا۔

سطح اور فضائی سائنس
وینیرا ہفتم کو اتنا مضبوط بنایا گیا کہ وہ زہرہ کی فضاء کو برداشت کر سکے۔ اس جہاز میں 180 بار جتنا دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت تھی۔ اس کے علاوہ نیچے اترنے کے عمل سے قبل اس جہاز کو ٹھنڈا کیا گیا اور خصوصی پیراشوٹ لگایا گیا تاکہ یہ خلائی جہاز 35 منٹ میں سطح پر اتر جائے۔ 15 دسمبر 1970 کو اترتے وقت پیراشوٹ پھٹ گیا اور یہ جہاز کافی تیزی سے سطح سے ترچھے ٹکرایا۔ ٹکراؤ کے بعد 23 منٹ تک اس جہاز سے سگنل ملتے رہے۔ یہ سگنل پہلی بار کسی دوسرے سیارے کی سطح سے زمین پر موصول ہوئے۔وینیرا منصوبے کے تحت وینیرا ہشتم بھیجا گیا جس کے سطح پر اترنے کے 50 منٹ تک معلومات بھیجتا رہا۔ وینیرا ہشتم 22 جولائی 1972 کو زہرہ کی فضاء میں داخل ہوا۔ وینیرا نہم 22 اکتوبر 1975 کو زہرہ کی فضاء میں داخل ہوا ۔ وینیرا دہم اس کے تین دن بعد یعنی 25 اکتوبر کو زہرہ کی سطح پر اترا اور دونوں نے پہلی بار زہرہ کے مناظر کی تصاویر بھیجیں۔ دونوں جہاز مختلف جگہوں پر اترے اور دونوں مقامات پر انتہائی مختلف قسم کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ وینیرا نہم 20 ڈگری ڈھلوان سطح پر اترا جہاں 30 سے 40 سم قطر کے پتھر موجود تھے جبکہ وینیرا دہم بسالٹ نما چٹانی سلیبوں پر اترا۔ اسی دوران امریکہ نے میرینر دہم عطارد کو بھیجا جو زہرہ کی کشش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گزرنا تھا۔ یہ جہاز زہرہ سے 5٫790 کلومیٹر کے فاصلے سے گذرا اور 4٫000 سے زیادہ تصاویر بھی بھیجیں۔ ان تصاویر کے مطابق عام روشنی میں زہرہ کی سطح پر کچھ نہیں دکھائی دیا لیکن بالائے بنفشی روشنی کی مدد سے زہرہ کے بادلوں کی ایسی تفاصیل ملیں جو پہلے کبھی زمینی دوربینوں سے نہیں دکھائی دیئے تھے۔ امریکی پائینیر وینس پراجیکٹ میں دو الگ الگ مشن تھے۔ پائینیر وینس آربٹر کو زہرہ کے مدار میں بیضوی مدار میں 4 دسمبر 1978 کو داخل کیا گیا جو وہاں تیرہ سال تک گردش کرتا رہا اور زہرہ کی فضاء کا ریڈار کی مدد سے مطالعہ اور سطح کی نقشہ کشی کرتا رہا۔ پائینیر وینس ملٹی پروب نے 9 دسمبر 1978 کو چار مختلف سیارچے زہرہ کی فضاء میں داخل کئے جنہوں نے اس کی ساخت، ہوا اور حدت کے بارے معلومات بھیجیں۔ اگلے چار سالوں میں چار مزید وینیرا جہاز بھیجے گئے۔ وینیرا گیارہ اور بارہ کا مقصد زہرہ کے برقی طوفانوں کاجائزہ لینا تھا اور وینیرا تیرہ اور چودہ یکم مارچ اور 5 مارچ 1982 کو کو سطح پر اترے اور پہلی بار ہمیں زہرہ کی رنگین تصاویر ملیں۔ ان چاروں جہازوں کو پیراشوٹ کی مدد سے اتارا گیا لیکن پیراشوٹ 50 کلومیٹر کی بلندی پر پیراشوٹ سے الگ ہو کر یہ جہاز کثیف فضاء سے ہوتے ہوئے آرام سے اتر گئے۔ وینیرا تیرہ اور چودہ کا کام جہاز پر موجود ایکس رے فلوریسینس سپیکٹرومیٹر کی مدد سے مٹی کے نمونوں کا جائزہ لینا تھا۔ وینیرا چودہ کا کیمرا بدقسمتی سے سطح سے ٹکرایا اور باقی سارا جہاز فضاء میں معلق ہو گیا جس سے مٹی کے تجزیے کا کام ٹھپ ہو گیا۔ وینیرا پروگرام 1983 میں وینیرا پندرہ اور سولہ کو زہرہ کے مدار میں چھوڑے جانے کے بعد ختم ہو گیا۔ان جہازوں کا مقصد سنتھیٹک اپرچر ریڈار کی مدد سے زہرہ کے طبعی خد و خال کا جائزہ لینا تھا۔ 1985 میں سوویت یونین نے ہیلی کے دمدار ستارے اور زہرہ کے لیے مشترکہ مشن بھیجا۔ اس وقت ہیلی کا دمدار ستارہ نظام شمسی کے اندر سے گزر رہا تھا۔ دمدار ستارے کو جاتے ہوئے راستے میں خلائی جہاز نے 11 اور 15 جون 1985 کو ویگا پروگرام کے تحت دو سیارچے زہرہ کی فضاء میں داخل کئے اور غباروں کی مدد سے فضائی روبوٹ بھیجا گیا۔ یہ غبارے 53 کلومیٹر کی بلندی پر معلق ہو گئے جہاں کا درجہ حرارت اور ہوا زمین کی سطح جیسی تھی۔ یہ سیارچے 46 گھنٹے تک کارآمد رہے اور ان سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق زہرہ کی سطح سابقہ اندازوں سےکہیں زیادہ متحرک ہے۔

ریڈار کی مدد سے نقشہ کشی
امریکہ کے میگلن سیارچے کو 4 مئی 1989 میں بھیجا گیا جس کا مقصد زہرہ کی سطح کی نقشہ کشی بذریعہ ریڈار کرنا تھا۔ پہلے ساڑھے چار سالوں کے دوران ملنے والی عمدہ تصاویر پہلے والی تصاویر سے کہیں بہتر تھیں۔اس سیارچے نے 98 فیصد سے زیادہ رقبے کی نقشہ کشی کامیابی سے کی۔ 1994 میں اپنے مشن کے خاتمے پر اس سیارچے کو زہرہ کی فضاء میں تباہ ہونے کے لیے بھیج دیا گیا۔

حالیہ اور مستقبل کے مشن
ناسا کے میسنجر مشن جب عطارد کو روانہ ہوئے تو اکتوبر 2006 اور جون 2007 میں زہرہ کے قریب سے گذرے تاکہ زہرہ کی کشش سے اپنی رفتار کم کر سکیں۔ یہ جہاز مارچ 2011 میں عطارد کے مدار پر داخل ہونے تھے۔ میسنجر نے دونوں بار گذرتے ہوئے سائنسی معلومات اکٹھی کیں۔ وینس ایکسپریس نامی خلائی جہاز کو یورپی خلائی ایجنسی نے بنایا تھا اور اسے 9 نومبر 2005 کو روسی راکٹ کی مدد سے بھیجا گیا۔ یہ جہاز کامیابی سے 11 اپریل 2006 کو زہرہ کے مدار میں داخل ہو گیا۔اس جہاز کا مقصد زہرہ کی فضاء، بادل ، طبعی خد و خال، پلازما کا جائزہ اور سطح کے درجہ حرارت وغیرہ کی پیمائش ہے۔ سب سے پہلے ملنے والی معلومات میں جنوبی قطب پر موجود دوہرا بڑا سائیکلون اہم ہے۔ جاپان کی خلائی ایجنسی نے زہرہ کے مدار کے لیے ایک جہاز اکاٹسوکی تیار کیا۔ اسے 20 مئی 2010 میں روانہ کیا گیا تاہم دسمبر 2010 میں یہ جہاز زہرہ کے مدار میں داخل ہونے میں ناکام ہو گیا۔ تاہم اندازہ ہے کہ یہ جہاز اپنے زیادہ تر نظام بند کر کے چھ سال بعد دوبارہ چالو ہو کر مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس جہاز کے مقاصد میں زیریں سرخ کیمرے کی مدد سے تصاویر لینا اور آسمانی بجلی کی موجودگی کی تصدیق اور موجودہ آتش فشانی سرگرمیوں کے وجود کا جائزہ لینا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی کو امید ہے کہ وہ 2014 میں بیپی کولمبو نامی مشن عطارد کو بھیجیں گے جو دو بار زہرہ کے قریب سے گذرے گا اور پھر 2020 میں عطارد کے مدار میں داخل ہو جائے گا۔ نیو فرنٹئیر پروگرام کے تحت ناسا زہرہ کو ایک جہاز بھیجے گا جو زہرہ کی سطح پر اتر کر اس کی مٹی کا عنصری اور معدنی اعتبار سے جائزہ لے گا۔ اس جہاز پر زمین میں سوراخ کرنے اور چٹانوں کا جائزہ لینے کے آلات بھی موجود ہوں گے۔وینیرا ڈی سیارچہ روس کے منصوبوں میں شامل ہے جسے 2016 میں روانہ کیا جائے گا جو خود تو زہرہ کے مدار میں رہ کر تحقیق جاری رکھے گا لیکن ایک سیارچہ سطح پر بھی بھیجے گا جو طویل عرصے تک وہاں رہ کر معلومات بھیجتا رہے گا۔ دیگر منصوبے زہرہ پر ہوائی جہاز، غبارے اور گاڑیاں بھیجنے سے متعلق ہیں۔ ناسا سیج نامی مشن کے تحت ایک خلائی جہاز زہرہ کو 2016 میں بھیجے گا۔

انسان بردار مشن
1960 کی دہائی کے آخر میں اپالو پروگرام کے آلات کی مدد سے زہرہ پر ایک جہاز بھیجا جانا تھا جس پر انسان سوار ہوتے اور یہ جہاز زہرہ کے قریب سے ہو کر گذرتا۔ یہ منصوبہ اندازوں کے مطابق 1973 میں اکتوبر کے آخر یا نومبر کے شروع میں بھیجا جاتا۔ اس مقصد کے لیے سیٹرن 5 راکٹ استعمال ہوتا اور پوری پرواز ایک سال پر محیط ہوتی۔ یہ جہاز زہرہ کی سطح سے 5٫000 کلومیٹر کے فاصلے سے چار ماہ بعد گذرتا مگر بعد ازاں یہ مشن منسوخ کر دیا گیا۔

تاریخی سمجھ بوجھ
آسمان پر سب سے روشن جسم ہونے کی وجہ سے زہرہ کو قدیم زمانے سے انسان جانتا ہے اور انسانی ثقافت میں بھی اسے اہمیت حاصل رہی ہے۔ عہد قدیم کی بابلی تہذیب میں اس کا ذکر ملتا ہے جو 16ویں صدی قبل مسیح میں زہرہ کے مشاہدے کے بارے ہے۔ قدیم مصری زہرہ کو صبح اور شام کے ستارے کے نام سے دو الگ الگ ستارے مانتے تھے۔ قدیم یونانی بھی اسے دو الگ الگ اجرام فلکی مانتے تھے۔ تاہم بعد میں اسے ایک سیارہ تسلیم کر لیا گیا۔ ایرانی بالخصوص فارسی اساطیری کہانیوں میں زہرہ کا تذکرہ ملتا ہے۔ پہلوی ادب میں بھی اس کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ فارسی زبان میں زہرہ کو ناہید کہا جاتا ہے۔ مایا تہذیب میں بھی زہرہ کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ زہرہ کی حرکات پر ایک مذہبی کیلنڈر بنایا گیا تھا اور مختلف واقعات جیسا کہ جنگ وغیرہ کے بارے زہرہ کی حرکات سے پیشین گوئی کی جاتی تھی۔ قدیم آسٹریلیائی مذاہب میں بھی زہرہ کو اہمیت ملی ہوئی تھی۔ مغربی ستارہ شناسی میں زہرہ کو محبت اور زنانہ پن کی دیوی سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ یہ دیوی جنسی زرخیزی کے لیے مشہور مانی جاتی ہے۔ ہندو ویدک نجومی زہرہ کو شکرا کے نام سے جانتے ہیں جس کا مطلب سنسکرت زبان میں پاک، صاف یا روشن وغیرہ بنتا ہے جدید چینی، کوریائی،جاپانی اور ویتنامی ثقافتوں میں زہرہ دھاتی ستارے کے نام سے منسوب ہے۔
ستارہ شناسی کے اعتبار سے زہرہ کی علامت وہی ہے جو حیاتیاتی طور پر زنانہ جنس کے لیے منسوب ہے یعنی گول دائرہ اور اس کے نیچے چھوٹی سی صلیب۔

آباد کاری
چونکہ زہرہ کی سطح پر موسم انتہائی شدید ہے، اس لیے موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے یہاں انسان کا رہنا ممکن نہیں۔ تاہم سطح سے تقریباً 50 کلومیٹر اوپر کی فضاء زمین کی سطح جیسی ہے۔ اس جگہ ہوا کا دباؤ اور ساخت زمین کے جیسی ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر یہاں ہوا میں معلق آبادیاں بنانے کے بارے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں