9

ہمارے نظامِ شمسی کے تسلیم شدہ آٹھ سیارے – دوسرا حصّہ

ہمارے نظامِ شمسی کے تسلیم شدہ آٹھ سیارے

تحریر : Zahid Arain

دوسرا حصّہ
زہرہ۔۔ Venus۔۔پہلا حصّہ۔۔

سورج سے دوسرا سیارہ ہے اور سورج کے گرد ایک چکر زمینی وقت کے مطابق 224.7 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔ اس کا نام قدیم رومن دیوی وینس زہرہ کے نام پر رکھا گیا ہے جو محبت و حسن کی دیوی کہلاتی تھی۔ رات کے وقت آسمان پر ہمارے چاند کے بعد دوسرا روشن ترین خلائی جسم ہے۔ اس کی روشنی سایہ بنا سکتی ہے۔ یہ سیارہ عموماً سورج کے آس پاس ہی دکھائی دیتا ہے۔ سورج غروب ہونے سے ذرا بعد یا سورج طلوع ہونے سے ذرا قبل زہرہ کی روشنی تیزترین ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اسے صبح یا شام کا ستارہ بھی کہا جاتا ہے۔
بعض اوقات اسے زمین کا جڑواں سیارہ بھی کہتے ہیں کیونکہ دونوں کا حجم، کششِ ثقل اور جسامت ایک جیسی ہیں۔ زہرہ کی سطح پر سلفیورک ایسڈ کے انتہائی چمکدار بادل موجود ہیں جن کے پار دیکھنا عام حالات میں ممکن نہیں۔ زہرہ کی فضاء تمام ارضی سیاروں میں سب سے زیادہ کثیف ہے جو زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل ہے۔ زہرہ پر کاربن سائیکل موجود نہیں جو کاربن کو چٹانوں اور دیگر ارضی اجسام میں جکڑ سکے اور نہ ہی اس پر نامیاتی زندگی موجود ہے جو کاربن کو اپنے استعمال میں لا سکے۔ ابتدائی دور میں زہرہ کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں زمین کی طرح سمندر موجود تھے تاہم درجہ حرارت بڑھنے سے وہ خشک ہو گئے۔ زہرہ کی سطح زیادہ تر مٹیالی اور صحرائی نوعیت کی ہے اور پتھریلی چٹانیں پائی جاتی ہیں۔ زہرہ پر آتش فشانی عملبھی جاری رہتا ہے۔ چونکہ زہرہ کا اپنا مقناطیسی میدان نہیں اس لیے ساری ہائیڈروجن خلاء میں نکل گئی ہے۔ زہرہ کا ہوا کا دباؤ زمین کی نسبت 92 گنا زیادہ ہے۔
زہرہ کی سطح کے بارے بہت ساری قیاس آرائیاں کی جاتی تھیں۔ تاہم 1990 تا 1991 جاری رہنے والے میگیلن منصوبے کے تحت کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس منصوبے کے تحت سارے سیارے کی نقشہ بندی کی گئی ہے۔ سطح پر کثیر آتش فشانی تحاریک کے آثار ملے ہیں۔ ماحول میںگندھک کی بہت بڑی مقدار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں کوئی بڑا آتش فشاں پھٹا ہے۔ تاہم لاوے کے بہاؤ کے بارے کوئی ثبوت نہیں ملے جو ایک معما ہے۔ زہرہ کی سطح پر کچھ مقامات پر شہاب ثاقب کے گرنے کے آثار بھی موجود ہیں اور اندازہ ہے کہ اس کی سطح تقریباً 30 سے 60 کروڑ سال پرانی ہے۔ سطح کے نیچے پلیٹ ٹیکٹانکس کی کوئی شہادت نہیں ملی۔ شاید پانیکے نہ ہونے سے سطح بہت زیادہ ٹھوس ہو چکی ہے۔ تاہم سطح کے اوپر نیچے ہونے سے زہرہ کی زیادہ تر اندرونی حرارت ختم ہو جائے گی۔

۔۔طبعی خد و خال۔۔
ہمارے نظام شمسی کے چار ارضی سیاروں میں سے زہرہ ایک ہے جس کا مطلب ہے کہ ہماری زمین کی طرح زہرہ بھی پتھریلی نوعیت کا ہے۔ اس کا حجم اور وزن دونوں ہی زمین کے مماثل ہیں۔ اسے زمین کی بہن یا جڑواں سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔ زہرہ کا قطر زمین کے قطر سے 650 کلومیٹر کم ہے اور اس کا وزن زمین کے وزن کا 81.5 فیصد ہے۔ تاہم سطح اور فضاء کی ساخت کے اعتبار سے زہرہ اور زمین میں بہت بڑا فرق ہے۔ زہرہ کی فضاء کا 96.5 فیصد حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جبکہ بقیہ ساڑھے تین فیصد کا زیادہ تر
حصہ نائٹروجن پر مشتمل ہے۔
۔۔اندرونی ساخت۔۔
ارضیاتی مواد کے بغیر یا جمود کو جانے بغیر ہمیں زہرہ کی جیو کیمسٹری یا اندرونی ساخت کا محدود علم ہے۔ تاہم زمین اور زہرہ کے درمیان موجود مماثلت کی وجہ سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زہرہ بھی تین مختلف سطحوں یعنی مرکزہ، مینٹل اور کرسٹ پر مشتمل ہیں۔ زہرہ کا مرکزہ کسی حد تک مائع ہے کیونکہ زمین اور زہرہ ایک ہی رفتار سے ٹھنڈے ہوتے رہے ہیں۔ چھوٹی جسامت کی وجہ سے زہرہ کے مرکزہ پر کم دباؤ ہے۔ زہرہ کی سطح کے نیچے پلیٹ ٹیکٹانکس موجود نہیں۔ اس وجہ سے زہرہ سے حرارت کا اخراج کم رفتار سے ہوتا ہے۔

۔۔جغرافیہ۔۔
زہرہ کی سطح کا تقریباً 80 فیصد حصہ ہموار آتش فشانی میدانوں سے بنا ہے۔ ان میں سے 70 فیصد پر جھریاں سی موجود ہیں اور 10 فیصد بالکل ہموار ہے۔ باقی حصہ دو “براعظموں” پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ایک شمالی نصف کرے پر جبکہ دوسرا خط استوا کے ذرا جنوب میں ہے۔ شمالی براعظم کو اشتر ٹیرا کہتے ہیں۔ اس کا رقبہ آسٹریلیا کے برابر ہے۔ میکسویل مونٹس نامی پہاڑ اسی براعظم پر موجود ہے۔ اس کی چوٹی زہرہ کی اوسط بلندی سے 11 کلومیٹر بلند ہے۔ جنوبی براعظم کو ایفروڈائٹ ٹیرا کہتے ہیں۔ اس کا رقبہ براعظم جنوبی امریکہ کے لگ بھگ ہے۔ زیادہ تر جھریاں اور کھائیاں اسی براعظم میں پائی جاتی ہیں۔ شہاب ثاقب کے ٹکراؤ سے بننے والے گڑھوں ، پہاڑؤں اور دریاؤں کی موجودگی ارضی سیاروں پر عام پائی جاتی ہے تاہم زہرہ کی اپنی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ ان میں مسطح چوٹیوں والے آتش فشاں ہیں جن کا قطر 20 سے 50 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے اور ان کی بلندی 100 سے 1000 میٹر تک ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مکڑی کی جالے کی شکل کی کھائیاں وغیرہ بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ تمام آثار آتش فشانی عمل کی یادگار ہیں۔ زہرہ کے زیادہ تر طبعی خد و خالوں کے نام دیومالائی زنانہ کرداروں سے لیے گئے ہیں۔

۔۔سطحی جغرافیہ۔۔
زہرہ کی سطح کا زیادہ تر رقبہ بظاہر آتش فشانی عمل سے بنا ہے۔ زہرہ پر زمین کی نسبت کئی گنا زیادہ آتش فشاں پائے جاتے ہیں اور 167 آتش فشاں 100 کلومیٹر سے زیادہ چوڑے ہیں۔زمین پر اس طرح کا واحد آتش فشانی مجموعہ ہوائی کے بگ آئی لینڈ پر واقع ہے۔ تاہم اس کی وجہ آتش فشانی سرگرمیاں نہیں بلکہ زہرہ کی سطح کا زیادہ پرانا ہونا ہے۔ زمین کی سطح تقریباً 10 کروڑ سال بعد بدلتی رہتی ہے جبکہ زہرہ کی سطح کم از کم 30 سے 60 کروڑ سال پرانی ہے۔ مختلف شہادتوں سے زہرہ پر جاری آتش فشانی عمل کے بارے ثبوت ملتے ہیں۔ روسی وینیرا پروگرام کے دوران وینیرا 11 اور 12 خلائی جہازوں نے متواتر ہونے والی بجلی کی چمک دیکھی جبکہ وینیرا 12 نے اترتے ہی بادلوں کی گرج سنی۔ یورپی خلائی ایجنسی کے وینس ایکسپریس نے بالائی فضاء میں بہت بجلی چمکتی دیکھی۔ زمین پر گرج چمک ، طوفان باد و باراں کو ظاہر کرتی ہے، زہرہ پر یہ بارش پانی کی بجائے گندھک کے تیزاب کی شکل میں ہوتی ہے۔ تاہم سطح سے 25 کلومیٹر اوپر ہی یہ تیزاب بخارات بن کر واپس لوٹ جاتا ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ آسمانی بجلی آتش فشانی راکھ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور ثبوت سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار سے بھی متعلق ہے۔ 1978 تا 1986 زہرہ کی فضاء میں اس کی مقدار دس گنا کم ہوئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ کسی حالیہ آتش فشانی عمل سے سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اچانک بڑھ گئی ہو۔ زہرہ کی سطح پر شہاب ثاقب کے ٹکراؤ سے بننے والے ایک ہزار گڑھے موجود ہیں جو سطح پر یکساں پھیلے ہوئے ہیں۔ زمین اور چاند پر موجود اس طرح کے گڑھے وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ چاند پر اس ٹوٹ پھوٹ کی ذمہ داری بعد میں گرنے والے دیگر شہاب ثاقب ہوتے ہیں جبکہ زمین پر ہوا اور بارش کی وجہ سے ان گڑھوں کی شکل خراب ہوتی رہتی ہے۔ زہرہ پر موجود گڑھوں کی 85 فیصد تعداد انتہائی اچھی حالت میں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زہرہ کی سطح 30 سے 60 کروڑ سال قبل بدلی تھی جس کے بعد آتش فشانی عمل سست ہو گیا تھا۔ زمین کی سطح مسلسل حرکت میں رہتی ہے لیکن اندازہ ہے کہ زہرہ پر ایسا عمل نہیں ہوتا۔ پلیٹ ٹیکٹانکس کی عدم موجودگی کی وجہ سے زہرہ کا اندرونی درجہ حرارت بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ انتہائی گرم ہو کر اوپری سطح پھٹتی ہے اور تقریباً ساری سطح ہی ایک وقت میں بدل جاتی ہے۔ زہرہ کے گڑھوں کا حجم 3 سے 280 کلومیٹر تک ہو سکتا ہے۔ 3 کلومیٹر سے کم چوڑا گڑھا زہرہ پر نہیں پایا جاتا جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زہرہ کی فضاء بہت کثیف ہے۔ ایک خاص حد سے کم رفتار والے اجسام کی رفتار اتنی کم ہو جاتی ہے کہ وہ گڑھا نہیں بنا پاتے۔ 50 میٹر سے کم چوڑے شہابیئے زہرہ کی فضاء میں ہی ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔
۔۔فضاء اور موسم۔۔
زہرہ کی فضاء انتہائی کثیف ہے جو زیادہ تر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن کی معمولی مقدار سے بنی ہے۔ زہرہ پر ہوا کا دباؤ زمین کی نسبت 92 گنا زیادہ جبکہ فضاء کا وزن 93 گنا زیادہ ہے۔ یہ دباؤ اتنا زیادہ ہے جتنا کہ زمین کے سمندر کے ایک کلومیٹر نیچے ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھری ہوئی فضاء اور سلفر ڈائی آکسائیڈ سے بنے موٹے بادلوں کی وجہ سے سطح کا درجہ حرارت 460 ڈگری رہتا ہے۔ اگرچہ زحل عطارد کی نسبت سورجسے دو گنا زیادہ دور ہے لیکن اس کا درجہ حرارت عطارد سے زیادہ رہتا ہے۔ زہرہ کی سطح کو عرف عام میں جہنم سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ سائنسی مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کئی ارب سال قبل زہرہ کی فضاء آج کی زمین سے مماثل تھی اور عین ممکن ہے کہ زہرہ کی سطح پر پانی بکثرت پایا جاتا ہو۔ تاہم درجہ حرارت بلند ہونے کے ساتھ ساتھ ہی یہ سارا پانی بخارات بن کر اڑ گیا۔ زہرہ کی اپنے مدار پر انتہائی سست حرکت کے باوجود حرارتی جمود اور زیریں فضاء میں ہوا کی وجہ سے حرارت کی منتقلی کی وجہ سے زہرہ کی سطح کے درجہ حرارت پر دن یا رات کو زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ سطح پر ہوا کی رفتار زیادہ سے زیادہ چند کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے تاہم کثیف فضاء کے دباؤ کی وجہ سے یہاں انسان کا پیدل چلنا بہت مشکل ہے۔ آکسیجن کی کمی اور شدید گرمی اس پر مستزاد ہیں۔ بالائی فضاء میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بھاری مقدار اور سلفر ڈائی آکسائیڈ اور گندھک کے تیزاب سے بنے بادل سورج کی روشنی کا 60 فیصد حصہ واپس دھکیل دیتے ہیں۔ اس طرح خلاء سے زہرہ کی سطح کا براہ راست مشاہدہ کرنا ممکن نہیں۔ اگرچہ زہرہ زمین کی نسبت سورج کے زیادہ قریب ہے لیکن ان گہرے بادلوں کی وجہ سے اتنی روشنی نہیں پہنچتی۔ 300 کلومیٹر کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے بادلوں کی اوپری چوٹیاں 4 سے 5 زمینی دنوں میں زہرہ کا چکر لگا لیتی ہیں۔ زہرہ پر ہوا کی رفتار اس کی محوری گردش سے 60 گنا زیادہ تیز ہیں جبکہ زمین پر ہوا کی تیز ترین رفتار محوری گردش کا محض 10 سے 20 فیصد ہوتی ہیں۔ زہرہ پر دن اور رات ، قطبین اور خط استوا کے درجہ حرارت تقریباً یکساں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زہرہ پر موسم بھی تقریباً یکساں ہی رہتا ہے۔ تاہم بلندی کے ساتھ ساتھ درجہ حرارت بدل سکتا ہے۔ 1995 میں ایک خلائی جہاز میگلن نے سب سے اونچے پہاڑ کی چوٹی پر چمک دیکھی جو زمینی برف کے مماثل تھی۔ یہ برف ممکنہ طور پر زمینی برف کے بننے کے عمل سے پید اہوئی تھی لیکن وہاں کے ماحول کا درجہ حرارت بہت بلند تھا۔ اندازہ ہے یہ برف لیڈ سلفائیڈ یا ٹیلیرئم سے بنی ہے۔ زہرہ کے بادلوں میں زمینی بادلوں کی نسبت زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا پہلے پہل مشاہدہ روسی خلائی جہاز وینیرا نے کیا تھا۔ تاہم 2006 تا 2007 وینس ایکسپریس نے موسم سے متعلقہ تبدیلیاں دیکھیں۔ بجلی چمکنے کی شرح زمین کی نسبت نصف ہے۔ 2007 میں وینس ایکسپریس نے جنوبی قطب پر مستقل دوہرا قطبی طوفان دیکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں