3

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے – گیارہواں حصّہ

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے
گیارہواں حصّہ
6. زحل ۔۔Saturnn۔۔ (پہلا حصہ)
زحل ہمارے سورج سے چھٹے نمبر پر جبکہ ہمارے
نظام شمسی کا دوسرا بڑا سیارہ ہے۔ زحل کا نام انگریزی میں سیٹرن ہے جو ایک یونانی دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا۔ زحل کا مدار زمین کے مدار کی نسبت 9 گنا بڑا ہے۔ تاہم اس کی اوسط کثافت زمین کی کثافت کا آٹھواں حصہ ہے۔ تاہم کمیت میں یہ سیارہ زمین سے 95 گنا بڑا ہے۔ زحل کی کمیت اور نتیجتاً اس کی کششِ ثقل کی وجہ سے زمین کی نسبت زحل کے حالات بہت شدید ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ زحل کے اندر لوہا، نکل، سیلیکان اور آکسیجن کے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ ان کے گرد دھاتی ہائیڈروجن موجود ہے جبکہ ان کے درمیان مائع ہائیڈروجن اور مائع ہیلئم پائی جاتی ہے۔ بیرونی سطح گیسوں سے بنی ہے۔ دھاتی ہائیڈروجن میں بہنے والی برقی رو کی وجہ سے زحل کا مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو زمین کی نسبت کچھ کمزور ہے۔ بیرونی فضاء زیادہ تر کمزور ہے تاہم طویل المدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار 1٫800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے جو مشتری سے بھی زیادہ ہے۔ زحل کے گرد نو دائرے ہیں جو زیادہ تر برفانی ذرات سے بنے ہیں جبکہ کچھ پتھر اور دھول بھی موجود ہے۔ زحل کے گرد 62 چاند دریافت ہو چکے ہیں جن میں سے 53 کو باقائدہ نام دیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ چاند نما اجسام بھی ان دائروں میں موجود ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائیٹن ہے اور یہ ہمارے نظامِ شمسی کا دوسرا بڑا چاند ہے۔ یہ چاند عطارد سے بڑا ہے اور ہمارے نظام شمسی کا واحد چاند ہے جہاں مناسب مقدار میں فضاء موجود ہے۔
۔۔طبعی خد و خال۔۔
کم کثافت، تیز رفتاری اور مائع حالت کی وجہ سے زحل چپٹا دائرے نما ہے۔ اس وجہ سے قطبین پر زحل پھیلا ہوا جبکہ خطِ استوا پر باہر کو نکلا ہوا ہے۔ دیگر گیسی دیو بھی اسی شکل کے ہیں۔ زحل ہمارے نظامِ شمسی کا واحد سیارہ ہے جو پانی سے کم کثافت رکھتا ہے۔ زحل کا وزن زمین سے 95 گنا زیادہ ہے۔
۔۔اندرونی ڈھانچہ۔۔
زحل کے اندرونی ڈھانچے کے بارے براہ راست کوئی معلومات نہیں لیکن اندازہ ہے کہ یہ مشتری سے مماثل ہے یعنی اس کے اندر چھوٹا سا دھاتی مرکزہ ہے جس کے گرد ہائیڈروجن اور ہیلئم موجود ہے۔ یہ دھاتی مرکزہ زمین کے دھاتی مرکزے کے مماثل لیکن کم کثیف ہے۔ اس کے گرد دھاتی ہائیڈروجن مائع حالت میں موجود ہے جس کے بعد مائع شکل میں ہائیڈروجن اور ہیلئم پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد 1٫000 کلومیٹر کی فضاء موجود ہے۔ آتشگیر مواد بھی معمولی مقدار میں یہاں پائے جاتے ہیں۔ مرکزہ زمین کے کل وزن سے 9 سے 22 گنا زیادہ بھاری ہے۔ زحل کا اندرونی حصہ زمین کی نسبت بہت زیادہ گرم ہے جو 11٫700 ڈگری کے لگ بھگ ہے۔ زحل سورج سے آنے والی جتنی توانائی جذب کرتا ہے اس سے اڑھائی گنا زیادہ توانائی زحل خلاء میں خارج کرتا ہے۔
۔۔فضاء۔۔
زحل کی بیرونی فضاء میں 96.3 فیصد ہائیڈروجن اور 3.25 فیصد ہیلئم ہے۔ انتہائی معمولی مقدار میں امونیا، ایسیٹیلین، ایتھین، فاسفین اور میتھن بھی پائی جاتی ہیں۔ زحل کے بالائی بادل زیادہ تر امونیا کی قلموں سے بنے ہیں جبکہ زیریں بادل یا تو امونیئم ہائیڈرو سلفائیڈ سے بنے ہیں یا پھر پانی سے۔ ہیلئم سے زیادہ بھاری عناصر کی مقدار کے بارے یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ کیسینی خلائی جہاز کی بھیجی ہوئی تصاویر کے مطابق زحل کا شمالی نصف کرہ یورینس کی طرح چمکدار نیلے رنگ کا تھا۔
۔۔برقی کرہ۔۔
زحل کا اپنا مقناطیسی میدان عام نوعیت کا ہے جس میں دو قطب پائے جاتے ہیں۔ اس کی شدت زمینی مقناطیسیت سے کچھ کم ہے۔ نتیجتاً زحل کا مقناطیسی کرہ مشتری کی نسبت مختصر ہے اور ٹائیٹن کے مدار سے ذرا باہر تک پھیلا ہوا ہے۔
۔۔مدار اور گردش۔۔
زحل اور سورج کا درمیانی فاصلہ اوسطاً 1 ارب 400 کروڑ کلومیٹر ہے جو 9 شمسی اکائیوں کے برابر ہے۔ ایک شمسی اکائی زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے کو ظاہر کرتی ہے۔ مدار میں زحل کی حرکت کی رفتار 9.69 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ اس رفتار سے زحل تقریباً 30 زمینی سالوں میں سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ زحل کے مدار کی نوعیت کے اعتبار سے زحل اور سورج کا درمیانی فاصلہ ساڑھے 15 کروڑ کلومیٹر تک کم ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں