5

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے – نواں حصّہ

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے
نواں حصّہ
مشتری ۔۔Jupiter۔۔ پہلا حصہ
ہمارے نظام شمسی کا سورج سے پانچواں اور سب سے بڑا سیارہ ہے۔ گیسی سیارہ ہونے کے باوجود اس کا وزن سورج کے ایک ہزارویں حصے سے بھی کم ہے لیکن نظام شمسی کے دیگر سیاروں کے مجموعی وزن سے زیادہ بھاری ہے۔ زحل، یورینس اور نیپچون کی مانند مشتری بھی گیسی دیو کی درجہ بندی میں آتا ہے۔ یہ سارے گیسی سیارے ایک ساتھ مل کر جووین یعنی بیرونی سیارے کہلاتے ہیں۔
قدیم زمانے سے لوگ مشتری کو جانتے تھے اور مختلف ثقافتوں اور مذاہب میں مشتری کو نمایاں حیثیت دی گئی تھی۔ رومنوں نے اس سیارے کو اپنے دیوتا جیوپیٹر کا نام دیا تھا۔ زمین سے دیکھا جائے تو رات کے وقت آسمان پر چاند اور زہرہ کے بعد مشتری تیسرا روشن ترین اجرام فلکی ہے۔
مشتری کا زیادہ تر حصہ ہائیڈروجن سے بنا ہے جبکہ ایک چوتھائی حصہ ہیلیئم پر بھی مشتمل ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے مرکزے میں بھاری دھاتیں بھی پائی جاتی ہوں۔ تیز محوری حرکت کی وجہ سے مشتری کی شکل بیضوی سی ہے۔ بیرونی فضاء مختلف پٹیوں پر مشتمل ہے۔ انہی پٹیوں کے سنگم پر طوفان جنم لیتے ہیں۔ عظیم سرخ دھبہ نامی بہت بڑا طوفان سترہویں صدی سے دوربین کی ایجاد کے بعد سے مسلسل دیکھا جا رہا ہے۔ مشتری کے گرد معمولی سا دائروی نظام بھی موجود ہے اور اس کا مقناطیسی میدان کافی طاقتور ہے۔ مشتری کے کم از کم 63 چاند ہیں جن میں چار وہ ہیں جو 1610 میںگلیلیو نے دریافت کئے تھے۔ ان میں سے سب سے بڑا چاند عطارد یعنی مرکری سے بھی بڑا ہے۔
مشتری پر خودکار روبوٹ خلائی جہاز بھیجے گئے ہیں جن میں سے پائینیر اور وائجر اہم ترین ہیں جو اس کے قریب سے ہو کر گذرے تھے۔ بعد میں اس پر گلیلیو نامی جہاز بھیجا گیا تھا جو اس کے گرد محور میں گردش کرتا رہا۔ اس وقت تک کا سب سے آخری جہاز نیو ہورائزن ہے جو فروری 2007 میں اس کے قریب سے گذرا تھا اور اس کی منزل پلوٹو تھی۔ مشتری کی کشش ثقل کی مدد سے اس جہاز نے اپنی رفتار بڑھائی ہے۔ مستقبل کے منصوبوں میں برف سے ڈھکے مائع سمندروں والے چاند یوروپا کی تحقیق شامل ہے۔
بناوٹ
مشتری زیادہ تر گیسوں اور مائع جات سے بنا ہے۔ نہ صرف بیرونی چار سیاروں میں بلکہ پورے نظام شمسی میں سب سے بڑا سیارہ ہے۔ اس کے خط استوا پر اس کا قطر 1،42،984 کلومیٹر ہے۔ مشتری کی کثافت 1.326 گرام فی مکعب سینٹی میٹر ہے جو گیسی سیاروں میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ہے تاہم چار ارضی سیاروں کی نسبت یہ کثافت کم ہے۔

ساخت
مشتری کی بالائی فضاء کا 88 سے 922 فیصد حصہ ہائیڈروجن سے جبکہ 8 سے 12 فیصد ہیلیئمسے بنا ہے۔ چونکہ ہیلیئم کے ایٹم کا وزن ہائیڈروجن کے ایٹم کی نسبت 4 گنا زیادہ ہوتا ہے اس لیے مختلف جگہوں پر یہ گیسیں مختلف مقداروں میں ملتی ہیں۔ بحیثیت مجموعی فضاء کا 75 فیصد حصہ ہائیڈروجن جبکہ 24 فیصد ہیلئم سے بنا ہے۔ باقی کی ایک فیصد میں دیگر عناصر آ جاتے ہیں۔ اندرونی حصے میں زیادہ وزنی دھاتیں پائی جاتی ہیں اور ان میں 71 فیصدہائیڈروجن، 24 فیصد ہیلیئم اور 5 فیصد دیگر عناصر بحساب وزن موجود ہیں۔ فضاء میں میتھین، آبی بخارات، امونیا اور سیلیکان پر مبنی مرکبات ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ کاربن، ایتھین، ہائیڈروجن سلفائیڈ، نیون، آکسیجن، فاسفین اور گندھک بھی انتہائی معمولی مقدار میں ملتی ہیں۔ سب سے بیرونی تہہ میں جمی ہوئی امونیا کی قلمیں ملتی ہیں۔ زیریں سرخ اور بالائے بنفشی شعاعوں کی مدد سے کی گئی پیمائشوں میں بینزین اور دیگر ہائیڈرو کاربن بھی دیکھی گئی ہیں۔
ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی فضائی خصوصیات قدیم شمسی نیبولا سے بہت ملتی جلتی ہیں۔ تاہم نیون گیس کی مقدار دس لاکھ اجزاء میں محض 20 ہے جو سورج پر موجود مقدار کا محض دسواں حصہ ہے۔ ہیلیئم کی مقدار بھی اب کم ہو رہی ہے تاہم اب بھی اس کی مقدار سورج کی نسبت محض 80 فیصد باقی رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ مشتری کی فضاء میں انرٹ گیس کی مقدار سورج کی نسبت دو سے تین گنا زیادہ ہے۔
سپیکٹرو سکوپی کے مشاہدے کی بناء پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیٹرن کی ساخت مشتری سے مماثل ہے لیکن دیگر گیسی دیو یورینس اور نیپچون پر ہائیڈروجن اور ہیلیئم کی مقدار بہت کم ہے۔ تاہم چونکہ مشتری سے آگے کسی سیارے کی سطح پر مشاہداتی خلائی جہاز نہیں اتارے گئے اس لیے ان کی فضائی ساخت کے متعلق تفصیل سے کچھ بتانا مشکل ہے۔
کمیت
مشتری کی کمیت نظام شمسی کے دیگر تمام سیاروں کے مجموعی وزن سے اڑھائی گنا زیادہ ہے۔ زمین کی نسبت مشتری گیارہ گنا زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے لیکن اسی نسبت سے اگر وہ زمین جتنا بھاری ہوتا تو اسے زمین کی نسبت 1321 گنا زیادہ بھاری ہونا چاہیے تھا لیکن یہ سیارہ محض 318 گنا زیادہ بھاری ہے۔ مشتری کا قطر سورج کے قطر کا دسواں حصہ ہے, اور اس کی کمیت سورج کی کمیت کے صفر اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد کے برابر ہے۔ اس لیے سورج اور مشتری کی کثافت برابر ہے۔ مشتری کی کمیت کو پیمائش کی اکائی بنا کر بین النظام الشمسی سیاروں اور بونے ستاروں کی پیمائش کی جاتی ہے۔
مختلف سائنسی مفروضات کے مطابق اگر مشتری کی کمیت زیادہ ہوتی تو یہ سیارہ سکڑ جاتا۔اگر مشتری کی کمیت میں معمولی سا بھی رد و بدل کر دیا جائے تو اس کے قطر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم اگریہ اضافہ ایک اعشاریہ چھ گنا ہو جائے تو مرکزہ اپنی کشش کے باعث سکڑ نے لگے گا اور کمیت میں اضافے کے باوجود سیارے کا قطر کم ہوتا جائے گا۔ نتیجتاً یہ کہا جاتا ہے کہ مشتری کی طرح کے سیارے دراصل زیادہ سے زیادہ مشتری جتنے ہی بڑے ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر مشتری کی کمیت 50 گنا بڑھ جائے تو پھر یہبھورا بونا ستارہ بن جائے گا جیسا کہ بعض کثیر الشمسی نظاموں میں ہوتا ہے ۔
اگرچہ مشتری کو ستارہ بننے کے لیے 755گنا زیادہ کمیت درکار ہوگی تاکہ وہ ہائیڈروجن کے ملاپ سے ستارہ بن سکے۔ سب سے چھوٹا سرخ بونا ستارہ دراصل مشتری کےقطر سے محض تیس فیصد بڑا ہے۔ اس وجہ سے مشتری ہر سال دو سینٹی میٹر جتنا سکڑ رہا ہے۔ جب مشتری پیدا ہوا تھا تو بہت زیادہ گرم اور موجودہ حجم سے دو گنا بڑا تھا۔

اندورنی ساخت
مشتری کے مرکزے میں مختلف عناصر پائے جاتے ہیں جن کے گرد دھاتی ہائیڈروجن بشمول کچھ ہیلیئم مائع شکل میں موجود ہے جس کے باہر مالیکیولر ہائیڈروجن ہے۔ اس کے علاوہ مزید باتیں ابھی یقین سے نہیں کہی جا سکتیں۔ مرکزے کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ پتھریلا ہے لیکن مزید تفصیلات معلوم نہیں۔ 1997 میں کشش ثقل کی پیمائش سے مرکزے کی موجودگی کا ثبوت ملا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزہ زمین سے 12 تا 45 گنا زیادہ بھاری ہے اور مشتری کے کل کمیت کے 4 سے 14 فیصد کے برابر۔ تاہم یہ پیمائشیں سو فیصد قابل اعتبار نہیں ہوتیں اور عین ممکن ہے کہ مرکزہ سرے سے ہو ہی نہ۔
حجم کے اعتبار سے مشتری ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا کرہ فضائی رکھتا ہے جو 5000 کلومیٹر تک بلند ہے ۔
بادلوں کی تہہ
مشتری پر امونیا کی قلموں یعنی کرسٹل اور ممکنہ طور پر امونیم ہائیڈرو سلفائیڈ کے بادل مستقل طور پر چھائے رہتے ہیں۔ بعض جگہوں پر 100 میٹر فی سیکنڈ یعنی 360 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی ہوا عام پائی جاتی ہے۔
بادلوں کی یہ تہہ تقریباً 500 کلومیٹر موٹی ہے اور اس میں دوتہیں ہیں۔ اوپری تہہ ہلکی جبکہ نچلی تہہ گہری اور بھاری ہے۔ مشتری پر چمکنے والی آسمانی بجلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان بادلوں کی تہہ کے نیچے پانی کے بادلوں کی بھی ہلکی تہہ موجود ہوگی۔ یہ بجلی زمینی بجلی کی نسبت ہزار گنا زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے۔
بادلوں کے رنگ نارنجی اور بھورے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جس مادے سے بنے ہیں، وہ سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں میں اپنا رنگ بدلتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ بادل فاسفورس، گندھک اور شاید ہائیڈرو کاربن سے بنے ہوں۔
مشتری اپنے محور کے گرد اس طرح گھومتا ہے کہ اس کے قطبین پر سورج کی روشنی نسبتاً کم پڑتی ہے۔
عظیم سرخ دھبہ اور دیگر بھنور
مشتری کا سب سے نمایاں نشان اس کا عظیم سرخ دھبہ ہے جو خط استوا سے 22 ڈگری جنوب میں موجود ایک اینٹی سائکلونک طوفان ہے اور اس کا رقبہ زمین سے بڑا ہے۔ 1831 سے اس کے بارے معلومات ہیں اور عین ممکن ہے کہ اسے پہلی بار 1665 میں دیکھا گیا ہو۔ریاضیاتی ماڈلوں سے پتہ چلتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ طوفان مشتری کی مستقل خاصیت ہو۔ 12 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ قطر کے عدسے والی دوربین سے اس طوفان کا بخوبی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
بیضوی جسم گھڑیال مخالف سمت گھومتا ہوا چھ دن میں ایک گردش مکمل کرتا ہے۔ عظیم سرخ دھبے کی لمبائی اور چوڑائی 24000 سے 40000 ضرب 12000 سے 14000 کلومیٹر ہے اور نزدیکی بادلوں کے بالائی سرے سے آٹھ کلومیٹر اونچا ہے۔ اس طرح کے طوفان دیگر گیسی سیاروں پر بھی عام پائے جاتے ہیں۔ مشتری پر سفید اور بھورے طوفان بھی ہیں لیکن ان کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ یہ طوفان نسبتاً ٹھنڈے بادلوں سے بنے ہیں۔
سیاراتی حلقے
مشتری کے گرد مدھم حلقے پائے جاتے ہیں جس کے تین حصے ہیں۔ ایک اندرونی، ایک درمیانی نسبتاً روشن اور ایک بیرونی۔ یہ حلقے گرد سے بنے ہیں اور زحل کے حلقوں کی مانند سے برف سے نہیں بنے۔ اصل حلقہ شاید مشتری کے اپنے چاندوں ایڈریاسٹا اور میٹس سے خارج شدہ مادے سے بنا ہے۔ عام طور پر خارج ہونے والا مادہ جو واپس اسی چاند میں جا گرنا چاہئے مگر مشتری کی طاقتور کشش کی وجہ سے مشتری پر جا گرتا ہے۔

مقناطیسی میدان
مشتری کا مقناطیسی میدان زمین کی نسبت 144 گنا زیادہ طاقتور ہے اور اس کی پیمائش 4.2 سے 10-14 گاز تک ہے۔ یہ مقدار ہمارے نظامِ شمسی میں سورج کے دھبوں کے بعد سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ مشتری کے چاند آئی او کے آتش فشاں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی بہت بڑی مقدار خارج کرتے ہیں۔ مشتری کی 75 جسامتوں کے فاصلے پر اس کا مقناطیسی میدان اور شمسی ہوا ٹکراتے ہیں۔ مشتری کے چاروں بڑے چاند اس کے مقناطیسی میدان میں ہی حرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شمسی ہوا سے بچے رہتے ہیں۔
۔۔مدار اور گردش۔۔
مشتری کا مدار سورج سے 77 کروڑ 800 لاکھ کلومیٹر دور ہے جو زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے کا 5 گنا ہے۔ اس کے علاوہ سورج کے گرد اس کا ایک چکر 11.86 زمینی سالوں میں پورا ہوتا ہے۔ مشتری کا محوری جھکاؤ نسبتا چھوٹا ہے: صرف 3.13 °۔ جس کے نتیجے میں مشتری پر زمین اور مریخ کے برعکس زیادہ موسمی تبدیلیاں نہیں آتیں۔ مشتری کی اپنے محور پر گردش پورے نظامِ شمسی میں سب سے تیز ہے جو دس گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتی ہے۔ زمین سے اچھی دوربین کی مدد سے مشتری کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کی شکل بیضوی ہے جس کی وجہ سے اس کا نصف قطر خطِ استوا پر قطبین کی نسبت بڑا ہے۔ اسی وجہ سے قطبین پر نصف قطر خطِ استوا کی نسبت 9275 کلومیٹر کم ہے۔ کیونکہ مشتری ایک ٹھوس جسم نہیں ہے، اس کی بالائی فضا میں متفاوت گردش رونما ہوتی ہیں۔مشتری کے قطبی فضا کی گردش استوائی فضا
سے تقریبا 55 منٹ طویل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں