8

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے – ساتواں حصّہ

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے

تحریر = زاہد آرائیں

ساتواں حصّہ

مریخ ۔۔ Mars ۔۔ پہلا حصہ

مریخ نظام شمسی میں سورج سے فاصلے کے
لحاظ سے چوتھا اور عطارد کے بعد دوسرا سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ قدیم رومی مذہب میں مریخ کو جنگ کا خدا کے نام سے پکارا جاتا تھا کیونکہ وہ مریخ کی پرستش کرتے تھے۔ مریخ کی سرخ رنگت کی وجہ سے اسے سرخ سیارہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سرخ رنگ مریخ کی سطح پر آئرن آکسائڈ کی کثرت کی وجہ سے ہے۔ مریخ کی سرخی مائل رنگت اسے کھلی آنکھ سے نظر آنے والے دوسرے سماوی اجسام سے ممتاز کرتی ہے ۔ مریخ ایک زمین مماثل سیارہ ہے جو زمین کی نسبت ہلکا کرہ ہوائی رکھتا ہے۔ اس کے سطح پر زمین کے چاند کی طرح شھاب ثاقب یا کسی دوسرے سماوی جسم کے ٹکرانے سے بننے والے گڑھے موجود ہیں اور اس کی سطح پر زمین کی طرح وادیاں اور صحرا بھی موجود ہیں۔ زمین کی طرح اس کے قطبین پر بھی برف جمی رہتی ہے۔ مریخ کا محوری گردش کا دورانیہ اور موسموں کی گردش زمین جیسی ہے اور زمین کی طرح اس کا محور بھی جھکا ہوا ہے جو موسموں کے تغیر کا باعث بنتا ہے۔ مریخ پر ایک بہت بڑا آتش فشاں پہاڑ ہے جسے کوہ اولمپس مونس کہتے ہیں یہ پہاڑ نظام شمسی کے سیاروں پر اب تک دریافت ہونے والے پہاڑوں میں سے سب سے بڑا پہاڑ ہے اور اس پر ایک بہت بڑی وادی جسے [وادئ میرینرس] کہتے ہیں یہ وادی نظام شمسی کے سیاروں پر اب تک دریافت ہونے والی وادیوں میں سب سے بڑی وادی ہے۔ مریخ کے شمالی کرہ میں ایک ہموارطاس (جغرافیہ) ہے جسے بوریالس طاس کہتے ہیں یہ طاس مریخ کے 40 فی صد رقبے کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کسی سماوی جسم جیسے شھاب ثاقب کے ٹکرانے سے بنا ہے
مریخ کے دو چاند ہیں جنہیں فوبوس اور دیموس کہتے ہیں یہ چاند چھوٹے اور بے ترتیب شکل کے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ چھوٹے سیارچے ہو سکتے ہیں جنہیں مریخ کی کشش ثقل نے پکڑ لیا ہو جس کی وجہ سے یہ مریخ کے گرد گھوم رہے ہیں ۔مریخ پر سیاروی سکونت پذیریت پر تحقیقات ہو رہی ہیں جس میں ماضی میں مریخ پر زندگی کے آثار اور موجودہ دور میں مریخ پر حیات کے ممکنات پر تحقیقات شامل ہے۔ مستقبل میں مریخ پر فلکی حیاتیات کے منصوبوں کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے جن میں مریخ 2020 اور ایکسو مارس رور منصوبہ شامل ہے۔ مریخ کی سطح پر کم کرہ ہوائی دباؤ کی وجہ سے مائع پانی کا وجود نہیں ہے البتہ اس کے دونوں قطبین پر برف جمی ہے۔ اس کے جنوبی قطب پر برف کی اتنی مقدار ہے کہ اگر یہ برف پگھل کر پانی میں تبدیل ہوجائے تو یہ 11 میٹر (36 فٹ) کی گہرائی تک پورے مریخ کی سطح کو گھیر لے گا۔ نومبر 2016 میں ناسا نے مریخ کے اتوپیا پلانیٹیا نامی علاقے میں بڑی مقدار میں زیر زمین برف دریافت کی اس کے پانی کے حجم کا اندازہ جھیل سپیریئر کے پانی کے برابر لگایا گیا ہے۔ مریخ کو زمین سے عام انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔

طبیعی خصوصیات
مریخ کا قطر زمین کے قطر سے تقریباً آدھا ہے اور اس کا سطحی رقبہ زمیں کے کے خشک حصے کے کل رقبے سے تھوڑا سا کم ہے۔ مریخ زمین کی نسبت کم کثیف ہے اور یہ زمین کے حجم کا 15 فیصد، کیمیت کا 11 فی صد اور سطحی کشش ثقل کا 38 فی صد رکھتا ہے۔ اس کا سرخ نارنجی رنگ آئرن آکسائڈ کی وجہ سے ہے دوسرے عام سطحی رنگ جیسے سنہری بھورے اور سبزی مائل رنگ ان میں موجود معدنیات پر انحصار کر تے ہیں۔
اندرونی ساخت
زمین کی طرح مریخ کے اندرونی کثیف دھاتی مرکزہ کے اوپر کم کثیف دھاتی مرکزہ کا خول چڑھا ہوا ہے۔ اس کے اندرونی مرکزہ کا رداس 65 ± 1,794 کلو میٹر (1,115 ± 40 میل) ہے۔ جو بنیادی طور لوہے اور نکل سے بنا ہے اور اس میں 16 سے 17 فی صد گندھک کی آمیزش ہے۔ مریخ کے اس آئرن سلفائڈ مرکزہ کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زمین کے مرکزہ میں پائے جانے والے ہلکے عناصر کی نسبت یہ دوگنے بھاری ہیں۔ مریخ کے مرکزہ کے گرد سلیکیٹ کا غلاف ہے جو سیارہ پر مختلف آتش فشانی اور ٹیکٹونک عمل سے بنا ہے لیکن یہ بے حس وحرکت نظر آتا ہے۔ سلیکون اور آکسیجن کے علاوہ مریخ کے قشر میں لوہا،میگنیشیم، الومینیم، کیلشیم اور پوٹاشیم، کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ مریخ کے قشر کی اوسط موٹائی 50 کلومیٹر (32 میل) ہے جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ موٹائی 125 کلومیٹر (78 میل) ہے جبکہ قشر الارض کی موٹائی 40 کلومیٹر (25 میل) ہے۔

گردش اور مدار
مریخ کا سورج سے اوسط فاصلہ 230 ملین کلومیٹر (143,000,000 میل) ہے اور اس کی سورج کے گرد مداری گردش کا دورانیہ 687 (زمینی) دنوں کے برابر ہے۔ مریخ کا شمسی دن زمین کے شمسی دن سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے یعنی مریخ کا ایک شمسی دن 24 گھنٹے 39 منٹ اور 35.244 سیکنڈ کا ہوتا ہے جبکہ زمین کا ایک شمشی دن 23 گھنٹے 56 منٹ اور 4.0916 سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ مریخ کا ایک شمشی سال زمین کے 1.8809 سال کے برابر ہے یعنی مریخ کا ایک سال زمین کے 1 سال 320 دن اور 18.2 گھنٹوں کے برابر ہے۔ مریخ کا اس کےمستوی مدار سے محوری جھکاؤ 25.19 ڈگری ہے۔ جو زمین کے محوری جھکاؤ جیسا ہے جس کی وجہ سے مریخ پر موسم زمین جیسے ہیں لیکن موسم زمین کی نسبت تقریباً دوگنے ہیں کیونکہ اس کا مداری دورانیہ طویل ہے۔ موجودہ دور میں مریخ کے شمالی قطب کا رخ ستاروں کے جھرمٹ ہنس (دجاجہ) کے ستارے دنب کی طرف ہے۔

خلائی جہازوں سے کی گئی تحقیقات
آج کل امریکہ اور یورپ کے بیشتر ممالک، مریخ کی سطح پر اُتر کر اس کی تحقیق کرنے والے خلائی جہاز بھیج رہیں ہے۔ 2004 میں امریکہ کے دو خلائی جہاز مریخ کی سطح پر اترے جبکہ ہندوستان کا ایک خلائی جہاز مریخ کے مدار میں داخل ہوا۔ جنہوں نے وہاں کی تاذہ ترین تصاویر اور اس کی مٹی کی مشاہدات زمین کو بھیجیں۔ اس تحقیق کا مقصد مریخ میں پانی اور زندگی کے آثار ڈھونڈنا ہے۔ کیونکہ اکثر سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ پر کسی زمانے میں زندگی موجود تھی۔ اس تحقیق کے اب تک یہی نتائج نکلے ہیں کہ مریخ پر کسی زمانے میں پانی تو موجود تھا مگر اس میں زندگی نہ پیدا ہو سکی تھی۔ یورپ کے ممالک نے بھی اپنے تحقیقی خلائی جہاز مریخ پر بھیجے مگر وہ اس کی سطح پر اترنے سے پہلے ہی تباہ ہو گئے۔ امریکا میں اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ آیا مریخ میں کسی انسان کو بھیجا جائے یا نہیں؟! مارس روور جسے مریخ گاڑی اور مریخ نورد بھی کہا جاتا ہے، ایسی خودکار موٹر گاڑی ہے جو مریخ کی سطح پر پہنچ کر خود بخود چلنے کے قابل ہے۔ عام مشینوں کی نسبت یہ خودکار گاڑیاں زیادہ مفید ہوتی ہیں کہ یہ زیادہ رقبے کا مشاہدہ کر سکتی ہیں، انہیں مطلوبہ جگہوں تک بھیجا جا سکتا ہے، سرد موسم میں سورج کی روشنی تک پہنچ سکتی ہیں اور انہیں دور سے چلایا کر اس عمل میں بہتری بھی لائی جا سکتی ہے۔
مریخ پر کئی گاڑیاں بھیجی گئی ہیں:
مارس دوم جس پر پراپ ایم نامی گاڑی لدی تھی۔ یہ مہم اترنے کے عمل کے دوران ناکامی کا شکار ہوئی اور اس پر سوار گاڑی بھی تباہ ہو گئی
مارس سوم پر بھی مندرجہ بالا پراپ ایم گاڑی کی مماثل گاڑی لدی تھی۔ اس گاڑی نے نیچے اترنے کے بیس سیکنڈ بعد پیغام رسانی چھوڑ دی
سویورنر گاڑی، مارس پاتھ فائینڈر مہم کے ذریعے بھیجی گئی اور کامیابی سے 4 جولائی 1997ء کو مریخ کی سطح پر اتری۔ 27 ستمبر 1997ء کو مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔
بیگل دوم، سیارے کی سطح کے نیچے والا آلہ 2003ء میں مارس ایکسپریس نامی مشن کی تباہی کی وجہ سے ضائع ہو گیا۔ اس پر لگے ہوئے سپرنگ کی مدد سے گاڑی کو ہر پانچ سیکنڈ میں ایک سینٹی میٹر جتنی حرکت دینا ممکن تھا جو حرکت کرتے ہوئے سطح میں سوراخ کر کے نیچے کے نمونے جمع کرتا۔
سپرٹ، مریخی تحقیقاتی گاڑی 10 جون 2003ء کو بھیجی گئی اور 4 جنوری 2004ء کو مریخ پر کامیابی سے اتری۔ اپنی مہم کے اصل دورانیے کے چھ سال بعد اس گاڑی نے کُل 7.73 کلومیٹر فاصلہ طے کیا اور پھر ریت میں پھنس گئی۔ 26 جنوری 2010 کو ناسا نے اسے ریت سے نکالنے کی کوشش میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا اور اعلان کیا کہ اب یہ گاڑی اسی جگہ پر رک کر ہی اپنا کام کرتی رہے گی۔ اس گاڑی سے موصول ہونے والے آخری مواصلاتی رابطے 22 مارچ 2010ء کو ختم ہو گئے۔ 25 جنوری 2011ء کو ناسا نے اس گاڑی سے رابطے کی کوششیں ختم کر دیں۔
اپرچونٹی گاڑی بھی مریخی تحقیقاتی گاڑی ہے جو 7 جولائی 2003ء کو بھیجی گئی اور 25 جنوری 2004ء کو مریخ کی سطح پر کامیابی سے اتر گئی۔ 20 مئی 2014ء کو اس گاڑی نے زمین کے علاوہ کسی بھی جگہ کسی گاڑی کے سب سے زیادہ طے کردہ فاصلے کا ریکارڈ توڑ دیا جو 40.25 کلومیٹر بنتا ہے۔
کیوراسٹی مریخی سائنسی لیبارٹری تھی جو ناسا نے 26 نومبر 2011ء کو بھیجی۔ یہ گاڑی ماؤنٹ شارپ کے پاس گیل نامی کھائی میں 6 اگست 2012ء کو اتری۔ تاحال یہ گاڑی پوری فعال ہے۔
۔۔مریخ کے چاند۔۔
مریخ کے 2 چاند ہیں جو باقی چاندوں کی طرح گول نہیں بلکہ بڑے بڑے پتھر ہیں جنہیں(Asteroids) کہا جاتا ہے۔ یہ بڑے پتھر کسی زمانے میں مریخ اور مشتری کے درمیان واقع (Asteroid Belt) سے الگ ہو گئے تھے اور مریخ کی کشش ثقل میں آکر اس کے گرد چکر کاٹنا شروع کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں