5

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے – دسواں حصّہ

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے
دسواں حصّہ
5. مشتری ۔۔Jupiterr۔۔ دوسرا حصہ
۔۔فلائی بائی مشنز۔۔
19733 سے مختلف خلائی جہاز مشتری کے اتنے قریب سے گذرے ہیں کہ اس کا مشاہدہ کر سکیں۔ پاینئر مشن نے پہلی بار مشتری کی فضاء اور اس کے کئی چاندوں کی قریب سے کھینچی ہوئی تصویریں زمین کو بھیجیں۔ انہی سے پتہ چلا کہ مشتری کے قطبین پر موجود مقناطیسی میدان توقع سے کہیں زیادہ طاقتور ہے تاہم یہ جہاز اس مقناطیسی میدان سےبچ نکلنے میں کامیاب رہے۔
چھ سال بعد وائجر جہازوں کی وجہ سے مشتری کے چاندوں اور اس کے دائروں کو سمجھنے میں بہت مدد ملی۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوا کہ عظیم سرخ دھبہ اینٹی سائیکلونک ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات میں لی گئی تصاویر سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاینئر مشنز کے بعد سے اس دھبے کا رنگ بدل رہا ہے اور نارنجی سے گہرا بھورا ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ آئی او پر آتش فشاں بھی موجود ہیں جن میں سے کئی لاوا اگل رہے ہیں۔ مشتری کے پیچھے جب خلائی جہاز گئے تو تاریک حصے میں چمکتی آسمانی بجلیاں بھی دکھائی دی تھیں۔
زحل کو جانے والا کسینی خلائی جہاز جو 20000 میں مشتری کے پاس سے گذرا اور اب تک کی بہترین تصاویر بھیجیں۔ 19 دسمبر 2000 کو اس نے ہمالیہ نامی چاند کی تصاویر لیں لیکن دھندلے ہونے کی وجہ سے سطح کے بارے کچھ خاص معلومات نہیں مل سکیں۔ نیو ہورائزنز خلائی جہاز جو پلوٹو کو جا رہا ہے، گریوٹی اسسٹ نامی تکنیک سے فائدہ اٹھانے مشتری کے قریب سے گذرا تھا۔ 28 فروری 2007کو مشتری کے قریب سے گذرا اور اس نے آئی او کے آتش فشانوں اور دیگر چار بڑے چاندوں پر تحقیق کی اور بہت دور سے ہمالیہ اور ایلارا کی بھی تصاویر کھینچیں۔ چار بڑے چاندوں کی تصویر کشی 4 ستمبر 2006 میں شروع ہوئی۔
۔۔گلیلیو مشن۔۔
تاحال مشتری کے مدار میں پہنچنے والا واحد خلائی جہاز گلیلیو ہے۔ یہ جہاز 7 دسمبر 1995 کو مدار میں پہنچا اور سات سال تک کام کرتا رہا۔ اس نے کئی بار تمام چاندوں کے گرد بھی چکر لگائے۔ اسی خلائی جہاز کی مدد سے شو میکرِلیوی 9 نامی دمدار ستارے کو مشتری پر گرتے دیکھا گیا جو ایک انتہائی نادر واقعہ ہے۔ اگرچہ گلیلیو سے بہت قیمتی معلومات ملیں لیکن ایک خرابی کی وجہ سے اس کا اصل اینٹینا کام نہیں کر سکا جس کی وجہ سے ڈیٹا بھیجنے کا عمل سخت متائثر ہوا۔
جولائی 19955 کو گلیلیو نے ایک مشین نیچے اتاری جو پیراشوٹ کی مدد سے 7 دسمبر کو مشتری کی فضاء میں اتری۔ اس نے کل 57.6 منٹ تک کام کیا اور 150 کلومیٹر نیچے اتری اور آخرکار انتہائی دباؤ کی وجہ سے ناکارہ ہو گئی۔ اس وقت اس پر پڑنے والا فضائی دباؤ زمین سے 22 گنا زیادہ اور درجہ حرارت 153 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ اندازہ ہے کہ پگھلنے کے بعد شاید تبخیر کا شکار ہو گئی ہو۔ 21 ستمبر 2003 کو گلیلیو کو بھی اسی مقصد کے لیے مشتری کے مدار سے سطح کی طرف گرایا گیا۔ اس وقت اس کی رفتار 50 کلومیٹر فی سیکنڈ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ناسا نے یوروپا کو کسی قسم کی ملاوٹ سے پاک رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا تاکہ خلائی جہاز راستے میں ہی تباہ ہو جائے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یوروپا پر زندگی کے امکانات ہیں۔ مشتری کے چاندوں یوروپا، گینی میڈ اور کالیسٹو کی سطح پر مائع سمندر پائے جانے کا امکان ہے اس لیے ان کے تفصیلی مشاہدے کا منصوبہ ہے۔ تاہم سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے یہ منصوبے رکے ہوئے ہیں۔
۔۔مشتری کے چاند۔۔
آئی او، یوروپا، گینی میڈ اور چند دیگر بڑے چاندوں کی گردش میں لیپلاس ریزونینس پائی جاتی ہے۔ مثلاً آئی او کے مشتری کے گرد ہر چار چکر پر یوروپا اس وقت میں پورے دو چکر کاٹتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں گینی میڈ صرف ایک۔ اس وجہ سے ہر چاند دوسرے چاند کو ایک ہی مقام پر ملتا ہے جن کی باہمی کشش کی وجہ سے ان کے مدار گول کی بجائے بیضوی ہیں۔
مشتری کی کشش کی وجہ سے ان چاندوں کے اندر رگڑ کی وجہ سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور آئی او پر آتش فشاں کی یہی وجہ ہے۔
گانیمید (Ganymedee ) چاند جسامت کے حساب سے نظام شمسی کا اورمشری سب سے بڑا چاند ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے یہ مشتری کا ساتواں چاند ہے۔ اسے گیلیلیو نے 11 جنوری 1610ء کو دریافت کیا تھا۔ یہ سات دن میں اپنے مدار پر ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ جسامت کے حساب سے یہ سیارہ عطارد سے بھی بڑا ہے مگر کمیت کے حساب سے اس کا نصف ہے۔ اس کے اجزاء میں لوہے کی مقدار بہت زیادہ ہے اور اس پر برف بھی پائی جاتی ہے۔ خیال ہے کہ اس کی سطح سے 200 کلومیٹر نیچے برف کے تہوں میں مدفون ایک نمکین پانی کا سمندر بھی ہے۔ اس کی ہوا میں آکسیجن کی ایک مہین مقدار بھی شامل ہے جس میں عام آکسیجن (O2) کے علاوہ اوزون(O3) بھی شامل ہے۔
اندرونی آٹھ چاندوں کو ایک گروہ میں رکھا جاتا ہے جن کے مدار تقریباً گول اور خطِ استوا کے قریب ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مشتری کے ساتھ ہی پیدا ہوئے تھے۔ باقی سارے چاند ایک ہی درجہ بندی میں آتے ہیں اور خیال ہے کہ وہ شہابیئے ہیں جنہیں مشتری نے اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ ان کی شکلیں اور مدار ایک جیسے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے چاند کے ٹوٹنے سے بنے ہوں۔
حال ہی میں آسٹرومرز نے مشتری کے مزید بارہ چاند دریافت کئے ہیں۔انکا ہدف مشتری کے چاند کی دریافت نہیں تھا بلکہ نظام شمسی میں مزید سیارے دریافت کرنا تھا۔ اس کے لئے وہ ڈارک انرجی ٹیلی سکوپ استعمال کررہے تھے۔مگر حادثاتی طور پر انہوں مشتری کے مزید بارہ چاند دریافت کرلیۓ۔اب مشتری کے کل ملا کر 79 اناسی چاند ہوگئے۔ یاد رہے اس سے پہلے مشتری کے 67 سڑسٹھ چاند تھے۔
۔۔زندگی کے امکانات۔۔
19533 میں ملر اُرے کے تجربات سے ثابت ہوا کہ اولین زمانے میں زمین پر موجود کیمیائی اجزاء اور آسمانی بجلی کے ٹکراؤ سے جو آرگینک مادے بنے، انہی سے زندگی نے جنم لیا۔ یہ تمام کیمیائی اجزاء اور آسمانی بجلی مشتری پر بھی پائی جاتی ہے۔ تاہم تیز چلنے والی عمودی ہواؤں کی وجہ سے ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو سکا ہو۔ زمین جیسی زندگی تو شاید مشتری پر ممکن نہ ہو کیونکہ وہاں پانی کی مقدار بہت کم ہے اور ممکنہ سطح پر بے پناہ دباؤ ہے۔ تاہم 1976 میں وائجر مہم سے قبل نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ امونیا اور پانی پر مبنی زندگی شاید مشتری کی بالائی فضاء میں موجود ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اوپر کی سطح پر سادہ ضیائی تالیف کرنے والے پلانکٹون ہوں اور سطح کے نیچے مچھلیاں ہوں جو پلانکٹون پر زندہ ہوں اور اس سے نیچے مچھلیاں کھانے والے شکاری۔
مشتری کے چاندوں پر زیرِ زمین سمندروں کی موجودگی سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہاں زندگی کے پائے جانے کے بہتر امکانات ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں