6

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے – آٹھواں حصّہ

ہمارے نظامِ شمسی کے آٹھ سیارے

تحریر زاہد آرائیں

آٹھواں حصّہ

مریخ (Mars) دوسرا اور آخری حصہ

۔۔مریخ پر آبادکاری۔۔
مریخ ممکنہ انسانی آبادکاری کی سائنسی تحقیق کے لیے بہت زیادہ مرکز نگاہ رہا ہے۔ مریخ پر پہنچنا زہرہ کے بعد سب سے زیادہ کفایت شعار ہو گا۔ یہاں پہنچنے کے لیے زہرہ کے بعد فی کمیت اکائی کے لحاظ سے سب سے کم توانائی کی ضرورت ہو گی۔ تاہم کم توانائی کے استعمال کے باوجود عصر حاضر کے جدید کیمیائی ایندھن سے چلنے والا خلائی جہاز بھی یہاں تک کے سفر میں 6 تا 7 ماہ کا عرصہ لے گا۔

زمین سے نسبتی مشابہت
زمین اپنی “جڑواں بہن” زہرہ سے اجزائے ترکیبی، حجم اور سطحی ثقل میں کافی مشابہ ہے، تاہم مریخ کی زمین سے مشابہت، آباد کاری کے حوالے سے زیادہ موزوں ہے۔ مثلاً مریخی دن دورانیہ کے لحاظ سے زمین سے خاصا قریب ہے۔ مریخ پر ایک شمسی دن کا دورانیہ 24 گھنٹے 39 منٹ اور 35.244 سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ مریخ کی سطح کا رقبہ زمین کا 28.4 فیصد ہے، زمین پر موجود خشکی کے رقبے سے تھوڑا کم (جو زمین کی سطح کا 29.2 فیصد ہے)۔ مریخ کا خشکی حصہ زمین کے مقابلے میں نصف قطر آدھا ہے جبکہ اس کی کمیت زمین سے دس گنا کم ہے۔مریخ اپنے محور پر 25.19° جھکا ہوا ہے، جیسا کہ زمین 23.44° پر جھکی ہوا ہے۔ نتیجتاً مریخ کے موسم کافی حد تک زمین کے مشابہ ہیں، اگرچہ ان کا دورانیہ لگ بھگ دو گنا ہوتا ہے کیونکہ مریخی برس زمینی 1.88 برس کے برابر ہوتا ہے۔ مریخی شمالی قطب فی الوقت دجاجہ کی طرف رخ کیے ہوئے ہے جبکہ زمین کے قطب شمالی کا رخ دب اکبر کی طرف ہے۔ ناسا کے مریخی پڑتال گر مدار گرد، ای ایس اے کے مریخی ایکسپریس اور ناسا کے فینکس خلائی گاڑی سے کیے گئے تازہ مشاہدات نے مریخ پر آبی برف کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

زمین سے اختلافات اور مزید معلومات
اگرچہ کچھ سخت جان جاندار ایسے ہیں جو زمین پر شدید سخت حالات میں بھی باقی رہ سکتے ہیں، بشمول وہ نقلی حالات جو مریخی حالات جیسے ہوتے ہیں، پودے اور جانور عموماً مریخ کی سطح پر موجود عصر حاضر کے حالات میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ مریخ کی سطح کی قوّت ثقل زمین کا 38 فیصد ہے۔ اگرچہ ثقل اصغر کی وجہ سے صحت سے متعلق کچھ مسائل جیسا کہ پٹھوں کی کمزوری اور ہڈیوں میں نمکیات کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا مریخی قوت ثقل کا بھی انسانی صحت پر ایسا ہی اثر ہو گا یا نہیں۔ مریخی ثقلی حیاتی سیارچہ ایک ایسا منصوبہ ہے جو اس لیے بنایا جائے گا تاکہ انسانوں پر مریخ کی کم قوت ثقل کے اثرات کے بارے میں جان سکے۔ مریخ زمین کی نسبت بہت زیادہ سرد ہے، اس کا اوسط درجہ حرارت 186 اور 268 کیلون کے درمیان رہتا ہے۔ زمین پر انٹارکٹکا میں سب سے کم درج کیا جانے والا درجہ حرارت 180 کیلون ہے۔ مریخ پر پانی کچھ مختصر عرصے کے لیے پایا جا سکتا ہے تاہم ایسا بہت ہی مخصوص حالات کے زیر اثر ہوتا ہے۔ کیونکہ مریخ لگ بھگ سورج سے 52 فیصد زیادہ دور ہے، لہٰذا اس کی اوپری فضاء میں داخل ہونے والی شمسی توانائی فی اکائی رقبے کے لحاظ سے زمین کے بالائی کرۂ فضائی میں داخل ہونے والی شمسی توانائی کا صرف 43.3 فیصد ہی ہوتی ہے۔ بہرحال مہین کرۂ فضائی کی وجہ سے سطح پر زمین کے مقابلے زیادہ شمسی توانائی داخل ہوتی ہے۔مریخ پر زیادہ سے زیادہ شمسی درخشانی 590 W/m² ہے جبکہ زمین پر یہ درخشانی لگ بھگ 1000 W/m² کی ہوتی ہے۔ مزید براں یہ کہ مریخ پر سال بھر جاری رہنے والے دھول کے طوفان سورج کی روشنی کی ہفتوں بھر کے لیے سطح پر پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔ مریخ کا مدار زمین کے مقابلے میں زیادہ بیضوی ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت اور شمسی دن یا شمسی مستقل میں کافی تغیر آتے رہتے ہیں۔ مقناطیسی میدان کی کمی، شمسی ذرّات اور کائناتی شعاعیں آسانی کے ساتھ مریخی سطح پر پہنچ جاتی ہیں۔ مریخ پر کرۂ فضائی کا دباؤ آرمسٹرانگ کی حد سے کہیں زیادہ کم ہے۔ یہ وہ حد ہے جس پر لوگ دباؤ کو برداشت کرنے والے لباس کے بغیر رہ سکتے ہیں۔ کیونکہ ارض سازی کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نہیں ہے، مریخ پر رہائشی جگہ بنانے کے لیے خلائی جہاز جیسے دباؤ والی چیزیں بنانی پڑیں گے جو اس قابل ہوں کہ 30 تا 100 kPaکے درمیان کا دباؤ جھیل سکیں۔
مریخی کرۂ فضائی 95فیصد کاربن ڈائی آکسائڈ،3 فیصد نائٹروجن، 1.6 فیصد ارگان اور دوسری گیسوں پر مشتمل ہے بشمول آکسیجن کے جو کل ملا کر 0.4 فیصد سے بھی کم ہے۔ مریخی ہوا کا جزوی دباؤ کاربن ڈائی آکسائڈ کا 0.71 kPa ہے جبکہ اس کے مقابلے پر زمین کا یہ دباؤ 0.031 kPa ہوتا ہے۔ کاربن ڈائی آکسائڈ کا انسانوں میں ہونے والا زہریلا پن لگ بھگ 0.10 kPa پر ہوتا ہے۔ پودوں کے لیے بھی کاربن ڈائی آکسائڈ کی سطح 0.15 kPa سے زیادہ زہریلی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مریخی ہوا پودوں اور جانداروں دونوں کے لیے کم دباؤ پر ایک جیسی ہی زہریلی ہوگی۔ مہین کرۂ فضائی سورج کی بالائے بنفشی روشنی کو چھان نہیں سکتی۔

انسانی سکونت کے لیے حالات
مریخ کی سطح پر موجود حالات درجہ حرارت اور کرۂ فضائی کے دباؤ کے لحاظ سے کسی بھی دوسرے سیارے یا چاند کی نسبت زمین سے زیادہ قریب ہیں۔ تاہم ان کی مشابہت زہرہ کے بادلوں کے اوپر حصّے میں موجود ماحول سے کم ہے۔ اس طرح سے نظام شمسی میں زہرہ کے بادلوں کے اوپری حصّے زمین کے ماحول سے سب سے زیادہ مشابہت رکھ سکتے ہیں۔ بہرحال ان تمام باتوں کے باوجود سطح انسانوں یا معلومہ حیات کی کسی بھی شکل کے لیے مہربان نہیں ہے اس کی وجہ وہاں ہوا کا کم دباؤ اور 0.1% فیصد سے کم آکسیجن رکھنے والا کرۂ فضائی ہے۔
2000ء میں بتایا گیا کہ کچھ کائی اور شائنو جرثومے نقلی مریخی حالات میں 34 دن گزارنے کے بعد نہ صرف زندہ باقی رہ گئے بلکہ انہوں نے ضیائی تالیف کے لیے حیرت انگیز مطابقت پذیری کی صلاحیت کو ظاہر کیا۔ یہ نقلی مریخی ماحول مارس سیمولیشن لیبارٹری میں بنایا گیا تھا جس کو جرمن ایرو اسپیس سینٹر چلاتا ہے۔کچھ سائنس دان سمجھتے ہیں کہ مریخ پر خود کفیل انسانی بستی بنانے کے لیے شائنو جرثومے بہت ہی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی تجویز کے مطابق شائنو جرثومے براہ راست طور پر کچھ جگہوں پر جیسے خوراک، ایندھن اور آکسیجن کی پیداوار کے لیے نہ صرف استعمال کیے جا سکتے ہیں بلکہ ان کا بالواسطہ استعمال کر کے دوسرے جانداروں کی نشوونما ہوسکتی ہے اس طرح سے یہ مریخی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے وسیع حیات کو سہارا دینے والے حیاتیاتی عمل کے لیے راستہ کھول دیتے ہیں۔
انسانوں نے زمین کے کچھ ایسے حصّوں کی چھان بین کی ہے جو ایک طرح سے مریخ کے ماحول سے تھوڑی مطابقت رکھتے ہیں۔ ناسا کے جہاں گردوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مریخ پر درجہ حرارت (نشیبی عرض البلد میں) انٹارکٹکا سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔ انسان بردار غباروں نے جو فضائی دباؤ بلند ترین عرض البلد(1961ء میں 35 اور 2012ء میں 38 کلومیٹر) پر جھیلا ہے وہ مریخ کی سطح پر موجود دباؤ کے مشابہ ہے۔
مریخ پر انسانی بقاء کے لیے پیچیدہ حیات کو سہارا دینے والی تدبیروں کونہ صرف اختیار کرنا ہوگا بلکہ مصنوعی ماحول میں رہنا پڑے گا۔
مریخ کی ارض سازی کے امکان پر بھی کافی بحث ہو چکی ہے تاکہ مریخ کی سطح پر بغیر کسی سہارے کے مختلف نوع کی حیات بشمول انسان زندہ رہ سکیں۔ ان مباحثوں میں ان فنیات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے جو مریخ کی ارض سازی کے لیے درکار ہوں گی۔

تابکاری
مریخ کے پاس زمین کی طرح کے مقناطیسی میدان موجود نہیں ہیں۔ مہین کرۂ فضائی کے ساتھ مقناطیسی میدانوں کی غیر موجودگی کی وجہ سے آئن زدہ اشعاع کی کافی مقدار سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ مریخی مہم خلائی گاڑی کے اوپر ایک آلہ موجود تھا جس کا کام انسانوں کے لیے اشعاع کے خطرات کو ناپنا تھا۔ اس آلے (میری) نے مریخ سے اوپر رہ کر مدار میں تابکاری کی سطح کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مقابلے میں 2.5 گنا زیادہ درج کیاجسکی اوسط لگ بھگ 22 ملی ریڈس فی دن ہے۔ اس طرح کی تابکاری کی سطح کا تین برس کا سامنا ناسا کے حفظان صحت کے اصولوں کی حد کو پار کر جائے گا۔مریخی سطح پر تابکاری کی سطح کچھ کم ہو سکتی ہے جس کا انحصار مختلف جگہوں کے عرض البلد اور مقامی مقناطیسی میدانوں پر ہو گا۔ زیر زمین(ممکنہ طور پر پہلے سے موجود لاوے کی سرنگوں میں) رہنے کے قابل گھر وہاں کے انسانی رہائشیوں کے تابکاری کا سامنا کرنے کے خطرے کو کافی حد تک کم کر دیں گے۔ کبھی کبھار شمسی پروٹون نکلنے کے واقعات میں تابکاری کا سامنے کرنے کا خطرہ کافی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
خلائی تابکاری کے بارے میں ابھی کافی کچھ جاننا باقی ہے۔ 2006ء میں کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ کائناتی تابکاری سے نکلنے والے پروٹون ڈی این اے کو اس سے دو گنا زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں جتنا پہلے سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح سے خلا نوردوں کو سرطان اور دوسری بیماریوں کا سامنا کرنے کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے۔ مریخی ماحول میں بلند تابکاری کے نتیجے میں “مریخ ایک ایسی جگہ نہیں ہے جہاں آسانی کے ساتھ موجودہ فنیات کے ساتھ بغیر وسائل میں سرمایہ کاری کیے بغیر جایا جا سکے۔” یہ بات اس یو ایس ہیومن اسپیس فلائٹ پلانز کمیٹی کے جائزے کی رپورٹ کے خلاصے میں کہی گئی ہے جس کو 2009ء میں شایع کیا گیا تھا۔ ناسا متبادل طریقوں اور فنیات(ٹیکنالوجیز) پر کام کر رہا ہے جیسا کہ پلازما سے بنی منحرف کرنے والی حفاظتی ڈھال، جس سے خلا نوردوں اور خلائی جہاز کو تابکاری سے بچایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں