6

چنگیز خان – اکیسویں صدی میں – وہارا امباکر

چنگیز خان – اکیسویں صدی میں

وہارا امباکر

میرے سر پر ٹوپی ہے۔ ٹوپی کے اوپر آسمان۔ میں منگول ہوں۔
-منگول کہاوت

دنیا کی تاریخ کی آج تک کی سب سے بڑی سلطنت تیرہویں صدی کی منگول سلطنت تھی۔ آج کا منگولیا ایک پسماندہ ملک ہے جس کا رقبہ پاکستان سے دگنا ہے لیکن آبادی کم۔ کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے بعد یہاں پر پہلی بار پچیس سال پہلے جمہوریت آئی تھی۔ کمیونسٹ دور کے ستر سالوں میں جن چیزوں پر یہاں پر پابندی تھی، ان میں سے ایک چنگیز خان کا نام تھا۔ اس نام کو اور اس سے منسلک کسی بھی شے کو اس ملک سے مٹا دیا گیا تھا۔ اس دور کے خاتمے کے بعد بیسویں صدی کے آخر میں آہستہ آہستہ اس ملک میں رہنے والوں کو اپنی تاریخ کے اس دور کا علم ہونا شروع ہوا تھا۔

لیکن اگر آج اگر منگولیا جائیں تو چنگیز خان ائیرپورٹ پر لینڈ کریں گے، کرنسی نوٹوں پر تصویر ملے گی، چنگیز خان کے نام سے مشروبات، چاکلیٹ، ٹافیاں، ریسٹورنٹ، ہوٹل، سڑکیں، سکول اور کالج ہیں۔ شہر میں چنگیز خان کے کئی اونچے مجسمے جن میں سے ایک سو فٹ سے زیادہ بلند ہے، سرکاری بلڈنگز میں تصاویر اور تاریخ کی کتابوں میں اب منگولیا کے سنہری دور کا اضافہ ہو چکا ہے۔

کھوپڑیوں کے مینار بنا دینے والے, دہشت اور قتل و غارت کی داستانیں رقم کرنے والے اس فاتح کو یہاں پر اس کے کردار کے دوسرے رخ کے حوالے سے جانا جاتا ہے جو مذہبی رواداری قائم کرنے والا، مساوات رکھنے والا، تجارت کے راستے کھولنے والا، منگولیا کے خانہ بدوشوں کو اکٹھا کر کے عالمی طاقت بنا دینا والا عظیم جنگی ہیرو تھا۔ چنگیز خان نے اپنی زندگی میں نہ کوئی یادگاریں چھوڑیں، نہ عمارتیں۔ اپنی قبر کا نشان تک مٹوا دیا، لیکن یہ سب کچھ اور ستر برسوں تک کی جانے والی مسلسل کوشش بھی یہ نام یہاں سے نہیں مٹا سکی۔ تیرہویں صدی کے اس فاتح کی شناخت اب یہاں پر ‘قوم کے باپ’ اور ‘قومی ہیرو’ کے طور پر ہے۔ 12 نومبر کو منگولیا میں یومِ چنگیز خان کی عام تعطیل ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں