10

تاریخ کا ایک ورق – آسٹریلیا میں ایک پرندےایمو(Emu) کےخلاف لڑی جانے والی لڑائی – زاہد آرائیں

۔۔تاریخ کا ایک ورق۔۔

۔۔آسٹریلیا میں ایک پرندےایمو(Emu)
کےخلاف لڑی جانے والی لڑائی۔۔

تحر یر = زاہد آرائیں

جنگِ ایمو جسے ایمو کے خلاف عظیم جنگ بھی کہا جاتا ہے، آسٹریلیا میں 1932ء کے اواخر میں فوج کی طرف سے نقصان دہ بننے والے پرندے اِیمو کے خلاف لڑی جانے والی جنگ تھی۔ یہ ناکام لڑائی آسٹریلیا کے مقامی تیز دوڑنے والے اور اڑنے سے معذور پرندے ایمو کے خلاف لڑی گئی۔ اس لڑائی میں ایمو کے خلاف فوجیوں کو لیوس گن یعنی ہلکی مشین گن دی گئی تھی۔ مقامی اخبارات میں اسے جنگ کا نام دیا گیا۔ اگرچہ بہت سارے ایمو مارے گئے مگر ایمو کی کل آبادی برقرار رہی اور فصلوں کو نقصان بھی پہنچاتی رہی۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد آسٹریلیا کے سابق فوجیوں کی بڑی تعداد نے جن میں برطانوی فوجی بھی شامل تھے، مغربی آسٹریلیا میں زراعت شروع کی۔ عظیم مندی کا دور 1929ء میں شروع ہوا تو ان کسانوں کی گندم کی زیادہ پیداوار کے لیے حکومت کی طرف سے حوصلہ افزائی کی گئی اور اگر وہ ناکام رہتے تو حکومت انہیں امداد بھی دیتی۔ تاہم حکومتی حوصلہ افزائیوں اور امداد کے وعدوں کے باوجود گندم کی قیمت گرتی رہی اور اکتوبر 1932ء میں معاملات اس وقت بہت گھمبیر ہو گئے جب کسانوں نے فصل کاٹنے کا ارادہ کیا اور حکومت کو دھمکی دی کہ وہ حکومت کو گندم نہیں دیں گے۔
کسانوں کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب 20٫000 ایمو اپنی سالانہ افزائشِ نسل کے دوران میں ہجرت کر کے یہاں آئے۔ ایمو ہر سال ایسا کرتے ہیں۔ یہاں پہنچے تو انہیں نہ صرف صاف زمین ملی بلکہ زراعت کے لیے بنائی گئی نہروں سے پانی بھی آسانی سے ملنے لگا۔ لہذا ایمو نے یہاں رہنے کا فیصلہ کر لیا اور فصلوں سے پیٹ بھرنے لگے۔ اس کے علاوہ جب وہ باڑ سے گزرتے تو بڑے سوراخ کر جاتے اور ان سوراخوں سے بعد میں خرگوش اندر گھس کر مزید تباہی پھیلاتے۔کسانوں نے اپنے خدشات سے حکومت کو آگاہ کیا کہ یہ پرندے ان کی فصلوں کو تباہ کر رہے ہیں اور سابق فوجیوں کا ایک وفد جا کر وزیرِ دفاع سر جارج پیئرس سے ملا۔ پہلی جنگِ عظیم میں شمولیت کی وجہ سے ان سابق فوجیوں کو مشین گن کے کا پورا علم تھا، چنانچہ انہوں نے مشین گنیں مانگیں۔ متعلقہ وزیر نے فوراً ہامی بھر لی تاہم کچھ شرائط عائد کر دیں۔ مشین گن کے استعمال کے لیے فوجی بھیجے جاتے اور فوجیوں کی منتقلی کا خرچہ مغربی آسٹریلیا کی حکومت ادا کرتی جبکہ فوجیوں کی رہائش، گولے بارود کا خرچہ اور کھانے پینے کا ذمہ مقامی کسانوں کے سر ہوتا۔ پیئرس کا خیال تھا کہ نشانے کی مشق کے لیے یہ پرندے بہت مناسب تھے جبکہ حکومت کے اندر کچھ اہلکار یہ چاہ رہے تھے کہ اس طرح وہ دوسروں کی نظر میں مغربی آسٹریلیا کے کسانوں کی مدد کرتے دکھائی دیتے۔ فوجیوں کے علاوہ فاکس مووی ٹون کے کیمرا مین کو بھی ساتھ بھیجا گیا۔
۔۔جنگ۔۔
فوجیوں کی شمولیت اکتوبر 1932ء میں شروع ہوئی ان کی سربراہی سیونتھ ہیوی بیٹری کے میجر میریڈتھ کے پاس تھی۔ ان کے پاس دو مشین گنیں اور 10٫000 گولیاں تھیں۔
میریڈتھ نے ایک مقامی بند کے قریب مورچہ بنایا اور 1٫000 سے زیادہ ایمو ان کی طرف آتے دکھائی دیے۔ بندوقچیوں کو حکم تھا کہ پرندوں کو بہت قریب آنے دیا جائے اور پھر گولیاں چلائی جائیں۔ تاہم دس یا بارہ پرندے شکار ہوئے تھے کہ بندوق میں گولی پھنس گئی۔ اتنی دیر میں پرندے فرار ہو گئے اور باقی سارا دن بے کار گزرا۔
اگلے کئی روز تک میریڈتھ نے مزید جنوب کا رخ کیا جہاں ایمو زیادہ خبردار نہیں ہوئے تھےمگر اسے زیادہ کامیابی نہ ہوئی۔ چوتھے روز انہوں نے دیکھا کہ ہر گروہ کا اپنا سربراہ بن چکا ہے جو دوسروں کی نگرانی کرتا ہے اور انسانوں کے قریب آنے پر خطرے کا الارم بجا دیتا ہے۔ ایک بار تو میریڈتھ نے ٹرک پر مشین گن لاد کر ایمو کا پیچھا کیا مگر ناکامی ہوئی کہ ٹرک بہت زیادہ ہلتا تھا اور اس کی رفتار بھی ایمو سے کم تھی۔ 8 نومبر تک یعنی چھ روز کی لڑائی میں 2٫500 گولیاں چل چکی تھیں اور کچھ لوگ کہتے تھے کہ 50 ایمو مارے گئے جبکہ کچھ نے کہا کہ 200 سے 500 ایمو مرے۔ تاہم فوجی اس بات پر مطمئن تھے کہ ان کا کوئی ساتھی نہیں مارا گیا۔ اس کا نتیجہ پرندوں کے ایک ماہر ڈومینک سروینٹی نے کچھ یوں نکالا:
”مشین گن چلانے والوں کا خیال تھا کہ وہ انتہائی قریب سے گولی چلا کر بے شمار پرندے مار لیں گے۔ تاہم ایمو نے گوریلا لڑائی شروع کر دی اور بے شمار چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ گئے جس کی وجہ سے فوجی ہتھیار بے کار ہو گئے۔ پورے مہینے کی لڑائی کے بعد بھی فوجی ناکام لوٹے”۔
8 نومبر کو آسٹریلیا کے ایوانِ نمائندگان میں اس پر گفتگو ہوئی۔ مقامی اخبارات میں اس کی منفیتصویر کشی ہوئی جس میں کہا گیا کہ چند ایمو مارے گئے ہیں۔ پیئرس نے 8 نومبر کو فوجی دستہ واپس بلا لیا۔
فوجیوں کی واپسی کے بعد میجر میریڈتھ نے ایمو کو زولو سے مشابہہ قرار دیا کہ کس طرح شدید زخمی ہونے کے بعد بھی یہ پرندہ مزاحمت کرتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ:
”جتنی گولیاں کھانے کر بھی ایمو لڑتا ہے، اگر اتنے سخت جان فوجیوں کی ایک ڈویژن بھی ہو تو دنیا کی کسی بھی فوج کا سامنا کر سکتی ہے۔ مشین گن کا ان پر اتنا ہی اثر ہوتا ہے جتنا ٹینک پر۔ یہ زولو جیسے تھے جن پر ڈم ڈم یعنی پھیلنے والی گولیاں بھی بیکار تھیں۔“

۔۔دوسری کوشش۔۔
فوجیوں کی واپسی کے بعد ایمو نے فصلوں پر حملے جاری رکھے۔ کسانوں نے پھر حکومت سے مدد مانگی اور عذر پیش کیا کہ گرم موسم اور قحط سالی کی وجہ سے ایمو اب ہزاروں کی تعداد میں کھیتوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ جیمز مچل نے جو مغربی آسٹریلیا کے وزیرِ اعلیٰ تھے، فوج بلوانے کی بھرپور حمایت کی۔ اسی وقت بیس کمانڈر نے رپورٹ پیش کی کہ پہلی کارروائی میں تین سو ایمو مارے جا چکے ہیں۔ بیس کمانڈر کی رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے 12 نومبر کو وزیرِ دفاع نے فوجی کارروائی کی اجازت دے دی۔ اس نے سینیٹ میں اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایمو کی بڑھتی ہوئی تعداد کسانوں کے لیے خطرہ تھی، لہذا اس نے اجازت دے دی۔ فوج نے ہتھیار دینے کی ہامی بھری میریڈتھ ایک بار پھر اس مہم کا سربراہ بنا کیونکہ ریاست میں مشین گن کے تجربہ کار فوجی نہ تھے۔ 13 نومبر 1932ء کو فوجیوں کو پہلے دو دن کچھ کامیابی ملی اور 40 ایمو مارے گئے۔ تیسرے روز ایک بھی ہاتھ نہ لگا۔ دو نومبر تک لگ بھگ 100 ایمو ہر ہفتے مارے جاتے رہے۔ میریڈتھ نے 10 دسمبر کو کارروائی ختم کی اور اعلان کیا کہ کل 986 ایمو مارے گئے جبکہ لگ بھگ 2٫500 بھی بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر مر گئے ہوں گے۔ 986 ایمو کے لیے 9٫860 گولیاں چلائی گئیں یعنی ہر دس گولی پر ایک ایمو۔

۔۔نتیجہ۔۔
اس مہم میں ناکامی کے بعد بھی کسانوں نے حکومت سے 1934ء، 1943ء اور پھر 1948ء میں فوجی مدد مانگی۔ تاہم حکومت نے 1923ء میں متعارف کرایا جانے والا انعام کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ سلسلہ کامیاب رہا اور کل 57٫034 ایمو مارے گئے اور ان کے شکاریوں نے انعام وصول کیا۔ یہ تعداد 1934ء میں محض چھ ماہ میں شکار ہوئی۔ دسمبر 1932ء میں اس لڑائی کے متعلق برطانیہ تک خبر پھیل گئی۔ کئی لوگوں نے اسے نادر پرندے ایمو کا قتلِ عام قرار دیا۔ 1930 اور اس کے بعد ایمو کو زرعی علاقوں سے باہر رکھنے کے لیے باڑ کا تصور عام ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں