3

اُف، یہ انگلش میڈیم!

اُف، یہ انگلش میڈیم!
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حل یہ ہے کہ اردو حتٰی کہ علاقائی زبانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان بنائیں۔ مقصد کانسپٹ کلیئر کرنا ہو۔ کسی طور بچے کے خلّاق دماغ کو خود سوچنے، توڑنے جوڑنے اور کچھ نیا اختراع کر ڈالنے کے راستے پر ڈالنا ہو ـــــ جو بیچارا رٹّے مار مار “امتحان” پاس کرنے اور شرمندگی سے بچنے کے جہاد میں مصروف رہتا ہے۔ انگریزی زبان ایک ہوّا ہے۔ بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک دبیز پردہ تان رکھا ہے آپ نے جو بچّے کی نظر میں کتاب اور علم کو قابلِ نفرت شے بنا ڈالتا ہے۔

آپ اصطلاحات terminology وہی رہنے دیں۔ فوٹو سینتھسس کو فوٹو سینتھسس ہی لکھا اور بولا جائے۔ ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ سائنسی علوم کی تدریس بذریعہ قومی و علاقائی زبان کے ضمن میں اصطلاحات ہرگز رکاوٹ نہیں۔ یوں بھی اس لشکری زبان میں جب فارسی، ترکی، عربی، سنسکرت ایسی زبانوں کے الفاظ مستعمل ہیں، تو انگریزی زبان کے الفاظ کا استعمال کیا برا لگے گا ــــ جن کی جگالی پہلے سے ہی ہم شب و روز کیے جاتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ Photosynthesis کو ‘ضیائی تالیف’ لکھنا بھی کیوں ضروری ہے؟

کرنے کا کام یہ ہے کہ اصطلاحات کی تشریح اور وضاحتی مواد کو آسان پیرائے میں لکھنے اور سمجھانے کی فکر کی جائے۔ تدریسی معیار بلند کرنے کی تدبیر کی جائے تا کہ بچہ گردوپیش میں دکھنے والی اشیا اور عوامل کو ہوشمندی سے سمجھنے، ان کوتنقیدی اور تعمیری انداز میں دیکھنے، پرکھنے کے قابل ہو سکے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، پشتو وغیرہ کا سہارا ہی کیوں نہ لینا پڑے، اس میں کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ کوئی شرم آڑے نہ آئے۔

ذرا تصور کریں، سائنسی علوم کی تدریس بذریعہ قومی و علاقائی زبان کا چلن یہاں عام ہو جائے۔ یہ سب کچھ عملاً متشکّل ہو جائے۔ آپ سنہ 2019ء میں سندھ یا پنجاب وغیرہ کے کسی دور دراز گاؤں میں کسی سہانی صبح اپنی گاڑی سے اتر کر وہاں قائم کسی پرائمری سکول کے بچوں سے ملاقات میں فوٹو سینتھسس کا سوال ان سے کر بیٹھیں، اور جواباً وہ بچے بھاگم بھاگ سکول کے کسی کونے سے ایک گملا اٹھا لائیں اور پھر آپ کے روبرو پٹاخ پٹاخ معلومات کا ڈھیر لگا ڈالیں، تو آپ کی مسرت کا کیا عالم ہو گا!

ذرا تصور کریں، چوتھی یا پانچویں جماعت کا بچّہ درج ذیل انگریزی زبان میں لکھی عبارت رٹنے کی مشقّت میں مسروف ہے۔ اپنا قیمتی وقت گھلائے چلا جاتا ہے تاکہ پرچہ امتحان پر یہ الفاظ کامیابی سے انڈیل سکے، تاکہ پاس ہو جائے، تاکہ شرمندہ ہونے سے بچ جائے، تاکہ اگلی جماعت میں کسی طور پروموٹ کر دیا جائے۔ یاد کرتا ہے، لکھتا ہے، پھر بھول جاتا ہے، پھر یاد کرتا ہے، اور با لآخر اگلی صبح مضطرب دل لیے آیت الکرسی کا ورد کرتے سکول کے لیے عازمِ سفر ہوتا ہے:
Photosynthesis is a process used by plants and other organisms to convert light energy, normally from the Sun, into chemical energy that can be later released to fuel the organisms’ activities (energy transformation)…….

پوری ایمانداری سے کہیے، کیا بات محض اتنی سی نہیں کہ Photosynthesis وُہ عمل ہے جس میں پودے اور دیگر جاندار سورج کی روشنی میں پائی جانے والی توانائی کو جذب کر کے اسےشوگر یا گلوکوز میں بدل ڈالتے ہیں۔ اس عمل سے بننےوالا یہ نیا کیمیائی فارمولا یعنی گلوکوز اصل میں کسی بھی جاندار وجود کے لیے، حرکت و عمل کی خاطر، توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے، جو دنیا کی تقریباً ہر مخلوق کی زندگی کو سہارا دیتا ہے۔ انسانی جسم میں شوگر یا گلوکوز کی سطح کے ایک حد سےگر جانے یا حد سے بڑھ جانے کی باتیں تو آپ نے سن ہی رکھی ہوں گی۔ یہ عمل بڑے پیمانے پر پودوں کی پتیوں میں انجام پاتا ہے۔ اسے انجام دینے کو پتیوں میں موجود سبز مادہ یعنی کلوروفل (chlorophyll) نہایت ضروری ہے۔ِا س عمل میں سورج کی توانائی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خرچ ہوتے ہیں اور شوگر (گلوکوز) اور آکسیجن حاصل ہوتے ہیں۔

آپ بتائیں یہ باتیں ہم اپنے بچوں کو اپنی زبان میں کیوں بتا اور پڑھا نہیں سکتے؟ آخر کیوں؟! اور بچہ اپنے استاد یا استانی صاحبہ کو یہ باتیں اپنی ہی زبان میں بلا خوف کیوں نہیں بتا سکتا، اور لکھ کر دکھا سکتا؟ اس معصوم عمر میں امتحان کا خوف کیوں سوار ہے اس ننّھی سی جان پر؟ یہ امتحانات اور انہیں پاس کرنے کو یہ ڈھیروں “گائیڈز” کون سے علّامے پیدا فرما رہی ہیں؟ بچہ ایف ایس سی کی سطح پر جا کر collapse کر جاتا ہے۔ اللہ اللہ، خیر سلّا۔

اقوام متحدہ اور یونیسکو کی رپورٹس اٹھا کر دیکھیں۔ بڑی جامعات کے تھیسس پر سرسری سی نظر ڈال لیں۔ حال ہی میں خود برٹش کونسل کی جاری کردہ رپورٹ پڑھ کر دیکھ لیں۔ یہ سب اسی بات کی دُہائی دیتے ہیں کہ خدا کے بندو، تعلیم و تدریس کوقومی اور مادری زبان میں لے کر چلو۔ غیر زبان نے تو اُلٹا پردہ تان رکھا ہے۔ سراسر رکاوٹ ہے، نہ کہ سہولت۔ دعا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار کسی طور اس جانب متوجہ ہوں، اور اب عملاً یہ معرکہ سر کر ہی ڈالیں۔

رہی بات تعلیم میں انگریزی زبان کی اہمیت کی تو اس کا آسان حل وہی ہے جس کا تجربہ جاپان اور چین ایسے ممالک میں نظر آتا ہے۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ پر تھوڑی برائوزنگ کی تو نوائے وقت میں چھپے ایک کالم پر نظر پڑی۔ سید روح الامین نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
”جاپان اور چین میں ہر بالغ اپنی زبان پر دسترس حاصل کرنے کے بعد صرف چھ ماہ میں کسی بھی زبان پر قدرت حاصل کر سکتا ہے اور اس کے لیے بارہ اور چودہ سال کی لگاتار محنت کی ضرورت نہیں۔ جبکہ ہمارے یہاں طلبہ و طالبات کو بارہ اور چودہ سال تک انگریزی پڑھانے کے باوجود دیگر ممالک میں TOFEL اور GRE کے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ہم کیوں نہ اپنے ممالک کی ہر علاقہ میں سب سے زیادہ سمجھی اور بولی جانے والی زبان کی تعلیم کو معیاری بنانے کے ساتھ انگریزی زبان کی تعلیم کو ایک سالہ یا شش ماہی Crash Programme کے ذریعہ زیادہ مؤثر بنانے پر زور دیں۔ تاکہ انگریزی کی حمایت میں دی جانے والی دلیل ( کہ فی زمانہ انگریزی کے بغیر جدید علوم تک رسائی ممکن نہیں ہے) غلط ثابت ہو سکے اور ہم ایک پنتھ دو کاج کے مصداق اردو اور انگریزی کی یکساں تحصیل کر سکیں۔“

(تدریسی معیار بلند کرنے کے حوالے سے مزید تجاویز اس سے اگلے مضمون میں۔ انشا اللہ۔ 🙂 )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمایوں مجاہد تارڑ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں