19

کیا آپ رائٹر بننا چاہتے ہیں اور کتاب “بھی” لکھنا چاہتے ہیں؟

کیا آپ رائٹر بننا چاہتے ہیں اور کتاب “بھی” لکھنا چاہتے ہیں؟

تو آپ کو میری ان چند ہدایات پہ عمل کرنا پڑے گا ۔ یاد رہے کہ یہ سراسر آپ کی بھلائی کے لیے دی جا رہی ہیں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے ۔

سب سے پہلے آج سے ہی اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں باوقار بنانے کی کوشش شروع کر دیجیے ۔ گلا پھاڑ کر ہنسنا بند کر دیں ۔ ہلکی سی مسکراہٹ دیا کریں ۔

دھیمے لہجے میں بات کریں اور آج تک جو آپ نے اپنا منہ پھاڑ قسم کا امیج بنا رکھا ہے اس میں تبدیلی کے لیے دل و جان سے غرقون غرقا ہو جائیں ۔ سیانوں کی اس بات کو ہمیشہ یاد رکھا کریں کہ محنت میں عظمت ہے ۔

اگر آپ سوشل میڈیا پہ لکھتے ہیں تو خوا مخواہ ہی خود کو ایک بڑا رائٹر سمجھنا شروع کر دیں اور ہر کسی کی بات کے جواب میں ایک عدد فلسفہ جھاڑا کریں ۔ حتی کہ دوستوں کی ساتھ ہنسی مزاق کرتے ہوئے آخر میں ضرور کوئی اداس اور روتی قسم کی بات کردیں جیسے کہ

” آج جو ہم اتنا ہنس رہے ہیں ایک دن اس سب کو یاد کر کے آنسو بہائیں گے ۔ زندگی بہت ناپائیدار ہے. وقت بھاگتا چلا جا رہا ہے اسے ضائع کرنے کا جی نہیں چاہتا مگر پھر بھی ہاتھ سے جاتا جا رہا ہے کسی ریت کی مانند ۔۔ جس میں ہمارے آنسو گھل مل گئے ہوں۔ (یہ حرکت ہماری دوست حیا پہ بھی بہت سوٹ کرتی ہے ۔ خبردار یہ تعریف ہی کی گئ ہے) ہر بات میں زندگی کو ضرور گھسائیں۔

بات کرتے ہوئے بے وجہ ہی ہر کسی کو گڑیا، بچہ کہنا شروع کر دیں چاہے آپ خود اس شخص کے بچوں کی عمر کے ہوں ۔ (اب تو سخت بری لگتی ہے یہ بات، کبھی خود بھی میں ایسی حرکت کرتی تھی۔ ایک تو لوگوں نے اندازِ گفتگو ہی کاکوں والا اختیار کیا ہوتا تھا ۔ اس لیے میرا کوئی قصور نہیں لیکن اب کسی کو کہنا بھی چھوڑ دیا ہے جب ایک آنٹی کی عمر پتا چلی جنہیں میں گڑیا کہہ رہی تھی ۔ پھر آئیں بائیں شائیں والی بات ہوگئ ۔ دوسرا یہ کہ بھئ آپ اتنے مہان نہیں ہیں کہ انیس ،بیس یا پچیس سال کے ہوں اور کسی کو بچہ ،بیٹا کہہ کر مخاطب کریں ۔) لیکن اگر آپ میری ہدایات پہ عمل کر رہے ہیں تو اسے بھی شامل کر لیجیے ۔

اگر آپ کی کسی بات پہ تعریف ہو رہی ہو تو۔۔ سلامت رہیے، آداب، خوب کہا، دل میں کھب گیا، بس دعا ہے آپ کی، کچھ نہیں ہوں میں، ایک ذرہ کی بات آپ کو پسند آئی یہ آپ کا اعلی ظرف ہے ،میرے دل میں جو تکلیف ہو لکھ دیتی ہوں آپ کو پسند آ گیا تو یہ آپ کی آنکھوں کا حسن ، جن کا دل اچھا ہو انہیں دوسروں کی ہر بات اچھی لگتی ہے، خوش رہیے ۔۔ پھر ساتھ میں ایک عدد یہ والا سٹیکر ضرور دیجیے۔
👈 : )
اس کے بغیر آپ کا سب کچھ ادھورا رہ جائے گا ۔ اور اگر کبھی کسی نے تھوڑی کم تعریف کر دی ہو یا تنقید ۔۔۔ آپ کی تنقید بھی میرے لیے تبرک کی طرح ہے سلامت رہیے جس کا جتنا ظرف، جتنی سمجھ اتنا ہی سمجھ سکتا ہے ۔ (دل چاہے اس کے سر پہ ڈنڈا مارنے کا کر رہا ہو ۔) یا پھر صرف اسی سٹیکر کو دے کر مسکراہٹوں کی کرنیں ضرور بکھیر دیں ۔

میسنجر پہ جواب جلدی مت دیں اور اگر جلدی دے بھی دیں تو دوسری کی بات پہ Hmmm
Hmmm ضرور کرتے رہیں ۔

ہر چند دن بعد اپنی کوئی پرسنل بات خوبصورت کر کے پیش کر دیں اور جواب میں ملنے والی تعریفوں پہ رات تک یہ سوچتے رہیں کہ میں کتنی مہان شخصیت ہوں الحمدللہ سب اللہ کا کرم!

جو لوگ لکھتے نہیں ان کی پوسٹس پہ غلطی سے بھی زیادہ نہ جائیں اگر جائیں بھی تو آھستہ قدموں اور فصیح و بلیغ اردو بول کر واپس آجائیں ۔ تعریف کم کریں اصلاح زیادہ کریں ۔

یہ تو ہوئی چند باتیں کسی بھی قسم کے رائٹرکے حوالے سے ۔ اب جب آپ رائٹر کہلائے جاتے ہیں تو لوگ یہ ضرور پوچھیں گے کہ کیا آپ نے کوئی کتاب لکھی ہے؟ اب ظاہر ہے آپ کو ایک نہ ایک کتاب لکھنی پڑی گی تاکہ ہاں کہہ سکیں ۔ تو اس کے لیے وقتا فوقتا ایسی بات کرتے رہیں جس سے یہ اندازہ ہو کہ آپ ایک کتاب لکھ رہے ہیں ۔

اپنے سامنے ایک میز رکھیں اس پہ ایک عدد دستہ اور قلم پھر ایک عدد چائے کا کپ ۔ اس دوران چہرے پہ سنجیدگی کا تاثر بالکل نہ جانے دیں ۔ بسکٹس ضرور رکھ لیں ۔ اس کے بعد بیٹھتے ہوئے ایک عدد نگاہ ارد گرد ڈالیں. ہر ممکن کوشش کریں کہ اس نگاہ میں تمام فلمی تاثرات ہوں جس سے لگے کہ آپ شدید غصے سے دیکھ رہے ہیں ۔ اور ایسی نگاہ سے ارد گرد کی چڑیاؤں کو بھی خاموش کروا دیں گے ۔

ناک پھلا کر اور ہونٹ بھینچ کر بہن بھائیوں کی طرف دیکھیں اور ان کو کچھ کہے بنا احساس دلانے کی کوشش کریں کہ آپ کتنا عظیم کام کرنے لگے ہیں اس لیے سب یہاں سے رفو چکر ہو جاؤ یا اپنے منہ پہ شیشے والی ٹیپ چپکا لو ۔

اس کام کے بعد سامنے صفحے کو دیکھیے، قلم پکڑیے اور اس کے بعد سوچیں کہ آخر آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ تھوڑے سے پریشانی کے تاثرات چہرے پہ لائیں ۔ سامنے پڑی کتابوں پہ نظر دوڑائیں ۔ سب کچھ تو لکھ لیا دنیا والوں نے اب کیا لکھوں؟ خیر ایک موضوع مرمر کے سمجھ آ گیا تو آدھا صفحہ لکھیے ۔اس کے بعد قلم سائیڈ پہ رکھیں اور چائے پی کر موبائل پہ مسٹر شمیم یا بلبے لگا لیں ۔ یا موٹو پتلو کارٹون، یا پھر جو بھی الا بلا آپ دیکھتے ہیں ۔ (غلط بات)

اکثر ایک کتاب شروع کریں اور ایک صفحہ لکھ کر اسے غیر ضروری سمجھ کر کینسل کر دیں ، کسی پالیسی کی طرح ۔

اگر لکھ ہی لیا ہے تو آرام کریں پھر کیوں کہ آگے آپ کے پاس موجود مواد ختم ہو چکا ہوگا۔ سارے مسائل بھی کسی جادو کی طرح غائب ہو چکے ہوں گے لہذا آخر میں قلفی کی ڈنڈی جیسا منہ بنا کر میرا مطلب ایسا 👈 : / سارا کچھ اپنی جگہ پہ واپس رکھیں ، میز کو لات ماریں اور انسان بن کر اپنے دوسرے کام شروع کر دیں یا سوجائیں ۔ ان شاءاللہ آپ کتاب نہ بھی لکھ سکے تویہ کہنے کے قابل ضرور ہوں گے کہ “لکھ رہا ہوں / رہی ہوں ۔

شکریہ کی ضرورت نہیں یہ میرا فرض تھا۔

تحریرِ اعلی: عظیم قلمکار عفیفہ شمسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں