higgs-boson 7

ہگس بوذون، ایک حیرت انگیز دریافت!

انسان ہزار ہا سال سے اس کائنات کے اسرار ورموز کو جاننے کی کوشش میں مگن ہے۔ فطرت کی خوبصورتی، رعنائی اور جاذبیت اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اس نظام کائینات کو سمجھے اور اس میں کار فرما قوتوں کی خبر رکھے۔ ایک فرانسیسی سائنسدان ہنری پوائنکیئر (Henri Poincare)کاقول ہے کہ، ’’سائنسدان فطرت کا مطالعہ اس لئے نہیں کرتا کہ یہ فائدہ مند ہے۔ بلکہ وہ اسے اس لئے جاننا چاہتا ہے کیونکہ اس میں خوشی اور فرحت محسوس کرتا ہے اور ایسا اسلئے ہے کہ یہ خوبصورت ہے۔ اگر فطرت خوبصورت نہ ہوتی تو یہ قابل غور نہ ہوتی، اور اگر یہ قابل غور نہ ہوتی تو رہنے کے قابل کیسے ہو سکتی تھی۔‘‘
اسی فطرت کو جاننے اور اس سے آگاہی کا دوسرا نام علم طبیعات یا فزکس ہے، جس کی ایک اہم شاخ بنیادی ذراتی طبیعات یعنی ایلیمینٹری پارٹیکل فزکس ہے، جسے ہائی انرجی فزکس ہائی اینرجی فزکس بھی کہا جاتا ہے۔
اس مضمون کا بنیادی مقصد اگرچہ قارئین کو ہگس بوذون کی دریافت اور اس کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا ہے، لیکن اس سے پہلے ہم مختصراً یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ آخر ذراتی طبیعات کیا ہے اور یہ ہمیں کائنات کے کون سے پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے۔
ہائی انرجی فزکس یا ذراتی طبیعات، طبیعات کی وہ شاخ ہے جس میں مادہ اور شعاع ریزی یعنی ریڈیئیشن کے بنیادی اجزا کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور ان کے مابین اثر انداز ہونے والی مختلف قوتوں سے آگاہی حاصل کی جاتی ہے۔ دیگر لفظوں میں ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کون سے بنیادی ذرات ہیں جن کے باہم ملاپ سے مادہ اور یہ کائنات وجود میں آئی اور وہ کون سی قوتیں ہیں جو کائنات کے وجود اور توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
قارئین، یہ شاخ طبیعات کی چند مشکل ترین شاخوں میں سے ایک ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کائنات کی پوشیدہ حقیقتوں کو پالینا اتنا آسان نہیں۔ جب ہم مادہ کے بنیادی اجزاء کی بات کرتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے یونانی فلسفیوں کا نام سننے کو ملتا ہے،جنہوں نے سب سے پہلے اس میدان میں اپنی آراء قائم کیں اور بعد میں آنے والے محققین نے ا نہیں تجربات کی مدد سے پرکھا۔
عظیم یونانی فلسفی ارسطو کا خیا ل تھا کہ کائینات میں پایا جانیوالا مادہ بنیادی طور پر صرف چار اجزاء، یعنی ہوا، مٹی ، پانی اور آگ سے مل کر بنا ہے۔ اس کے برعکس دی مقراطیس یعنی ڈیموکرائیٹس کے عالمی نظریہ جوہری توانائی کے مطابق مادہ کوچھوٹے اجزا میں تقسیم کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے کا سب سے چھوٹاذرہ ایٹم کہلاتا ہے، جس کا لغوی مطلب ہے ناقابل تقسیم۔ تاہم اس بات کو سمجھنے میں تقریباََ ۲۰۰۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا اور بالآخر ۱۹۳۲ء میں مختلف تجربات کی مدد سے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ ایٹم ایک قابلِ تقسیم ذرہ ہے، جو بنیادی طور پر ایک مرکزے پر مشتمل ہوتا ہے جسے ہم نیوکلئیس کہتے ہیں۔ یہ نیوکلئیس دو ذرات پروٹون اور نیوٹرون سے مل کر بنا ہے، جبکہ وہ ذرہ جو اس مرکزے کے گرد ایک خاص مدار میں موجود ہوتا ہے، الیکٹرون کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس دور کو طبیعات کی تاریخ میں کلاسیکی دور کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد وسطی دور شروع ہوتا ہے جس میں ان ذرات کا کھوج لگانے والے آلات یعنی ڈیٹیکٹرز اور ایکسلریٹرز میں انقلابی تبدیلیاں آئیں اور سائنسدانوں کو تجربات کی مدد سے مادے کے اندر زیادہ گہرائی میں جھانکنے کا موقع ملا۔
آج ہزار ہا برس کی تحقیق اور تجربات کے بعد سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مادہ دراصل دو طرح کے ذرات سے مل کر بنا ہے جنہیں ہم کوارکس اور لیپٹان کہتے ہیں۔ ان دونوں اجزاء کی چھ اقسام ہیں اور انہیں ان کی کمیت، برقی بار اور دیگر خصوصیات کی بنا پر مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ذراتی فزکس جہا ں ایک طرف مادے کی بنیادی اکائیوں کو تلاش کرتی ہے، وہیں دوسری جانب یہ کائنات میں کارفرما فطری قوتوں پر بھی سیر حاصل بحث کرتی ہے۔ گزشتہ صدی میں ذراتی طبیعات پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے فطری قوتوں کی باریکیوں کو سمجھنے کیلئے مختلف نظریات پیش کئے، جن میں سب سے کامیاب، اہم اور قابل اعتمادنظریہ اسٹینڈرڈ ماڈل یا معیاری سانچہ کہلاتا ہے، جو کائنات میں موجود عناصر اور قوتوں کے ما بین باہمی ربط کی انتہائی کامیابی سے وضاحت کرتا ہے۔
اس نظریئے کے مطابق کائنات میں چار اقسام کی قوتیں پائی جاتی ہیں جن میں سب سے اول اور قوی، مضبوط مرکزی قوت یا اسٹرونگ نیوکلیئر فورس کہلاتی ہے۔ یہ صرف ایٹم کے مرکزے میں پائی جاتی ہے اور اس میں موجود بنیادی ذرات یعنی کوارکس کو باندھ کر رکھتی ہے اور انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونے دیتی۔ اس کا محیط ایک ملی میٹر کا دس اربواں حصہ ہے، جو مجموعی طور پر ایٹم کے مرکزے کا قطر ہے۔
دوسری قوت جو مضبوط مرکزی قوت سے طاقت میں نسبتاً کم ہے، برقی مقناطیسی قوت یا الیکٹرو میگنیٹک فورس کے نام سے جانی جاتی ہے۔ برقی اور مقناطیسی قوتیں اٹھارہویں صدی عیسوی تک دو مختلف قوتوں کے طور پر جانی جاتی تھیں، لیکن برطانوی سائنسدان جیمز کلارک میکسویل نے یہ ثابت کیا کہ یہ دونوں قوتیں دراصل ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ یہ خاص قوت، جس کا حلقہ یا احاطہ لامحدود ہے، کائنات میں موجود برقی اور مقناطیسی بار دار ذرات کے درمیان مصروف عمل رہتی ہے اور ان ذرات پر موجود بار یعنی چارج کو ہٹانے اور انہیں ایک دوسرے کی جانب متوجہ کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی ہے۔ الیکٹرومیگنیٹک فورس چیزوں کی مضبوطی، شکل و صورت اور سختی جیسے عوامل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
کائینات میں موجود تیسری قوت جسے کمزور مرکزی قوت یا ویک نیوکلیئر فورس کہا جاتا ہے، قدرتی تابکاری اور ہائیڈروجن ایٹموں کے ملاپ، جس کی بدولت سورج سے توانائی حاصل ہوتی ہے، جیسے عوامل کا باعث بنتی ہے۔ اس قوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شمسی توانائی کا حصول، جسے انسانی بقاء کیلئے ناگزیر سمجھا جاتا ہے، ویک نیوکلیئر فورس کی موجودگی کے بغیرممکن نہیں۔
کائینات کی چوتھی قوت، جسے ذراتی طبیعات میں دیگر قوتوں کی نسبت انتہائی کمزور ہونے کی وجہ سے تقریباً نظر انداز کر دیا جا تا ہے، قوت ثقل یا گریوی ٹیشنل فورس کہلاتی ہے۔ یہ وہی قوت ہے جو ہمیں اور ہمارے اردگرد موجود اشیاء کو زمین سے باندھے رکھتی ہے، زمین کو سورج کے گرد ایک خاص مدار میں گردش پر مجبور کرتی ہے اور ساحل سمندر پر مدوجزر کا باعث بنتی ہے۔
یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بنیادی ذراتی طبیعات کو ہائی اینرجی فزکس اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ایٹم کے اندر موجود ذرات یعنی پروٹون یا الیکٹرون اور ان کے مخالف ذرات کو بہت زیادہ توانائی کے ساتھ لکیری یا دائروی سمت میں مخالف اطراف سے دوڑایا جاتا ہے اور پھر ایک خاص جگہ پر، جہاں کھوج لگانے والے آلات موجود ہوتے ہیں، انہیں آپس میں ٹکرایا جاتا ہے۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں مختلف قسم کی توانائی اور کمیت کے انتہائی لطیف ذرات جنم لیتے ہیں جنہیں بعد میں حاصل شدہ ڈیٹا کی مدد سے مزید گہرائی میں سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ طریقہ کا ر ہے جو دنیا کی تقریباََ تمام تجربہ گاہوں میں رائج ہے اور جس کے ذریعے سائنسدان اس تحقیق کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں ہگس بوذون کی طرف، جس کا تذکرہ ۶۰ء کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب برطانوی نظریہ دان پیٹر ہگس اور دوسرے لوگوں نے اس موضوع پر اپنے مقالہ جات پیش کئے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہ تخیلاتی عنصر یا سب اٹامک ذرہ، جس سے مادہ کسی مسلسل تناسب کے اچانک ٹوٹنے سے اپنی کمیت حاصل کرتا ہے، دراصل ہگس بوذون ہے۔ امریکی نظریہ دان شیلڈن گلیشو نے اپنے مقالے میں یہ تجویز کیا کہ برقی مقناطیسی قوت اور کمزور مرکزی قوت دراصل ایک ہی قوت کی دو مختلف شکلیں ہیں۔
اس میدان میں گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دو امریکی سائنسدانوں شیلڈن گلیشو اور اسٹیون وائنبرگ کے علاوہ مایہ ناز پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی مشترکہ طور پر ۱۹۷۹ء میں طبیعات کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ ان سائنسدانوں نے دراصل اپنے نظریات کی مدد سے دو مختلف ذرات ’’بوزون ڈبلیو‘‘ اور ’’بوزون زی‘‘ کے وجود اور کمیت کے بارے میں پیش گوئی کی تھی، جنہیں بعد میں کئے جانے والے تجربات میں دریافت کیا گیا۔ ڈبلیو اور زی بوزون پروٹون سے ۱۰۰ گنا زیادہ کمیت کے حامل ہونے کی وجہ سے اب تک ذراتی فزکس کے سب سے وزنی ذرات تصور کئے جاتے تھے۔
اسی سلسلے کی ایک ادھوری کڑی ہگس بوذون تھا جسے تلاش کرنے کیلئے سائنسدان گزشتہ کئی دہائیوں سے شب و روز مصروف عمل تھے۔ سائنسدانوں کا خیا ل ہے کہ ہماری کائنات وجود میں آنے سے پہلے سب کچھ ہوا میں تیر رہا تھا اور ہر چیز بے وزن تھی۔ دراصل یہ ہگس بوذون ہی تھا جو بھاری توانائی لے کر آیا اور اسی کی وجہ سے یہ ذرات آپس میں جڑنے لگے اور ان کا ماس یا کمیت پیدا ہوئی۔ اسی لئے سائنسدان ہگس بوذون کو کائنات کی تخلیق کا ایک اہم جزو قرار دے رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر وہ اس عنصر کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے تو کائنات کی تخلیق سے متعلق کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھانا ممکن ہو سکے گا۔
اس مقصد کیلئے سائنسدانوں نے برس ہا برس کی محنت اور تحقیق کے بعد فرانس اور سوئٹزر لینڈ کی سرحد پر واقع ایک جدید تجربہ گاہ میں، جسے جوہری تحقیق کی یورپی تنظیم ’’سرن‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، مختلف تجربات کا اہتمام کیا اور دنیا کا سب سے بڑا اور تیز ترین ایکسلریٹر تعمیر کیا جسے ’’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان تجربات کا بنیادی مقصد ایک ایسے ذرے یعنی ہگس بوذون کی تلاش تھا جس سے اس حقیقت کی تصدیق ہو سکے کہ آیا واقعی مادہ اپنی کمیت ایک خاص طریقہ کار کو اپناتے ہوئے حاصل کرتا ہے یا نہیں؟
اس منصوبے پر اربوں ڈالر خرچ کئے گئے اور دنیا بھر سے ہزاروں سائنسدان گزشتہ کئی دہائیوں سے اس پر مسلسل کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ ہگس بوذون کی تلاش بالکل ایسا ہی کام تھا کہ جیسے بھوسے سے بھرے کھلیان میں سوئی تلاش کی جائے۔
ان تجربات کے دوران ’’لارج ہیڈرون کولائیڈر‘‘ میں پروٹون اور ان کے مخالف ذرات کو ایک ۲۷ کلومیٹر طویل دائروی سرنگ میں تقریباً روشنی کی رفتار سے دوڑا کر آپس میں ٹکرایا گیا، جس سے اندازاً وہی کیفیت متوقع تھی جو تخلیق کائنات سے پہلے بگ بینگ کے وقت تھی۔ ان ذرات کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک سیکنڈ میں ان ذرات نے ۲۷ کلومیٹر طویل دائروی سرنگ کے گیارہ ہزار سے زائد چکر لگائے اور پھر ایک مقرر کردہ جگہ پر انتہائی قوت اور توانائی کے ساتھ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ سائنسدان دراصل اس بات کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے کہ آیا اس ٹکراؤ کے نتیجے میں کوئی ایسا تیسرا عنصر وجود میں آتا ہے کہ جس سے پروٹون اور نیوٹرون آپس میں مل جاتے ہیں اور اپنی کمیت حاصل کرتے ہیں۔
سائنسدانوں حیرت انگیز طور پر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ۴ جولائی ۲۰۱۲ء کو انہوں نے ہگس بوذون کی دریافت کا دعویٰ کردیا۔ لارج ہیڈرون کولائیڈر کے ذریعے کئے گئے مختلف تجربات میں اتنی یقینی صورتحال سامنے آئی ہے کہ اسے دریافت کا درجہ دیا جاسکے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ڈیٹا میں ایک سو پچیس اعشاریہ تین گیگا الیکٹرون وولٹ پر کمیت کی ایک ایسی اٹھان دیکھی ہے جو اس بات کی سو فیصد تصدیق کرتی ہے یہ دراصل ایک بوذون ہے۔ اس موقع پر ’’سرن‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر رالف ہیوئر کا کہنا تھا کہ ’’ایک عام آدمی کی حیثیت سے تو میں یہی کہوں گا کہ ہم کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن ایک سائنسدان کی حیثیت سے مجھے پوچھنا پڑے گا کہ ہم نے کیا تلاش کیا ہے؟ ہمیں ایک ایسا ذرہ ملا ہے جسے بوذون کہتے ہیں، لیکن ہمیں حتمی طور پر ابھی اس بات کا پتہ چلانا ہے کہ یہ کس نوعیت کا بوذون ہے۔ یہ کامیابی ایک تاریخی سنگ میل ہے، لیکن ابھی تو آغاز ہے۔‘‘
ہگس نظریہ کے خالق برطانوی سائنسدان پیٹر ہگس نے اس پر مسرت موقع پر کہا کہ ’’مجھے حیرت ہے کہ سائنسدانوں نے میری زندگی میں ہی یہ کامیابی حاصل کر لی ہے۔ میں اس دریافت پر ہر اس شخص کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو اس کارنامے کا حصہ ہے۔‘‘
یہ دنیا کا اس وقت تک کا سب سے بڑا سائنسی تجربہ تھا اور سائنسدانوں کا خیا ل ہے اگر یہ ثابت ہو گیا کہ نیا دریافت شدہ ذرہ دراصل وہی ہگس بوذون ہے جس کی نشاندہی ۴۵ برس پہلے کی گئی تھی تو یہ اس صدی کی سب سے بڑی سائنسی دریافتوں میں سے ایک ہو گی اور یہ ثابت ہو جائے گا کہ طبیعات درست سمت میں کام کر رہی ہے۔
پاکستان اس میدان میں دیگر اقوام کے شانہ بشانہ اپنا کردار بخوبی نبھا رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے پنجاب یونیورسٹی، لاہو ر میں سینٹر فور ہائی اینرجی فزکس کا قیام ۱۹۸۲ء کے دوران عمل میں لایا گیا، جو پاکستان میں اس شعبے کی ترقی اور فروغ کیلئے کام کر رہا ہے۔ جوہری تحقیق کی یورپی تجربہ گاہ ’’سرن‘‘ کے ساتھ کام کرنے والے زیادہ تر سائنسدانوں کا تعلق نیشنل سینٹر فور فزکس، اسلام آباد اور پاکستان ایٹومک اینرجی کمیشن سے ہے۔ پاکستانی سائنسدان، خواہ ان کا تعلق کسی بھی ادارے سے ہو، اس میدان میں اپنی قابلیت اور مہارت کا لوہا منوا رہے ہیں۔
ہماری نوجوان نسل کو بھی چاہئے کہ وہ اس میدان میں آگے آئے اور تعلیم و تحقیق کے اس دور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر اس میدان میں نئی جہتیں متعارف کروائے۔

تحریر: شاہد ستار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں