This-is-how-the-robot-uprising-finally-begins 6

روبوٹس کی بغاوت کچھ اس طرح شروع ہوگی

مصنوعی ذہانت کی حالیہ ترین پیش رفت اور روبوٹس کے امتزاج سے تخلیق کاری اور ویئرہاؤسنگ تبدیل ہو کر رہ جائيں گے۔ لیکن اس سے مصنوعی ذہانت پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟

سان فرانسسکو کی ایک فیکٹری میں پکی ہوئی مرغی کا ایک ڈھیر رکھا ہوا ہے۔ ایک روبوٹ کا ہاتھ اس ڈھیر سے مرغی کا ایک ٹکڑا اٹھاتا ہے، اور پھر اگلے ہی لمحے اسے ایک کنویئر بیلٹ پر چلنے والے ایک لنچ باکس میں ڈال دیتا ہے۔

اس روبوٹ کو سان فرانسسکو میں واقع اوسارو (Osaro) نامی کمپنی کنٹرول کررہی ہے، اور یہ ماضی میں بنائے گئے کسی بھی روبوٹ سے زیادہ ذہین ثابت ہورہا ہے۔ سافٹ ویئر کی مدد سے اسے پانچ سیکنڈ کے اندر اندر مرغی کے ٹکڑے اٹھا کر رکھنا سکھایا گیا ہے، اور اوسارو امید کرتے ہيں کہ اسی سال یہ روبوٹس جاپان کی ایک خوردنی اشیاء بنانے والی کمپنی میں کام کرنے لگ جائيں گے۔

روبوٹس کب بغاوت کرنے لگ جائيں گے؟ اگر آپ کو یہ ڈر ہے تو آپ کو صرف کسی بھی فیکٹری میں قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو احساس ہوجائے گا کہ اس میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ روبوٹس بہت باصلاحیت تو ہیں، لیکن وہ کیا کرسکتے ہيں، اور کیا نہيں؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہيں کس طرح پروگرام کیا گيا ہے۔ اگر کسی چیز کو اپنی جگہ سے محض ایک انچ بھی ہٹادیا جائے تو روبوٹ بوکھلا جائ گا۔ اس کے علاوہ، روبوٹس کے لیے کسی ناواقف چیز کو پہچاننا بالکل ناممکن ہے، اسے دو مختلف چیزوں کے درمیان فرق سمجھ ہی نہيں آئے گا۔ اس قسم کے روبوٹ کے لیے مرغی کے ٹکڑے پہچان کر انہيں اٹھانا ہی بہت ہے۔

مصنوعی ذہانت کی حالیہ ترین پیش رفت صنعتی روبوٹس تک نہيں پہنچ پائی ہے۔ پچھلے پانچ سال کے دوران مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر بغیر کسی انسانی عمل دخل کے تصویریں پہچاننے، بورڈ گیمز جیتنے اور انسانوں کی باتوں کا جواب دینے کے قابل ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ، اگر اسے مشق کے لیے وقت دیا جائے تو وہ اپنی مزید تربیت خود بھی کرکستا ہے۔ لیکن دوسری طرف مصنوعی ذہانت کا ہارڈویئر، یعنی روبوٹس، دروازہ کھولنے یا کوئی چیز اٹھانے سے قاصر ہيں۔

یہ صورتحال جلد ہی تبدیلی ہونے والی ہے۔ اوسارو کے روبوٹ میں جس سافٹ ویئر کا استعمال کیا گیا ہے، اس کے ذریعے وہ اپنے سامنے موجود اشیاء کی نشاندہی کرسکتے ہيں، اس کے ردعمل کا مطالعہ کرسکتا ہے، اور فیصلہ کرسکتے ہيں کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ دیگر مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کی طرح، یہ سافٹ ویئر بھی اپنی تجربے ہی سے سیکھتا ہے۔ قریب موجود کمپیوٹر پر نصب مشین لرننگ سافٹ ویئر اور دکان سے خریدے گئے کیمرے کے ذریعے یہ روبوٹ چیزوں کو موثر طریقے سے پکڑنا سیکھتا ہے، اور آہستہ آہستہ غلطیاں کر کر کے کوئی بھی چیز پکڑنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی۔

مصنوعی ذہانت سے آراستہ روبوٹس کی وجہ سے کئی شعبہ جات میں آٹومیشن ممکن ہوگی، اور یہ مصنوعات کی چھانٹی یا پیکنگ کے کاموں میں انسانوں کی جگہ لے سکتے ہيں۔ بلکہ اگر ان میں کسی فیکٹری کی بھگڈر سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے تو روبوٹس تخلیق کاری کے شعبے میں کئی دوسرے کام بھی کرنے لگيں گے۔ یہ بغاوت نہ سہی، انقلاب ضرور ہے۔ ہارورڈ بزنس سکول میں تخلیق کاری کے رجحانات کا مطالعہ کرنے والے ویلی شیح (Willy Shih) کہتے ہيں “کئی تجربات کیے جارہے ہيں اور لوگ کئی مختلف چیزوں پر کام کررے ہیں۔ تکرار سے بھرپور کاموں کو آٹومیٹ کرنے کا بہت زیادہ امکان ہے۔”

یہ صرف روبوٹس ہی لئے، بلکہ مجموعی طور پر مصنوعی ذہانت کے لیے بھی انقلاب ہے۔ کسی بھی ہارڈویئر میں مصنوعی ذہانت کا سافٹ ویئر نصب کرکے اسے وژول پہچان، سپیچ اور نیویگیشن سکھایا جاسکتا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کو مزید ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے، اس کی ذہانت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح، ہر حرکت سے ان روبوٹس میں نصب سافٹ ویئر کی اپنے اطراف کی چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیتیں بہتر ہوتی رہتی ہيں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلی، اور تخلیق کاری کے شعبے میں مشین لرننگ اور ورچول ریئلٹی کا استعمال کرنے والی سٹارٹ اپ کمپنی covariant.ai (جس کا نام پہلے ایموڈیڈ انٹیلی جنس (Embodied Intelligence) ہوا کرتا تھا) کے بانی پیٹر ابیل (Pieter Abbeel) کہتے ہيں “اس سے ایسی پیش رفت سامنے آسکتی ہے جو اس ڈیٹا کے بغیر ناممکن ہوتی۔”

شروع ہی سے علیحدگی
اس دور کو آتے آتے بہت دیر لگی ہے۔ 1954ء میں جارج سی ڈیول (George C. Devol) نامی موجد نے ایک پروگرام کیے جانے کے قابل میکانیکی بازو کے ڈیزائن کا پیٹنٹ حاصل کیا تھا، اور 1961ء میں جوزف اینگل برگر (Joseph Engelberger) نامی تخلیق کار نے اس ڈیزائن کا استعمال کرکے یونی میٹ نامی بے ہنگم سی ایک مشین بنائی، جسے پہلی بار نیوجرسی میں جنرل موٹرز کی اسمبلی لائن میں بروئے کار لایا گیا۔

ان مشینوں کی ذہانت کو شروع ہی سے رومانوی انداز میں بیان کیا جاتا رہا۔ اینگل برگر نے سائنس فکشن کے مایہ ناز مصنف آئسک ایسیمو کے اینڈرائڈز کے نام پر اپنی مشین کا نام “روبوٹ” تو رکھ دیا، لیکن یہ مشینیں بے ہنگم ہونے کے علاوہ بہت سیدھی سادی تھی۔ اس میں صرف ایک ہی مخصوص قسم کا کام ممکن تھا، اور اس میں بہت ہی بنیادی قسم کا سافٹ ویئر استعمال کیا گیا تھا۔ موجودہ زمانے کے روبوٹس اس سے بہتر ہیں، لیکن انہیں بھی ہر چھوٹے چھوٹے کام کے لیے پروگرام کرنا پڑتا ہے۔

تاہم، مصنوعی ذہانت بہت آگے نکل چکی ہے۔ 1950ء کی دہائی سے ہی کمپیوٹنگ کی ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانوں کی طرح سوچنے کی صلاحیت پر کام شروع ہوچکا تھا۔ اس کے علاوہ، چند ریسرچرز نے ان سسٹمز کو حقیقی شکل دینے کی بھی کوشش کی۔ 1948ء اور 1949ء میں برطانیہ کے شہر برسٹل میں رہائش پذیر نیوروسائنسدان ولیم گرے والٹر (William Grey Walter) نے دو چھوٹی سی آزادانہ مشینیں بنائيں، جن کا نام انہوں نے ایلسی (Elsie) اور ایلمر (Elmer) رکھا۔ کچھوے کی شکل کے ان آلات میں سیدھے سادے سرکٹس نصب تھے، جن کی مدد سے وہ خود روشنی کے پیجھے جاسکتے تھے۔ ان مشینوں کو تخلیق کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ انسانی دماغ کے محض چند نیورونز کس طرح پیچیدہ اقدام کا باعث بنتے ہيں۔

تاہم ذہانت سمجھنا اور اسے تخلیق کرنا کسی پہاڑ سے کم نہيں تھا، اور کافی عرصے تک مصنوعی ذہانت میں کوئی خاص کارنامہ سامنے نہيں آیا۔ اس دوران، مشینوں کو حقیقی دنیا میں کوئی کارآمد چیز کر دکھانے کے لیے پروگرام کرنا بہت پیچیدہ ثابت ہوتا جارہا تھا۔ کئی دہائیوں سے ریسرچ لیبس میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کو ساتھ ساتھ ہی آگے بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہيں اور ریسرچرز نے صنعتی روبوٹس میں مشین لرننگ کو بھی بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ کچھ خاص کامیاب نہيں ہوسکا ہے۔

تاہم، چھ سال قبل، ریسرچرز مصنوعی ذہانت کے ایک گھسے پٹے پہلو میں نئی جان پھونکنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ سائنسدان انسانی دماغ کے نیورونز اور سائنپسز کے نئے تجربات سے سیکھنے کی صلاحیت کا مطالعہ کررہے تھے، جسے نیورل نیٹورکس کہا جاتا ہے، اور انہيں معلوم ہوا کہ یہ نیٹورکس اسی قسم کے پرزے استعمال کرتے ہيں جن پر ایلسی اور ایلمر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ان ریسرچرز کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر بہت بڑے، یعنی “ڈیپ” نیورل نیٹورکس کو لیبل سمیت ڈھیر سارا ڈیٹا فراہم کیا جائے، تو بہت کچھ ممکن ہوسکتا ہے۔

اس انکشاف نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب اس تکنیک کو، جسے ڈیپ لرننگ کہا جاتا ہے، ایسے کئی کاموں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس میں انسانی سمجھ بوجھ کی ضرورت ہے، جیسے کہ چہرے کی پہچان کی ٹیکنالوجی، سپیچ کی ٹیکسٹ میں تبدیلی، اور خودکار گاڑیوں کو راہگیروں اور اشاروں کی نشاندہی کرنے کی تربیت۔ اب ہمارے لیے ایک ایسے روبوٹ کا تصور بھی ممکن ہوا ہے جن میں آپ کا چہرہ پہچاننے، آپ کے ساتھ بات کرنے اور کسی کام کے لیے کچن تک جانے کی صلاحیت موجود ہے۔

مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی سے مشینوں کی ہنرمندی میں بھی اضافہ ممکن ہوگا۔ پچھلے چند سال سے ایمزان ایک “روبوٹ سے چیزيں اٹھانے” کا چیلنج منعقد کررہے ہیں، جس میں روبوٹس جتنی جلدی ممکن ہو کئی چیزیں اٹھانے کی کوشش کرتے ہيں۔ اس مقابلے میں حصہ لینے والی تمام ٹیمیں مشین لرننگ سے فائدہ اٹھارہی ہیں اور ان کے روبوٹس کی مہارت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایمزان اپنے گوداموں میں موجود اربوں اشیاء کو اٹھانے اور پیک کرنے کے عمل کو آٹومیٹ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہيں۔

کین گولڈ برگ (Ken Goldberg) جو یوسی برکلی میں ابیل کے ساتھ کام کرتے ہيں، کہتے ہيں “میں پینتیس سال سے روبوٹس کی چیزیں اٹھانے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہا ہوں، لیکن مجھے کچھ خاص پیش رفت نظر نہيں آئی ہے۔” لیکن مصنوعی ذہانت کی وجہ سے صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔ وہ بتاتے ہيں “اب ہم بہت آگے جاسکتے ہيں۔”

مصنوعی ذہانت کے لیے ہارڈویئر تیار کیا جارہا ہے
نیویارک کے علاقے نوہو میں مصنوعی ذہانت کے نامور ماہر یین لے کن (Yann LeCun) اس شعبے کی اگلی اہم دریافت کی کھوج میں ہیں، اور ان کے خیال میں اس میں روبوٹس بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہيں۔

لے کن کا ڈیپ لرننگ کے انقلاب میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔ 1980ء کی دہائی میں جب ریسرچرز نیورل نیٹورکس کو ناقابل عمل سمجھتے تھے، لے کن نے ان کی ایک نہ سنی۔ وہ جنوری تک فیس بک کے مصنوعی ذہانت کے ریسرچ کے ہیڈ کی حیثیت سے کام کررہے تھے، اور اب وہ اسی کمپنی میں چیف مصنوعی ذہانت کے سائنسدان ہیں، اور انہوں نے ایسے ڈیپ لرننگ کے الگارتھمز تیار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے جن کے ذریعے کسی بھی تصویر میں صارفین کی شناخت ممکن ہے۔

لے کن کے خیال میں مصنوعی ذہانت کے لیے صرف دیکھنا اور سننا کافی نہيں ہے۔ وہ چاہتے ہيں کہ یہ خود سے سوچے اور اپنے فیصلے خود کرے، اور ان کے خیال میں یہ صرف ہارڈویئر کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ انسانی ذہانت میں اپنے اطراف کی دنیا کے ساتھ انٹریکٹ کرنا ضروری ہے، اور انسانی بچے چیزوں سے کھیل کر ہی سیکھتے ہيں، لہذا چیزیں پکڑنے والی مشینوں کے لیے بھی یہی ممکن ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہيں “مصنوعی ذہانت ميں جو سب سے زیادہ دلچسپ کام ہورہا ہے، اس میں روبوٹس ہی استعمال ہورہے ہيں۔”

ہوسکتا ہے کہ مشینوں کی ذہانت میں بھی اسی طرح اضافہ ہو جس طرح انسانی ذہانت میں اضافہ ہوا تھا۔ انسانی ہنرمندی اور ذہانت میں اسی وقت اضافہ ہونا شروع ہوا تھا جب انسانوں نے سیدھے کھڑے ہو ار اپنے دونوں ہاتھوں سے چیزوں کا معائنہ اور استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ ان کے ذہن بڑے ہوئے اور ان کے لئے زیادہ بہتر اوزار بنانا، زیادہ پیچیدہ زبان استعمال کرنا اور سوشل گروپس بنانا ممکن ہوا تھا۔

کیا مصنوعی ذہانت میں اسی قسم کا انقلاب مکمن ہے؟ اب تک تو یہ صرف کمپیوٹرز میں ہی ویڈیو گیمز اور ساکن تصویروں سے انٹرایکٹ کرنے سے آگے نہيں بڑھ پائی ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ حقیق دنیا کو سمجھنے، اس کے ساتھ کام کرنے والے اور اس کے بارے میں مزید سیکھنے والے مصنوعی ذہانت کے پروگرام سوچنے اور رابطہ کرنے میں بہتر ثابت ہوں۔ ابیل کہتے ہیں “اگر آپ پوری طرح مینی پولیشن کا مسئلہ حل کرلیں تو آپ کے سامنے ایک ایسی چیز آئے گی جس کی ذہانت انسانوں سے کافی ملتی جلتی ہوگی۔”

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں