12

بگ ڈیٹاکے ذریعے بیماریوں پر کنٹرول ممکن ہے

جو لوگ بگ ڈیٹا میں انقلابی امکانات کو ڈھونڈتے ہیں ان کیلئے گوگل فلو ٹرینڈ(Google Flu Trend)کی ویب سائٹ پر دیا گیا ڈیٹا ایک مثال ہے۔ گوگل فلو ٹرینڈ نے 2008ء میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ فلو کی سرچز کو شمار کرکے بیماری کو کنٹرول کرنے اور بچاؤ کے مراکز کو ایک ہفتہ قبل فلو کے پھیلنے کی پیش گوئی کر سکتاہے۔ میں اور میرے ساتھیوں نے حال ہی میں تجربہ کرکے دکھایا ہے کہ واقعی بیماریوں کی روک تھام کیلئے گوگل کے آلات بہتراور شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اس وقت بگ ڈیٹا کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ اسی لئے ڈیوڈ لیزر کہتے ہیں کہ بگ ڈیٹا کے لالچ میں پڑ کر گمراہ ہونا بہت آسان ہے۔ اس کی مثال ڈیوڈلیزر 1948ء کےامریکی انتخابات کی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب 1948ء میں عوامی رائے شماری کے بگ ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے کی گئی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی جس کی بنیاد پر شکاگو ٹربیون نے ہیڈ لائن لگائی تھی کہ صدارتی انتخابات میں “ڈیوی نے ٹرومین کو شکست دیدی” جبکہ نتیجہ اس کے برعکس ہوا تھا۔ جب عوامی سروے میں ڈیوی کے جیتنے کی غلط پیش گوئی کی گئی تو نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ اعدادوشمار کو کمپیوٹ کرنے سے غیرمتوقع نتائج کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اب 64سال بعد ہم اعدادوشمار کے بگ ڈیٹا کو وسیع پیمانے پر کامیابی سے استعمال کررہے ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ سروے سوشل سائنس میں تحقیق کا لازمی عنصر ہیں۔ ہمیں اس کیلئے سروے کرنے والی کمپنیوں کا شکرگزار ہونا چاہئے جن کی وجہ سے یہ ممکن ہوا۔ ان کی تحقیق سے پولنگ کے طریقوں کا جائزہ لینے کیلئے سخت اور قابل اعتماد سروے کے نمونے بنائے گئے ۔ گوگل فلو ٹرینڈ کے اعدادوشمار بنیادی طور پر درست ہیں کیونکہ ان کے پاس اس وقت فرد کی نقل و حرکت، طرز عمل اور اس کی بات چیت کے بارے میں تفصیلی معلومات موجود ہیں۔ ان معلومات اور اعدادوشمار کا درست طریقے سے استعمال نئی سوشل سائنس کا نقطہ آغاز ہو سکتا ہے جو دنیا کی فلاح کیلئے کام کرسکتی ہے۔ دیگر مسائل کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ گوگل نے یہ ازخود تصور کرلیا ہے کہ جن علاقوں میں فلو کی گوگل پر سرچز کی جاتی ہیں ان ہی میں فلو پھیلا ہو اہے جبکہ اب سرچ ٹیکنالوجی میں خاصی تبدیلیاں ہو چکی ہیں اور لوگ اسے مختلف طریقوں سے استعمال کررہے ہیں۔ اس سے ہمیں ایک سبق یہ ملا کہ سروے کے طریقوں اور ڈیٹا کو مزید کھلا ہونا چاہئے۔ اگر گوگل فلو کی ایپلی کیشن کے نتائج مزید شفاف ہو جاتے ہیں تو محققین کیلئے یہ واضح اشارہ ہے کہ وہ خام ڈیٹا سے مطلوبہ معلومات اخذ کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود سالہا سال اس آلے کے درست نتائج کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ جس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں سکالرز کیلئے ملکیتی ڈیٹا استعمال کرنے کے طریقے وضع کرنے کے ضرورت ہے جس میں لوگوں کے پرائیویسی حقوق کا احترام کیا جائے۔ لہذااب ضروت اس بات کی ہے کہ بگ ڈیٹا کے ان ٹولز کو استعمال کرنے کیلئے کثیر شعبہ جاتی ٹیموں کو بھرتی کیا جائے۔ اگرچہ گوگل فلو رحجانات کے ساتھ بہت سے مسائل ایسے ہیں جنہیں سوشل سائنسدان پہلے سے ہی جانتے ہیں جن پرکام کرنے کی اشد ضرورت ہے

تحریر: ڈیوڈ لیزر (David Lazer)

تعارف : ڈیوڈ لیزر شمال مشرقی یونیورسٹی میں سیاسیات اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں