بغیر دیکھے خدا پر ایمان کیوں لائیں ؟ 7

بغیر دیکھے خدا پر ایمان کیوں لائیں ؟

#_بغیر_دیکھے_خدا_پر_ایمان_کیوں_لائیں؟

خدا پرستوں پر مادّہ پرستوں کا ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ “انسان کس طرح ایک ایسی چیز پر ایمان لے آئے جس کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو یا اپنے حواس سے درک نہ کیا ہو-تم کہتے ہوکہ خدا کا نہ جسم ہے اور نہ اس کے رہنے کی کوئی جگہ ، نہ زمان درکار ہے اور نہ کوئی رنگ و بو وغیرہ تو ایسے وجود کو کس طرح درک کیا جاسکتا ہے اور کس ذریعہ سے پہچانا جاسکتا ہے؟ لہٰذا ہم تو صرف اسی چیز پر ایمان لاسکتے ہیں کہ جس کو اپنے حواس کے ذریعہ درک کرسکیں اور جس چیز کو ہماری عقل درک نہ کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ درحقیقت اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے-”

جواب: اس اعتراض کے جواب میں مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی جاسکتی ہے-

۱-وہ اسباب جن کی وجہ سے مادّہ پرست خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے:-
ان کا علمی غرور اور ان کا تمام حقائق پر سائنس کو فوقیت دینا اور اسی طرح ہر چیز کو سمجھنے اور پرکھنے کا معیار صرف اور صرف تجربہ اور مشاہدہ قراردینا ہے-اور اس بات کا قائل ہونا ہے کہ طبیعی اور مادّی اشیاء کے ذریعے ہی کسی چیز کو درک کیا جاسکتا ہے-[یہ ان کی سخت بھول ہے]
کیونکہ ہم اس مقام پر ان لوگوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ سائنس کے سمجھنے اور پرکھنے کی کوئی حد ہے یا نہیں؟
واضح بات ہے کہ اس کاجواب مثبت میں ہے کیونکہ سائنس کی حدود دوسری موجودات یا علوم کی طرح محدود ہیں- توپھر کس طرح لامحدود موجود کو طبیعی چیزوں سے درک کیا جاسکتا ہے؟

لہٰذا بنیادی طور پر خداوندِعالم اور موجوداتِ ماورائے طبیعت، سائنس کی رسائی سے باہر ہیں اور جو چیزیں ماورائے طبیعت ہوں ان کو سائنس کے ذریعہ درک کیا ہی نہیں جاسکتا جیسا کہ خود سائنس کے مختلف شعبوں میں سے ہر شعبہ ، اشیاء کو پرکھنے کے لئے ایک الگ میزان و میقاس رکھتا ہے جس سے دوسرے شعبہ میں کام نہیں لیا جاسکتا،نجوم شناسی، فضاشناسی، اور جراثیم شناسی میں ریسرچ کے اسباب ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں-
کبھی بھی مادّی ماہر اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ ایک نجوم کے ماہر سے کہا جائے کہ فلاں جرثومے کو ستارہ شناسی کے وسائل سے ثابت کرو، یا کسی جراثیم کو پرکھنے کے ماہر سے اس بات کی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے آلات کے ذریعے ستاروں کے بارے میں خبر دے، کیونکہ ہر شخص اپنے علم کے لحاظ سے اپنے دائرے میں رہ کرکام کرسکتا ہے اور اپنے دائرے سے باہر نکل کر کسی چیز کے بارے میں “اقرار” یا “انکار” کا نظریہ نہیں دے سکتا-

لہٰذا ہم کس طرح سائنس کو اس بات کا حق دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے دائرے سے باہر بحث و گفتگو کرے حالانکہ اس کے دائرے کی حد ، طبیعت کی دنیا اور اس کے آثاروخواص ہیں؟
ایک مادی ماہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں “مارورائے طبیعت” کے سلسلے میں خاموش ہوں کیونکہ یہ میرے دائرے سے باہر کی بات ہے ، نہ یہ کہ وہ ماورائے طبیعت کا انکار کرڈالے- یہ حق اس کو نہیں دیا جاسکتا-اور یہ طریقہ علمی بھی نہیں ہے-

جیسا کہ اصولِ فلسفہ حسّی کا بانی “اگسٹ کانٹ” اپنی کتاب [Words about sensory philosophy] میں کہتا ہے کہ “چونکہ ہم موجودات کے آغازوانجام سے بے خبرہیں لہٰذا اپنے زمانے سے پہلے یا اپنے زمانے کے بعد آنے والی موجودات کا انکار نہیں کرسکتے جس طرح سے ہم ان کو ثابت نہیں کرسکتے اسی طرح ہم ان کا انکار بھی نہیں کرسکتے-”
خلاصہ یہ ہے کہ حسی فلسفہ ، جہل مطلق کی طرح کوئی نظریہ نہیں دیتا بلکہ اس میں یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ آج جو کچھ ثابت ہوچکا ہے کل غلط بھی ہوسکتا ہے یعنی انسان کو ایک شک کی کیفیت میں رکھتا ہے-لہٰذا ہم کس طرح حسی فلسفے کے فرعی علوم کو بھی موجودات کے آغازوانجام کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق دے سکتے ہیں؟ یعنی مادّہ پرستوں کو چاہئے کہ وہ خدا کے علم وحکمت ، اور اس کے وجود کا انکار نہ کریں اور اس کے بارےمیں نفی و اثبات کے سلسلے میں غیرجانبداررہیں-نہ یہ کہ انکار کرکے جانبداری کا مظاہرہ کریں-

ہمارے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ماورائے طبیعت دنیا کو سائنس کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاسکتا اصولی طور پر وہ خدا کہ جسے مادّی اسباب کے ذریعے تجربے سے گذاردیا جائے وہ خدا ہو ہی نہیں سکتا-
دنیا بھر کے خداپرستوں کے عقائد کے بنیاد یہ ہے کہ خدا، مادّہ اور مادّے کی خاصیت سے پاک ہے اور اسے کسی بھی مادّی وسیلے سے سمجھا نہیں جاسکتا-
لہٰذا یہ سوچنا نہیں چاہئے کہ اس دنیا کو خلق کرنے والے کو آسمان کی گہرائیوں میں مائیکرواسکوپ یا ٹیلی اسکوپ کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ خیال بچکانہ اور بیہودہ ہے-

۲-خدا کے ہونے کی نشانیاں:-
دنیا کی ہر چیز کی پہچان کے لئے کچھ آثار اور نشانیاں ہوتیں ہیں لہٰذا اس کی نشانیوں کے ذریعہ ہی کسی بھی چیز کو پہچانا جاتا ہے-یہاں تک کہ آنکھوں اور دوسرے حواس سے جن چیزوں کو ہم درک کرتے ہیں درحقیقت ان کو بھی ہم آثار اور نشانیوں کے ذریعے ہی پہچانتے ہیں-کیونکہ کوئی بھی چیز حقیقت میں ہمارے فکروخیال میں داخل ہوہی نہیں سکتی اور نہ ہی ہمارا ذہن کسی بھی حقیقی شئے کے لئے ظرف واقع ہوسکتا ہے-

مثال کے طور پر اگر آپ اپنی آنکھوں سے کسی جسم کو سمجھنا چاہیں تو شروع میں آپ اس جسم کی طرف دیکھیں گے اس کے بعد نور کی شعاعيں اس جسم پر پڑیں گی اور آنکھ کی پُتلی کے ذریعے جب نورکی یہ لہریں آنکھ کے پردے پر منعکس ہوتیں ہیں تو بینائی ، اعصاب کے ذریعے اس نور کو حاصل کرکے ہمارا ذہن، اس جسم کا ایک عکس بناتا ہے جو دراصل اس جسم کا وہ اثر ہوتا ہے جسے صرف آنکھ سے ہی سمجھا یا درک کیا جاسکتا ہے—

لیکن جسم کے دیگرمعاملات میں درک حاصل کرنے کے لئے دوسرے حواس سے جسم کے آثار کو دماغ تک پہنچانا ہوتا ہے—اور اسی طرح اب وہ جسم گرم ہے یا سرد یہ معلوم کرنے کے لئے آنکھ سے دیکھنا کافی نہیں بلکہ اس جسم کو لمس کرنا ہوگا—-اسی طرح وہ آوازرکھتا ہے یا نہیں اس کے لئے کانوں کو زحمت دینا ہوگی وہ کوئی بو رکھتا ہے یا نہیں اس کے لئے ناک کو استعمال کرنا ہوگا—الغرض ہر شئے اپنا ایک خاص اثر رکھتی ہے جس کو انسان اپنے مختلف حواس کے ذریعے محسوس کرکے ان آثار کو اپنے ذہن تک پہنچاتا ہے—-یعنی ایسا ممکن ہے کہ کوئی جسم ایسا ہو جو رنگ ، بو ، ذائقہ وغیرہ نہ رکھتا ہو تو وہ کسی بھی صورت ہمارے ذہن میں آہی نہیں سکتا اور نہ ہی ہم اس شئے کے وجود کو درک کرسکتے ہیں-جس کی ایک مثال آئینہ ہے جس کو آنکھ نہیں دیکھ سکتی- اسی طرح ہمارے کان ایک مخصوص حد والی آوازکو سن سکتے ہیں اور ہماری آنکھ ایک خاص حد کے درمیان میں آنے والے رنگوں کو دیکھ سکتی ہے-

مزید یہ کہ کسی بھی شئے کی پہچان کے لئے ایک اثر یا ایک نشانی ہونا کافی ہے- یعنی اگر ہمیں معلوم کرنا ہو کہ دس ہزار سال پہلے زمین کے فلاں حصّے میں ایک آبادی تھی اور اس کے حالات کس طرح کے تھے تو وہاں سے صرف ایک مٹی کا کوزہ یا زنگ آلود لوہے کا نکل آنا کافی ہوگا-اور محض اسی ایک چیز سے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ وہاں موجود لوگ کس طرح کا رہن سہن رکھتے تھے–کوئی یہ نہیں کہے گا کہ ایک کوزے یا لوہے سے کس طرح پتہ چلا کہ یہ قوم وجود بھی رکھتی تھی یا نہیں——-بلکہ بعض اوقات تو ایک دانت ملا اور اس ایک دانت سے ایک پورے انسان کو تشکیل دے دیا گیا کہ یہ دانت اس طرح کے ایک انسان کا ہے——

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو پہچاننے کے لئے فقط ایک اثر پر کفایت کرلیتے ہیں-ایک مٹی کا کوزہ ، چند ہزار سال پہلے کی زندگی بسر کرنے والوں کے بعض حالات کا پتہ لگانے کے لئے کافی ہے جبکہ خدا———–خدا کی شناخت کے لئے تو ہمارے پاس لاتعداد آثار، لاتعداد موجودات اور اس کائنات کا مستحکم طبیعاتی نظام جو چھوٹے اجسام میں الگ اور بڑے اجسام الگ ہے ، جیسی چیزیں موجود ہیں کیا اتنے آثار کافی نہیں ہیں- کائنات کے کسی بھی گوشے پر نظر ڈالیں ، خدا کی قدرت اور اس کے علم کی نشانیاں ہر جگہ موجود ہیں پھربھی لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے خدا نہیں دیکھا اوراپنے کانوں سے خدا کو نہیں سُنا تجربہ اور ٹیلی اسکوپ کے ذریعے نہیں دیکھ پائے لہٰذا ہم خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن———

اگرہرچیز کو آنکھوں سے دیکھ کر ہی یقین کیا جاتا ہے تو—-
۱-بگ بینگ کو کس نے دیکھا ہے؟
۲-ایک سمندری مخلوق کو انسان بنتے کس نے دیکھا ہے؟
۳-ڈائناسار کو زندگی گذارتے کس نے دیکھا ہے؟
کیا یہ مادّہ پرستوں کی بددیانتی نہیں ہے کہ وہ بگ بینگ کو بغیر دیکھے مانتے ہیں -جانور سے انسان بننے کا ارتقاء ، بغیر دیکھے مانتے ہیں مگر خدا جو اپنے پوری قوت و طاقت کے ساتھ جلوہ گر ہے جو ہر لمحے اپنے آثار ہم تک پہنچارہا ہے اس کے وجود کو آنکھوں سے دیکھے بغیر اور تجربے میں لائے بغیر ماننے کو تیار نہیں ہیں؟———

تحریر
منظرزیدی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں