6

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.. قسط 67

#سیرت_النبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم..

قسط نمبر 67

حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد قریش کو کس کا پاس تھا.. اب وہ نہایت بے رحمی اور بے باکی سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ستانے لگے.. اہل مکہ سے مایوس ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر 27 شوال 10 نبوت (619ء) پاپیادہ طائف روانہ ہوئے جو مکہ سے تقریباََ 50 میل کے فاصلہ پر بجانب مشرق ایک پہاڑی علاقہ اور سر سبز و شاداب مقام ہے..

وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام دس روز رہا.. بعض نے بیس روز اور ایک مہینہ بھی لکھا ہے.. اس زمانہ میں طائف بنو ثقیف کے قبضہ میں تھا.. مکہ کے سرداروں کے وہاں باغات تھے.. وہ لات کے پرستار تھے اور اسے خدا کی بیٹی مانتے تھے.. ان دنوں عمرو بن عمیر بن عوف کے تین لڑکے عبد یالیل , مسعود اور حبیب بنی ثقیف کے سردار تھے.. ان میں سے ایک کی بیوی صفیہ بنت معّمر تھی جس کا تعلق قریش کے قبیلہ بنی جمح سے تھا.. چونکہ بنی سعد کا قبیلہ طائف کے قریب تھا اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایام رضاعت گذارے تھے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل طائف سے خیر کی امید تھی.. چنانچہ طائف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستہ کے تمام قبائل میں اسلام کی تبلیغ کرتے رہے..

طائف میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا تینوں سرداروں سے ملاقات کی اور انھیں اسلام کی دعوت دی اور اپنی مدد کی درخواست کی لیکن ان تینوں نے نہایت گستاخانہ جواب دیا.. ایک نے کہا.. “تمہارے سوا اللہ کو اور کوئی نہ ملا جسے نبی بناتا..؟” دوسرے نے کہا.. “کعبۃ اللہ کی اس سے بڑی اور کیا توہین ہوگی کہ تم سا شخص پیغمبر ہو..” تیسرا بولا.. “میں تم سے ہرگز بات نہ کروں گا.. اگر تم سچے ہو تو تم سے گفتگو خلافِ ادب ہے اور اگر جھوٹے ہو تو گفتگو کے قابل نہیں..”

ان بدبختوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور طائف کے بازاریوں اور اوباشوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے لگا دیا کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں.. چنانچہ انھوں نے راستہ سے گذرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پتھر مارنے شروع کردئے.. حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ان پتھروں کے لئے سپر بن جاتے.. یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم لہو لہان ہوگیا اور آپ کی جوتیاں خون سے بھر گئیں.. جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زخموں سے چور ہوکر بیٹھ جاتے تو بازو تھام کر کھڑا کردیتے اور پھر آپ جب چلنے لگتے تو پتھر برساتے.. ساتھ ساتھ گالیاں دیتے اور تالیاں بجاتے.. پتھروں کے برسانے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت چوٹیں آئیں اور آپ زخموں سے بے ہوش ہوکر گر پڑے..

حضرت زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر آبادی سے باہر لے آئے.. (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر بٹھانے کی سعادت سب سے پہلے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی.. بعد میں سفرِ ہجرت کے دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر بٹھایا.. جنگ اُحد میں زخمی ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چٹان پر چڑھنا چاہا لیکن زخموں کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے.. اس وقت حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بن عبیداللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر اٹھایا تھا) اس کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ نے پانی سے زخموں کو دھویا اور آپ کچھ افاقہ محسوس کرنے لگے تو زبان ِ مبارک سے دعا نکلی.. “اے اللہ ! میں اپنی کمزوری اور بے بسی کی تجھ سے شکایت کرتا ہوں.. اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں..”

اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل پڑے اور کچھ دور جانے کے بعد آپ نے نظر اُٹھائی تو ایک ابر سایہ کئے ہوئے دکھائی دیا.. اس میں سے حضرت جبریل علیہ السلام نے آواز دی.. “اللہ نے وہ سب کچھ سن لیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم نے آپ سے کہا ہے.. اس وقت پہاڑوں کا فرشتہ آپ کے سامنے حاضر ہے.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں تو انھیں دونوں پہاڑوں کے درمیان کچل کر رکھ دوں..”

لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا.. “نہیں.. مجھے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو اس کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں گے..”

صحیحین کی حدیث ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ جنگ احد کے دن سے (جس دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہو گئے تھے اور خود کی کڑیاں چہرے مبارک میں چبھ گئی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خندق میں گر گئے تھے) کبھی زیادہ تکلیف آپ کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا.. “ہاں ! اس دن جس دن میں نے عبدیالیل پر اسلام پیش کرکے اس کی دعوت دی تھی اور اس نے رد کردی تھی.. جب وہاں سے پلٹے تو قرن ثعارب تک ( یہ مکہ اور طائف کے درمیا ن ایک پہاڑ کا نام ہے) بے ہوشی کے عالم میں آئے.. احد کے دن سے زیادہ تکلیف مجھ کو اس روز پہنچی تھی.. آخر میں آپ شہر سے دور ایک باغ میں انگور کی بیل کے نیچے جاکر ٹھہرے جو رئیس مکہ ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کا تھا جو باوجود کفر کے شریف الطبع اور نیک نفس تھے..

اس باغ میں بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی جو “دعائے مستضعفین” کے نام سے مشہور ہے.. اس دعا کے ایک ایک فقرہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ طائف کے لوگوں نے آپ سے جو بدسلوکی کی اور کوئی بھی ایمان نہ لایا اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس قدر مغموم اور رنجیدہ تھے.. آپ نے فرمایا..

“پروردگار ! میں تجھ ہی سے اپنی کمزوری و بے بسی اور لوگوں کے نزدیک اپنی بے قدری کا شکوہ کرتا ہوں.. یا ارحم الراحمین ! تو کمزوروں کا رب ہے اور تو ہی میرا رب ہے.. تو مجھے کس کے حوالہ کر رہا ہے..؟ کیا کسی بی گانہ کے جو میرے ساتھ تندی سے پیش آئے یا کسی دشمن کے جس کو تو نے میرے معاملہ کا مالک بنا دیا ہے..؟ اگر مجھ پر تیرا غضب نہیں ہے تو مجھے کوئی پرواہ نہیں لیکن تیری عافیت میرے لئے زیادہ کشادہ ہے.. میں تیرے چہرہ کے اس نور کی پناہ چاہتاہوں جس سے تاریکیاں روشن ہوگئیں اور جس پر دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوئے کہ تو مجھ پر اپنا غضب نازل کرے یا تیرا عتاب مجھ پر وارد ہو.. تیری رضا مطلوب ہے , یہاں تک کہ تو خوش ہوجائے.. اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں..”

جب عتبہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا تو اپنے غلام کے ذریعہ جس کا نام “عدّاس” تھا , ایک انگور کا خوشہ آپ کے پاس بھجوایا.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر اپنے منہ میں رکھا.. عدّاس (رضی اللہ عنہ) حیرت سے آپ کی صورت دیکھنے لگا اور خیال کیا کہ یہ تو ایسی بات ہے جو کافرانہ شعار سے جدا ہے.. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا.. “تم کہاں کے ہو اور تمھارا دین کیا ہے..؟” اس نے کہا کہ وہ عیسائی ہے اور نینویٰ کا رہنے والا ہے.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا.. “کیا تم اس صالح انسان کی بستی کے ہو جن کا نام یونس (علیہ السلام) بن متی تھا..”

عدّاس (رضی اللہ عنہ) نے پوچھا.. “آپ کس طرح انھیں جانتے ہیں..؟” حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا.. “وہ میرے بھائی ہیں.. وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں..” عدّاس (رضی اللہ عنہ) نے آپ کا نام پوچھا تو آپ نے فرمایا.. “محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)”

تب عدّاس (رضی اللہ عنہ) نے کہا.. “میں نے توریت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسمِ مبارک دیکھا ہے اور آپ کے اوصاف بھی پڑھے ہیں..” پھر اس نے کہا.. “اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل ِمکہ میں مبعوث فرمائے گا اور اہلِ مکہ آپ کی اطاعت سے انکار کریں گے لیکن آخر میں فتح آپ ہی کی ہوگی اور یہ دین تمام دنیا میں پھیل جائے گا..”اس کے بعد اس نے کہا.. “میں ایک عرصہ سے یہاں آپ کے انتظار میں ہوں.. مجھے اسلام کی تعلیم دیجئے..” آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسلام پیش فرمانے پر وہ فوری مسلمان ہوگیا اور جھک کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر , ہاتھ اور پاؤں چومنے لگا..

واپس آکر اس نے کہا.. “انھوں نے مجھے ایسی بات بتائی جسے نبی کے سوا کوئی دوسرا نہیں جانتا..” عتبہ اور شیبہ نے کہا.. “کمبخت کہیں وہ تجھے تیرے دین سے برگشتہ نہ کردے.. تیرا دین تو اس کے دین سے بہتر ہے..”

طائف کے سفر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین قسم کے لوگوں سے سابقہ پڑا.. پہلے سردار بنو ثقیف کے تین بیٹوں عبد یالیل , مسعود اور حبیب نے نہ صرف یہ کہ اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اوباشوں کے ذریعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سنگ باری کروائی.. دوسرے رئیس مکہ کے بیٹے عتبہ اور شیبہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پریشانی کے عالم میں دیکھا تو اپنے باغ میں انگور کھانے کے لئے بھیجے.. تیسرے شخص عدّاس رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے نہ صرف حق کو پہچانا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی اور آپ پر ایمان لائے..

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں